بائیں محاذ، بی جے پی اور بی ایس پی ساتھ ساتھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بایاں محاذ اور بی جے پی ساتھ ساتھ بائيس جولائی کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے حکومت مخالف جماعتیں پوری طرح ایک ساتھ ہیں۔ بائيں محاذ نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ حکومت کے خالاف باضابطہ ووٹ ڈالیں گے۔ پارٹی کے رہنما سیتارام يچوری نے کہا’تاریخ یہ نہیں دیکھے گی کہ سفر میں ساتھ کون تھا، تاریخ یہ دیکھے گی کہ منزل پوری ہوئی یا نہیں‘۔ کمیونسٹ جماعتیں، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں اعتماد کی تحریک پر حکومت کے خلاف ووٹ دیں گی۔ اس دوران بی جے پی کی اعلی قیادت اور ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے کیمونسٹ رہنما پرکاش کارت کے موقف اور فیصلے کی ستائش کی ہے۔ جوہری معاہدے پر بائيں محاذ کی حمایت کھونے کے بعد کانگریس کی حکومت بھی اکثریت حاصل کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی جماعتیں کی حمایت حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ سی بی آئی پر نکتہ چینی
سی بی آئی نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ایک مفصل دستاویز داخل کی ہے اور کہا ہے کہ محترمہ مایاوتی کے خلاف ناجائز طریقوں سے دولت جمع کرنے کے واضح ثبوت موجود ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ سنہ 2004 میں مایاوتی نے اپنی مجموعی دولت کی جو تفصیلات پیش کی تھیں اس کے مطابق ان کے پاس اس وقت نقد، اثاثوں اور املاک کی مجموعی مالیت دو کروڑ روپے کی تھی لیکن سنہ 2007 میں وزیر اعلی بننے سے قبل ان کی ذاتی دولت کی مالیت تقریباً 52 کروڑ ہو گئی تھی۔ جب ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا گيا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ پیسے ان کی پارٹی کے کارکنوں نے انہيں چندے میں دیے ہيں لیکن چونکہ اس وقت وہ حکومت کے ساتھ تھیں اس لیے اس حوالے سے کسی نے سوال نہيں کیا۔ اب جبکہ مرکزی حکومت کے مایاوتی کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو چکی ہے اور وہ حکومت کے خلاف ووٹ کرنے والی ہيں، سی بی آئی ان کے خلاف متحرک ہوگئی ہے۔ بی جے پی اور بائیں محاذ نے کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سی بی آئي کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ان جماعتوں نے سی بی آئی پر بھی نکتہ چینی کی ہے۔ مودی نے امریکی ویزا کی درخواست نہيں دی
مودی کو دعوت کی خبر پھیلتے ہی ہندووستان اور بالخصوص امریکہ میں حقوق انسانی کی تنظیموں اور سیکولرگروپوں نے مودی کو ویزا نہ دینے کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس دوران گجرات کی بھاریتہ جنتا پارٹی کی شاخ نے یہ اعلان کیا کہ نریندر مودی نے امریکہ کے ويزا کے لیے درخواست ہی نہيں دی ہے۔ اسی طرح کی کانفرنس میں شرکت کے لیے مودی نے سنہ 2005 میں امریکی ویزے کی درخواست دی تھی لیکن امریکہ نے انہيں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کی مہم کے نتیجے میں ہی گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی ویزا کی درخواست تک نہیں دی۔ امریکہ کے ساتھ فضائی مشق
’ریڈ فلیگ‘ نامی یہ مشق بالکل اصل جنگ کی طرح مانی جاتی ہے اور یہ انتہائی سخت مشق ہے۔ اس مشق کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان برھتے ہوئے دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت تصور کیاجا رہا ہے ۔اور اس میں حصہ لینے کے لیے ہندوستان تقریباً سو کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ گزشتہ سات برس میں ہندوستان اور امریکہ کی مسلح افواج نے چھوٹی بڑی تقریبا پچاس جنگی مشقیں کی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف عوامی زنجیر ممبئی کے عوام آئندہ پندرہ اگست کو دہشت گردی کے خلاف شہر میں ایک پانچ کلومیٹر لمبی انسانی زنجیر بنائیں گے۔ اس کا اہتمام فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’سٹیزنز کاؤنسل فار اے بیٹر ٹومارو‘ نے کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس میں ہزاروں لوگ شرکت کریں گے۔ امیتابھ بچن اور عامر خان سمیت فلمی دنیا کی کئی بڑی ہستیاں بھی دہشت گردی کے خلاف اپنی آواز اٹھانے کے لیے اس دن عوام کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالےکھڑے ہونگے۔ انسانی زنجیر بنانے کے ساتھ ساتھ فلم اداکار اور دیگر بڑی ہستیاں اپنے ہاتھوں میں تختیاں لیے ہونگے جن پر لکھا ہو گا ’ممبئی میری جان‘۔ |
اسی بارے میں منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی06 July, 2008 | انڈیا پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ01 June, 2008 | انڈیا بنگلہ دیشیوں کی مصیبت اور پی ایم کے دوست25 May, 2008 | انڈیا عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||