تاج ہوٹل سے ’یرغمالی رہا‘، کارروائی جاری، مرنے والوں کی تعداد 101 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں بدھ کی رات کے حملوں کے بعد تاج اور اوبیرائے ہوٹلوں سمیت تین مقامات پر اب بھی جنگ کا سماع ہے۔ ہوٹلوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے کمانڈوز کی کارروائی جاری ہے اور اسی دوران گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ان حملوں میں اب تک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور 287 سے زیادہ زخمی ہیں۔ مرنے والوں میں تین اعلی افسران سمیت چودہ پولیس والے، نو غیرملکی اور پانچ حملہ آور شامل ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے قوم سے خظاب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ان حملوں کا منصوبہ بنایا ان کے ٹھکانے ’ملک سے باہر‘ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ان ’ہمسایہ‘ ممالک کو بھی متنبہ کیا جو ہندوستان مخالف عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔ مہارشٹر کے پولیس سربراہ اے این رائے نے صحافیوں کو بتایا کہ ’تاج ہوٹل میں جن لوگوں کو یرغمالی بنایا گیا تھا، انہیں رہا کرا لیا گیا ہے۔ لیکن کمروں میں ابھی ہوٹل کے مہمان موجود ہیں اور ہمیں ان کی تعداد نہیں معلوم۔‘ ریاست مہارشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے مطابق حملوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً سو ہے۔ درجنوں افراد ابھی بھی حملہ آوروں کے قبضے میں ہیں۔ حملوں کی ذمہ داری دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی ہے جس کا نام پہلے نہیں سنا گیا ہے۔ کینیڈا کے ایک سفارتکار نے ممبئی میں موجود نامہ نگار صلاح الدین کو بتایا کہ یرغمالیوں میں ان کےملک کے بہت سے شہری شامل ہیں۔ ہوٹل اوبرائے کی تہرویں منزل پر بہت سے لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور کھڑکیوں سے ہاتھ ہلاکر اپنی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔ مسٹر پاٹل کے مطابق حملہ آوروں کے بارے میں ’سب پتہ چل گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ سب کے سب سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔ پولیس نے ایک کشتی کو قبضہ میں لے کر اس کی تلاشی شروع کر دی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہوسکتاہے، مسٹر پاٹل نے کہا کہ فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق تاج ہوٹل میں بدھ کی رات گئے دستی بم کے پھٹنے سے لگنے والی آگ جمعرات کی صبح پھر اچانک بھڑک اٹھی اور ہوٹل کی عمارت سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح ممبئی کے کاروباری علاقے میں مسلح افراد نے ایک اور سرکاری دفتر میں گھس کر لوگوں کو یرغمال بنالیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس کارروائی میں کم از کم پانچ مسلح افراد ملوث ہیں۔ تاج ہوٹل، جہاں پر چھپے دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے دستوں میں فائرنگ کا تبادلہ تمام رات جاری رہا، جمعرات کی صبح (این ایس جی) نیشل سیکیورٹی گارڈز کے خصوصی دستوں کو چار ٹرکوں سے اترتے دیکھا گیا۔ گزشہ رات نامعلوم دہشت گردوں نے شہرمیں سات مختلف مقامات پر حملے کیئے تھے جن میں تاج اور اوبیرائے ہوٹلوں کے علاوہ ایک ریلوے سٹیشن اور ایک ہسپتال بھی شامل ہیں۔ ہوٹل اوبیرائے کے باہر موجود بی بی سی کی نمائندہ ریحانہ بستی والا نے بتایا کہ سرعی الحرکت فورس یا ریپڈ ایکشن فورس اور سٹیٹ ریزور پولیس کے دستے بڑی تعداد میں ہوٹلوں کے اطراف پھیلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تاج ہوٹل کے باہر ایمبولینسیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پولیس اور نیم فوجی دستے ہوٹل کی طرف کسی کو جانے کا اجازت نہیں دے رہے ہیں جہاں پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ ساری رات سے جاری ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اطلاع دی ہے کہ پولیس اہلکار لاؤڈ سپیکروں پر تاج ہوٹل کے اردگرد کے علاقوں میں کرفیو کا اعلان کر رہے ہیں۔ اے ایف پی ہی نے ایک اور خبر میں کہا ہے کہ مسلح دہشت گردوں نے ایک یہودی رباعی اور ان کی فیملی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ تاج ہوٹل سے گزشتہ رات پولیس کچھ لوگوں کو بچا کرنکالنے میں کامیاب ہو گئی تھی لیکن تاحال دہشت گردوں نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن ان کی تعداد کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بدھ کی رات کو مقامی وقت کے مطابق دس بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے دستی بموں اور کلاشنکوف سے شہر میں سات جگہوں پر حملہ کیا تھا۔
مسلح نوجوانوں نے چھترپتی شیواجی ٹرمنس ریلوے سٹیشن، کاما ہسپتال، میٹرو تھیئٹر کے پاس ، تاج محل ہوٹل ، اوبیرائے ہوٹل ، مچھگاؤں اور ولے پارلے پر حملے کیئے۔ مہاراشٹر کے وزیراعلی ولاس راؤ دیشمکھ اور ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ہنگامی طور پر طلب کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حملہ آور سمندری راستے سے بوٹ کے ذریعہ شہر میں داخل ہوئے۔ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ کمانڈو آپریشن کے بعد نو مشتبہ دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔آر آر پاٹل نے اس حملہ کو ملک پر حملہ قرار دیا۔ پاٹل کے مطابق ممبئی پر اس طرح کے حملہ کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ ایک عینی شاہد سلام قاضی نے بتایا کہ وہ مچھگاؤں سے گزر رہے تھے کہ ایک چلتی ہوئی ٹیکسی میں زور دار دھماکہ ہوا اور ٹیکسی کے پرخچے اڑ گئے۔ تاج اور اوبیرائے ہوٹل شہر کے اہم علاقوں میں واقع ہیں۔ اوبیرائےہوٹل کے قریب ہی ایئر انڈیا کا صدر دفتر ہے اور انڈین ایکسپریس کا ٹاور بھی۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||