BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 May, 2007, 11:16 GMT 16:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن کی کار،اجمیر کا نذرانہ

ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ
وزیراعظم کے پاس گیارہ سال پرانی ماروتی 800 ہے
وزیر اعظم کی سستی کار
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گزشتہ دنوں ایوان بالا کی رکنیت کے لۓ کاغذات نامزد گی داخل کئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی دولت کی تفصیلات بھی جمع کیں۔

جائیداد اور بینکوں میں رقم جمع اور بانڈ وغیرہ کی مجموعی مالیت تو تین کروڑ 96لاکھ ہے لیکن ان کے پاس جو واحد کار ہے وہ گیارہ برس پرانی ماروتی 800کار ہے۔ مارکیٹ میں اس کی قیمت چالیس ہزار روپے سی بھی کم بتائي گئی ہے۔

پولیس کو چیلنج کرنے والا قاتل
دلی میں بظاہر ایک سیریل قاتل پولیس کے لیے معمہ بنا ہوا ہے۔ یہ قاتل گزشتہ ایک برس میں چار افراد کو قتل کر چکا ہے۔ اور قتل کے بعد سر کٹی لاش کو دلی کی تہاڑ جیل کے دروازے پر پھینک دیتا ہے۔

پراسرار قاتل نے چوتھاقتل گزشتہ دنوں کیا اور تہاڑ جیل پر لاش رکھنے کے بعد پولیس کے نام ایک خط بھی چسپاں کردیا جس میں اسے پکڑنے کے لۓ پولیس کو چیلینج کیا گیا ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ یہ قاتل کوئی ذہنی مریض لگتا ہے اور کسی وجہ سے پولیس سے بھی نفرت کرتا ہے۔ سر کٹی چاروں لاشیں پچیس سے تیس برس کے جوان مردوں کی تھیں اور چاروں کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

خادماؤں پر پابندی
ہندوستان کی حکومت نے تیس برس سے کم عمر کی عورتوں اور لڑکیوں کو گھریلو خادمہ کے طور پر خلیج ملکوں سمیت کئی ممالک میں جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں

فائل فوٹو
حکومت کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک جاکر عورتیں اپنے مالک کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں اور ان کا اکثر جنسی استحصال کیا جاتا ہے
جاکر عورتیں اپنے مالک کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں اور ان کا اکثر جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔

یہ پابندی ان ملکوں کے لۓ لگائی گئی ہےجہاں جانے کے لۓ حکومت سے امیگریشن کی پیشگی منظوری لینی پڑتی ہے ۔ ان میں سعودی عرب۔ بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، عمان، ملیشیا، شام، انڈونیشنیا، عراق، نائجیریا، سوڈان، افغانستان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

اجمیر درگاہ کاانتظام بہتر کرنے کی شفارش
خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کا انتظام روایتی طور پر خواجہ زادگان اولہ خدام کے ہاتھ میں رہا ہے۔ درگاہ پر ہر برس لاکھوں عقیدت مند اپنی مرادوں کے ساتھ پہنچتے ہیں اور نذرانے کی شکل میں کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں لیکن درگاہ برسوں سےبد انتظامی اور بدعنوانیوں کاشکار رہی ہے۔

ایک انکوائری کمیٹی نے درگاہ کی حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد مرکزی حکومت سے سفارش کی ہے کہ درگاہ کا انتظام ملک کے بڑے ہندو مندروں کے طرز پر کیا جاۓ۔

اجمیر شریف
نذرانے کی شکل میں کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں

یہ کمیٹی اقلیتی امور کی وزارات نےگزشتہ برس تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ درگاہ خواجہ ایکٹ 195پوری طرح سے بے معنی ہوچکا ہے اور تمام بد انتظامی کا یہی بینادی سبب ہے۔

ٹیکس کلکشن دوگنا
اس برس براہ راست ٹیکس سے سوا دو لاکھ کروڑ سے زیادہ رقم جمع ہوچکی ہے۔ دو ہزار چار میں براہ راست ٹیکس سے تقربیا ایک لاکھ کروڑ روپے جمع ہوۓ‎ تھے

ٹیکس میں دوگنا سے زیادہ اضافے کے پیش نظر محکمہ انکم ٹیکس مزید سولہ ہزار تقرریاں کرنے جارہا ہے۔

اگر چہ گزشتہ تین برس میں ٹیکس کی رقم دوگنا ہوئی ہے لیکن ٹیکس دہندگان کی تعداد میں صرف پونے چھ فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

سنہ دوہزار چار میں دہندگان کی تعداد تقریبا تین کروڑ دو لاکھ تھی جو سال دو ہزار سات میں بڑھ کر تین کروڑ بیس لاکھ ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد