جوہری معاہدہ اور چین کا دبدبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری معاہدے میں پیش قدمی اتحادی بائیں محاذ اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود ہند امریکی جوہری معاہدے کے سلسلے میں ہندوستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے آئی اے ای اے سے بات چیت جاری ہے۔جلد ہی ویانا میں ایٹمی ادارے سے مزید بات چیت ہوگی۔ ہندوستان کے غیر جوہری ری ایکٹروں کو ایٹمی ادارے کی نگرانی میں لانے سے متعلق معاہدے کے لیے اب تک تین دور کے مذاکرات ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں عالمی ایٹمی ادارے سے اطمینان بخش معاہدہ ہوجانے کی امید ہے۔ ایٹمی توانائی کے ادارے سے معاہدہ ہونے کے بعد ہندوستان نیوکلیئر سپلائی گروپ کے رکن ممالک سے ایٹمی ٹیکنالوجی، ایندھن اور ساز و سامان کے حصول کے لیے اجازت مانگے گا۔ یہ عمل امریکہ سے جوہری معاہدے کا حصہ ہے۔ ہندوستان میں اس معاہدے کی شدید مخالفت جاری ہے اور بائیں بازوں کی جماعتوں نے معاہدے کےلیے بات چیت جاری رکھنے کی صورت میں حکومت سے حمایت واپس لینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ چین کا دبدبہ چین کا ذکر اگر آئے تو ہندوستانی چین سے اپنے ملک کا موازنہ ضرور کرتے ہیں۔ دنیا کے کسی اور ملک سے ہو یا نہ ہو لیکن ہندوستان چین سےضرور آگے آنا چاہتا ہے۔ لیکن چین ہے کہ وہ ہر میدان میں ہندوستان سے آگے ہے۔
چین بہت تیزی سے ہندوستان کی مارکیٹ میں پھیل رہا ہے اور اگر یہی رفتار جاری رہی تو ایک دو برس کے اندر ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن جائے گا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے چین کے دورے کے موقع پر ہندوستانی اخبارات نے مضامین، تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی ترقی کا موازنہ بھی پیش کیا ہے۔ ایک سرکردہ روزنامہ نے لکھا ہے کہ چین کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ ہے جبکہ ہندوستان کی ایک ارب بیس کروڑ ہے۔ چین میں لوگوں کی قوت خرید کے ساتھ مجموعی داخل پیداوار 2005 میں 5323 ارب ڈالر تھی جبکہ ہندوستان میں 2340 ارب ڈالر تھی۔ چین کے زر مبادلہ کے زخيرے میں 1612 ارب ڈالر تھے۔اس کس مقابلے میں ہندوستان میں صرف 276 ارب ڈالر تھے۔ چین میں فی کس ایک ڈالر یومیہ سے کم کمانے والوں کی تعداد صرف دس فی صد ہے جبکہ ہندوستان میں یہ تعداد ساڑھے تین گنا زیادہ ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی چین ہندوستان سے دو گنا خرچ کرتا ہے۔ چین میں ہندوستان کے مقابلے فی ہیکٹر چاول اور گہیوں کی دوگنی پیداوار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں اب یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ چین ترقی کی رفتار میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہندوستان کو آگے آنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے حفاظتی انتظامات سخت پاکستان کی سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے ایک روز بعد 28 دسبمر کو قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائین نے تمام ریاستوں کے وزراء اعلی کو ایک خط میں خبردار میں کیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے معاملے میں پہلے سے زیادہ ہوشیار رہیں۔ مسٹر نارائین نے لکھا ہے کہ شدت پسند بالخصوص مسلم شدت پسند تنظیمیں پہلے سے زیادہ منصوبہ بند، منظم اور مرکوز حملے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ وزیر اعلی سے کہا گيا ہےکہ وہ اپنی ذاتی سلامتی کے لیے مخصوص اقدامات کریں اور عوامی مقامات پر بہت ہوشیاری سے کام لیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان کے زير انتظام کشمیر کے وزیر اعلٰی غلامی بنی آزاد کے بارے میں الرٹ کیا گیا ہے کہ بعض تنظیموں ان کے حفاظتی حصار کو توڑنے کو کوشش کررہی ہیں۔ سیکورٹی کے جائزے کے مطابق شدت پسند تنظیمیں آزاد کی حفاظت کے اندورنی نظام میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہيں۔ آزاد کی حفاظت پر اب فوجی کمانڈو تعینات کیے جارہے ہيں۔ وزارت خارجہ کے سامنے ’گرل فرینڈ‘ کا مسئلہ
وزارت خارحہ کے سفارتکار اور اہلکار ملکوں کے تعلقات اور جنگ و امن کے ہر پہلو کے ماہر مانے جاتے ہيں لیکن ان دنوں سفارتکاری کے ایک نئے پہلو سے ان کا سامنا ہوا ہے۔ ہندوستان نے چھبیس جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کو مہمان خصوصی کے طور پر دلی آنے کی دعوت دی ہے۔ ابھی تک جو بھی غیر ملکی صدور اور وزیر اعظم آئے ہيں وہ عموما اپنی اہلیہ یا شوہروں کے ساتھ آتے ہيں۔ لیکن اس بار مسئلہ یہ ہے کہ صدر سرکوزی کے ساتھ ان کی گرل فرینڈ ماڈل اور راک گلوکارہ کارلا برونی بھی دلی آرہی ہيں۔ وزارت خارجہ کے اہلکار ابھی تک اس کشمکش میں ہیں کہ سفارتی آداب کے مطابق صدر کی گرل فرینڈ کو دلی میں قیام کے دوران کس طرح کا استقبالیہ درجہ دیا جائے۔ اطلاعات ہیں کہ وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں فرانس کی حکومت سے صلاح مشورہ کیا ہے۔ اخبارات میں مسلسل خبروں کے بعد میڈیا میں صدر سرکوزی سے زیادہ اب برونی میں دلچسپی لی جارہی ہے۔ ٹرانسپورٹ سے کڑوڑں گھنٹوں کا نقصان
دلی اور اس کے نواحی شہروں میں ملازمت کرنے والے تقریبا ستر لاکھ لوگوں کا پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے سے ہر مہینے تقریبا بیالیس کروڑ گھنٹے کا نقصان ہوتا ہے۔ ایسوسی ایٹیڈ چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک مطالعے کے مطابق ہر روز گھر سے دفتر پہنچے ہی لوگوں کا دو ڈھائی گھنٹہ ضائع ہوتا ہے۔ جس کے سبب وہ گھر پہنچنے پر کسی اور کام کے لائق نہیں رہ جاتے۔ مطالعے میں دلی، ہریانہ اور اترپردیش کی حکومتوں پر زور دیا گيا ہے کہ ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرنے کے لیے نیوریارک لندن اور ٹوکیو کے طرز پر بہتر رفتار ’ ماس ٹرانسپورٹ سسٹم‘ شروع کریں۔ |
اسی بارے میں مودی کے ستارے، بابری مسجد مقدمہ09 December, 2007 | انڈیا فضا میں شراب، سپر کمپیوٹر18 November, 2007 | انڈیا دلی بہترین شہر،اسرائیلی ماہرین کشمیر میں30 September, 2007 | انڈیا منموہن کی کار،اجمیر کا نذرانہ20 May, 2007 | انڈیا اترپردیش الیکشن اور شاہی عمارتیں13 May, 2007 | انڈیا لاپتہ غیرملکی، جج کا تبادلہ اور لوڈشیڈنگ06 May, 2007 | انڈیا ٹریلین ڈالر معیشت، ان چاہی کالز پر روک29 April, 2007 | انڈیا انسانی سمگلنگ،ایڈز ٹسیٹ، مطمئن جنسی زندگی22 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||