منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناکام وزیراعظم ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں ایک بار پھر نئی سیاسی صف بندی اور سیاسی سودے بازیوں کے لیے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ جوہری معاہدے کے سوال پر کانگریس اور بائیں محاذ کے اختلاف اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ حکومت سے حمایت واپس لینے سے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس صورتحال میں وزیراعظم منموہن سنگھ کو اب ملائم سنگھ یادو اور امرسنگھ کی شکل میں نئے اتحادی ملے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ نئے اتحادی حکومت کی حمایت کے لیے اپنا حصہ مانگیں گے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ اقتصادیات کے ماہر ہیں اور ان سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ایک اہل اور باصلاحیت منتظم ثابت ہوں گے لیکن گزشتہ دو برس سے ان کی حکومت تقریباً مفلوج ہے۔ اقتصادی صورتحال یہ ہے کہ افراط زر کی شرح نے پندرہ برس کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور غریب آدمی سے لیکر متوسط طبقے تک میں نفسا نفسی کا عالم ہے۔ منموہن سنگھ کی حکومت پر پریشانی کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ذمے دار قرار دے رہی ہے۔ انتخابات قریب ہیں اور بظاہر وزیر اعظم کے ہاتھ سے ہر چیز نکلتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ بہار میں قانون کی بالادستی
ہندوستان میں جب لاقانونیت کی بات ہوتی تھی تو فوراً ہی بہار کا نام آتا تھا۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب صوبے پر لالو پرساد یادو کی حکومت تھی۔نیتش کمار کے وزیراعلی بننے کے بعد ڈھائي برس کے مختصر مدت میں صوبے کی صورتحال تیزی سے بدلی ہے۔ ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ صوبے کے بیشتر لوگ ترقیاتی کاموں، امن و قانون کی صورتحال اور نیتش کی کارکردگی کے بارے میں مثبت رویہ رکھتے ہیں۔بہار میں حکومت کے بدلنے کے بعد سب سے اہم تبدیلی امن و قانون کی سطح پر ہوئی ہے۔ بہار کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے گذشتہ دنوں جرائم سے سیاست میں آنے والے لوک جن شکتی پارٹی کے رکن پارلیمان سورج بھان سنگھ کو ایک مجرمانہ معاملے میں دوبرس سے زیادہ کی قید کی سزا سنائي۔انتخابی ضابطوں کے تحت وہ اب انتخابات لڑنے کے اہل بھی نہیں رہے۔ بہار میں گذشتہ چند مہینوں میں یہ تیسرے رکن پارلیمان ہيں جنہيں عدالتوں نے سزائیں دی ہیں۔ اس سے پہلے شہاب الدین اور پپو یادو کو سزا ملی ہے اور وہ جیل میں ہيں۔ ایک سابق رکن پارلیمان آنند موہن کو بھی حال ہی میں سزا سنائی گئی ہے جبکہ بہار کی فاسٹ ٹریک عدالتوں نے بھاگلپور کے فسادات مں درجنوں قصورواروں کو بھی سزائیں دی ہيں۔ لاقانونیت کے لیے بہار کی بار بار مثال دینے والے اترپردیش، مہاراشٹر اور گجرات جیسے صوبوں کے لیے اب بہار قانون کی بالادستی کی مثال بن رہا ہے۔ ہندوستانی ایذا رسانی کے حق میں
اقوام متحدہ کے تحت عالمی رائے عامہ کے ایک جائزہ سے پتہ چلا ہے کہ 59 فیصد ہندوستانی دہشتگردی کے مشتبہ ملزموں سے سچائی اگلوانے کے لیے اذیتیں دینے کی حمایت کرتےہیں اور صرف 28 فیصد ہندوستانی ایسے ہیں جو ریاست کے ذریعے کسی طرح کی ایذا رسانی پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے ایک سروے میں 2006 میں صرف 32 فیصد ہندوستانی مشتبہ ملزموں پر تشدد کے حق میں تھے اور ڈیڑھ برس کے عرصے میں اذیت دینے کے حامی بھارتیوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بدعنوانی میں کمی آزاد بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پوری دنیا میں بدعنوانی کی صورتحال کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں ہندوستان 180 ممالک کی فہرست میں 74 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں بدعنوانی کے حالات زیادہ برے ہیں اور وہ اس فہرست میں ایک سو چالیسویں مقام پر ہے۔ روس ایک سو پینتالیسویں درجے کے ساتھ اس سے بھی بری حالت میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں سب سے کم بدعنوان ملک بھوٹان ہے جو اس فہرست میں اکتالیسویں مقام پر ہے۔ ڈنمارک، فن لینڈ، نیوزی لینڈ، سنگاپور اور سویڈن دنیا کے سب سے کم بدعنوان ممالک ہیں جبکہ برما اور صومالیہ میں سب سے زیادہ بدعنوانی ہے۔ |
اسی بارے میں پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ01 June, 2008 | انڈیا بنگلہ دیشیوں کی مصیبت اور پی ایم کے دوست25 May, 2008 | انڈیا عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||