BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 November, 2008, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیر ملکی سامنے آ جائیں‘
تاج کے باہر موجود غیرملکی
ممبئی پر حملے کا نشانہ غیر ملکی بھی تھے
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ممبئی پر حملہ ہوا ہو اور یہ بھی پہلی مرتبہ نہیں کہ درجنوں لوگ ان حملوں کی بھینٹ چڑھے ہوں لیکن یہ شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ماضی میں مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے بم نصب کرنے کی بجائے اسلحے سے لیس حملہ آور ممبئی کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں آئے ہوں اور آ کے کہا ہو کہ ہوٹل میں موجود جو بھی برطانوی یا امریکی پاسپورٹ رکھتے ہیں وہ سامنے آ جائیں۔

بدھ کی رات سے ممبئی کے ہوٹلوں، ریلوے سٹیشن اور دیگر مقامات جن میں ہسپتال بھی شامل ہیں، پر ہونے والے حملوں میں کم از کم ایک سو ایک افراد ہلاک اور تین سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

ابھی تک اس بات کی حتمی تصدیق تو نہیں ہو سکی کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں کتنے غیر ملکی ہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد چھ ہے۔ جرمنی نے اپنے ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اسی طرح ایک جاپانی اور ایک اطالوی شہری کی بھی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ حملے کے وقت ہوٹلوں میں موجود غیر ملکیوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ حملہ آووروں کا نشانہ غیر ملکی بھی تھے۔

ایک صحافی ایلکس چیمبرلین نے سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے سب سے کہا کہ رک جائیں، ہاتھ اوپر کر لیں اور اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ یہاں کون کون برطانوی یا امریکی شہری ہیں۔ میری دوست نے مجھے کہا کہ ہیرو بننے کی کوشش نہ کرنا۔ یہ نہ کہنا کہ تم برطانوی ہو۔‘

ایک برطانوی شہری سجاد کریم جو کہ یورپی پارلیمان کے رکن بھی ہیں حملے کے وقت تاج ہوٹل میں مقیم تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جان بچانے کے لیے لابی سے بھاگ گئے۔

انہوں نے کہا: ہمارا ’تقریباً سترہ یا اٹھارہ افراد کا گروہ وہاں موجود تھا کہ ایک گن مین وہاں آ گیا، اس کے ہاتھ میں ایک آٹومیٹک مشین گن کی طرح کا کوئی ہتھیار تھا۔ اس نے اسے سیدھے ہماری طرف کر لیا اور فائرنگ شروع کر دی۔‘

’میرے آگے اور ساتھ والے لوگ گرنا شروع ہو گئے اور ہم تین چار لوگ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ سب کچھ بڑی تیزی سے ہوا۔‘

تاج کے ہی ایک ریسٹورانٹ میں موجود برطانوی تاجر راکیش پٹیل نے کہا بتایا کہ ’وہ برطانوی اور امریکی پاسپورٹ والوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ میرے خیال میں ان کا نشانہ غیر ملکی تھے۔‘

اس طرح بی بی سی کے نامہ نگار راہول ٹنڈون کی ممبئی کے لیوپولڈ بار کے باہر کھڑے ایک شخص جمال سے ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ جمال سکیورٹی کے خدشات کے پیشِ نظر عراق سے بھاگ کر انڈیا آئے تھے۔ جمال نے کہا کہ انہوں نے اس طرح کے مناظر پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ انہوں نے اپنے سامنے لوگ ہلاک ہوتے دیکھے۔

جمال کا کہنا تھا: ’دو شخص بڑے اطمینان سے اس لین میں آئے اور دائیں طرف چلے گئے، تاج کی طرف۔ وہ اس طرح تھے کہ جیسے پکنک پر آئے ہیں، بہت ہی پرسکون۔ اب میں جو کچھ بھی رات کو ہوا اس کی وجہ سے بہت صدمے میں ہوں۔ میں اس جگہ کتنا غیر محفوظ محسوس کر رہا ہوں۔‘

اسی طرح کا خوف جنوبی افریقہ سے آئی نسرین شاہ پر بھی طاری ہے۔انہیں یقین نہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ وہ سامان باندھے جلد از جلد پہلی پرواز سے واپس جنوبی افریقہ جانا چاہتی ہیں۔

’اگر ہم پانچ منٹ پہلے وہاں پہنچتے تو ہم اس فائرنگ کی زد میں ہوتے۔ ایک عورت جو یہاں لائی گئی وہ خون میں لت پت تھی۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ صحیح سلامت ہیں۔‘

جمال ’عراق سے زیادہ ڈر‘
غیر ملکی سیاحوں میں خوف و ہراس
ممبئی حملے
شہر سے تازہ ترین تصاویر
آنکھوں دیکھا حال
’ٹکٹ لینے گیا تھا کے فائرنگ شروع ہو گئی‘
دنیابھر سے مذمت
ممبئی حملوں کی کئی ممالک نے مذمت کی
پیچھے کون، مقصد کیا
حملوں کیوں کیئے گئے ابھی واضح نہیں ہے
ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد