BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 November, 2008, 19:45 GMT 00:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی فائرنگ، عینی شاہدین کیا کہتے ہیں
کئی علاقوں سے فائرنگ کی اطلاع ہے
ممبئی میں بدھ کی رات کو نامعلوم دہشت گردوں کی طرف سے سات مختلف مقامات پر دستی بموں اور اندھ دھند فائرنگ کے عینی شاہدین کیا کہتے ہیں۔

ایلن جونز
ایلن جونز بزنس کے سلسلے میں ممبئی کے ٹرائڈنٹ ہوٹل میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ ٹرائڈنٹ ہوٹل ممبئی کے ایک اور بڑے ہوٹل، اوبیرائے کے ساتھ واقع ہے۔

ایلن جونز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم لفٹ میں اوپر جارہے تھے کہ ہم نے دھماکوں کی آواز سنی۔ اس وقت لفٹ میں موجود چار میں سے ایک جاپانی گول لگنے سے زخمی ہو گیا۔

میں نے جلدی سے لفٹ بند کرنے کا بٹن دبایا لیکن جاپانی کا پاؤں دروازے میں تھا۔ جب ہم ہوٹل کی اٹھایسویں منزل پرپہنچے تو ہمیں ہوٹل کے عملے نے ہوٹل کی عمارت کی زیر زمین منزل پر جانے کو کہا۔

اس محفوظ طے خانے میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ ایک گھنٹے بعد ہمیں ہوٹل سے نکالا گیا۔‘

ایلکس چیمبرلین

ایلکس چیمبرلین ایک برطانوی تاجر ہیں جو بزنس ہی کے سلسلے میں ممبئی میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حملے کے وقت اوبیرائے ہوٹل میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سامنے ایک مسلح شخص نے لوگوں کو اوپر جانے کو کہا۔

’مسلح شخص نے لوگوں سے پوچھا کہ ان میں کوئی امریکی یا برطانوی شہری تو نہیں۔ ایلکس نے کہا کہ ان کے دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں اسے نہ بتانا کہ تم برطانوی شہری ہو۔‘

سونور اوبیرائے
ممبئی کے رہائشی سونور اوبیرائے نے بتایا کہ وہ چتراپاٹی شیوراج ریلوے سٹشن کے پاس تھے۔ یہ ریلوے سٹشن دہشت گردوں کا حملہ بننے والی جگہوں میں شامل ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے دو بڑے دھماکوں کی آواز سنی اور ہم نے گھروں کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔‘

ہم نے ایمبولینسوں اور پولیس کی گاڑیوں کو سٹشن کی طرف جاتے دیکھا۔‘

سلی پریرا، وی ٹی سٹیشن
میں آفس بند کرنے کے بعد تقریباً دس بجے ریلوے سٹیشن پر آ رہا تھا۔ وہاں کچھ لوگوں نے دستی بم پھینکے۔ وہاں دھواں اٹھا اور بھگ دڑ مچ گی۔ دو نوجوانوں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور ایک بلیٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے تھے۔ کمر پر ایک موٹا بیگ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہوا میں گولیاں چلانی شروع کر دیں، پھر عام لوگوں پر گولیاں چلائیں۔

اس کے بعد ہم جے جے سکول آف آرٹ کے بس سٹاپ پر کھڑے تھے تو گولیاں چلنے لگیں۔

سلام قاضی، مچھگاؤں

وی ٹی سٹیشن پر فائرنگ کی خبر سننے کے بعد ہم جب تقریباً گیارہ بجے مچھگاؤں سے گزرے تو ہمارے سامنے ایک چلتی ہوئی ٹیکسی میں دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے ٹیکسی کے پراخچے ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال لےگئے۔ اس کے بعد پولیس اور فائر برگیڈ آئی۔ فی الوقت پولیس نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔

روہت ، کانسٹیبل، وی ٹی سٹیشن

میں اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر لوٹ رہا تھا لیکن ٹرین تک نہیں پہنچ پایا میں جب آیا تو پورے سٹیشن پر بھگ دڑ مچی ہوئی تھی اور گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہاں کیا ہو رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آر ہا تھا۔ میں کسی کو دیکھ نہیں پایا کہ گولی کون چلا رہا ہے، وہ پبلک کے ساتھ ہی بھیڑ ہی میں تھے۔

دِلی میں دھماکہدِلّی میں دھماکے
دِلّی میں دھماکوں کی تصاویر
دھماکے کےبعد کی تصویردلی ڈائری
دھماکوں سے نمٹنے میں خفیہ ادارے بے بس
اخباراتاحمد آباد دھماکے
سلسلہ وار دھماکوں پر انڈین اخباروں کی رائے
 بنگلور دھماکےبنگلور دھماکے
دھماکوں کا مقصد شہر میں دہشت پھیلانا تھا
ہندوستانی طیارےدِلّی ڈائری
سی بی آئی پر نکتہ چینی، امریکہ میں فضائی مشق
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد