قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات کی تیاریاں اس برس دلی، مہاراشٹر، کرناٹک، راجستھان، اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہيں۔ آئندہ برس پارلیمنٹ کے انتخابات ہونے والے ہيں۔ جس طرح کے حالات ہيں ایسا لگتا ہے کہ پارلیمانی انتخابات جلد ہی ہونے والے ہیں۔ منموہن سنگھ کی حکومت کافی پریشان ہے۔ یہ انتخابی برس ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود مہنگائی قابو میں نہيں آرہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت کسانوں کے ساٹھ ہزار کروڑ روپیے معاف کرنے کے بعد اب کپڑے کی صنعت سے منسلک بنکروں کے قرض معاف کرنے کا موڈ بنارہی ہے۔ حکومت سرکاری ملازمین کو خوش کرنے کے لیے بھی اس ہفتے کسی بھی وقت تنخواہوں میں تقریبا بائیس فیصد اضافے کا اعلان کرے گی۔ مسلمانوں کے زخم بھر گیے
گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی کا خیال ہےکہ گجرات میں 2002 کے فسادات کے بعد اب مسلمانوں کے زخم بھر چکے ہیں۔ دلی میں ایک مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسلمانوں کے زخم بھر چکے ہیں اور وہ ریاست کی ترقی سے فائدہ اٹھارہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے زخم بھرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے جو بار بار فسادات کا ذکر کر کے زخموں کو تازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرے مذہب کے احترام کے لیے گوشت مت کھائیے
گجرات حکومت نے جین مذہب کے پریوشن تہوار کے دوران نو دنوں کے لیے مذبخ خانوں میں جانوروں کے ذبیح پر یہ کہہ کر پابندی لگادی تھی کہ اس کا مقصد جین مذہب کے تیئں احترام کا اظہار کرنا ہے۔ لیکن گوشت فرختوں کی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کاروبار کرنے کے ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور انہيں مالی نقصان پہنچے گا۔ عدالت کا کہنا ہے تھا کہ ہندوستان ایک کثیر ثقافتی ملک ہے اور اس طرح کا قدم جائز ہے۔ جین مذہب کے پیروکار گوشت نہیں کھاتے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دوسری ریاستیں بھی مختلف مذہبی تہواروں کے نام پر گوشت کی فروخت پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز سے دلی کا فائدہ
سنہ 2010 کے کامن ویلتھ گیمز کی تیاریاں اب زوروں پر ہیں۔ ایک طرف کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کے لیے گیمز ولج تعمیر کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب ہزاروں غیر ملکی شائقین کی ممکنہ آمد کے پیش نظر پچاسوں نئے ہوٹل زیر تعمیر ہیں۔ گیمز سے پہلے دارالحکومت دلی کی سڑکیں بین لااقوامی میعار کی بنائي جائیں گی۔سڑکوں پر روشنی کا بہتر انتظام ہوگا۔ بجلی اور پانی کی سپلائی کے لیے نئے نئے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ شہر کی بہتر امیج دکھانے کے لیے دارالحکومت سے ہزاروں بھکاریوں کو یہاں سے ہٹا دیا جائے گا۔ میونسپل کارپوریشن شہر کو صاف رکھنے کے لیے ایک نیا ضابطہ نافذ کرنے جارہی ہے جس کے تحت گندگی پھیلانے، تھوکنے، سڑک کے کنارے پیشاب کرنے، گھرکے باہر برتن کپڑے دھونے پر موقع پر ہی دو سو روپیے کا جرمانہ کیا جائے گا۔ باہر نہانے، پاخانہ کرنے پر سو روپیے اور پالتو جانوروں کی گندگی پر پانچ سو روپیے کا جرمانہ ہوگا۔ کارپوریشن اس ضابطے کے نفاذ کے لیے سینکڑوں افسروں کو تعینات کرنے والی ہے۔ اڈوانی کی کتاب میں دلچسپ حقائق
حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی کی ایک کتاب اس مہینے ریلیز ہورہی ہے۔ کتاب کے بارے میں جو کچھ معلومات اب تک پریس میں آئي ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہےکہ یہ کتاب کافی دلچسپ ثابت ہوگی۔ اس سوانحی کتاب میں اڈوانی نے واجپئی سے اپنے تعلقات، بی جے پی کی حکومت کے ایام، کرگل کی لڑائي، پارلیمنٹ پر حملے اور محمد علی جناح کو سیکولر کہنے کے تنازعہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ایل کے اڈوانی آئندہ پارلیمانی انتخابات میں متحدہ حزب اختلاف کے وزارت عظٰمی کے امیدوار ہیں اور باور کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے اپنی شبیہ بہتر کرنے کے لیے لکھی ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری16 July, 2006 | انڈیا ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور وی آئی پی سکیورٹی11 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||