مودی کی مخالفت، عبادت گاہوں کا بیمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیں بازو کا امتحان ہندوستان میں غالبا بائیں بازو کی جماعتیں ہی ایسی سیاسی تنظیمیں رہی ہیں جن پر کبھی فرقہ پرستی کا الزام نہیں لگا ہے۔ گزشتہ دنوں نندی گرام کے حالات پر قابو پانے میں ریاست کی کمیونسٹ حکومت پر ہر طرح کی نکتہ چینی تو ہوئی ہی ساتھ میں اسے پہلی بار فرقہ پرست بھی کہا گیا ۔ نندی گرام میں مسلمانو ں کی خاصی آبادی ہے لیکن ہندوؤں کی اکثریت ہے ۔ کئی ہفتوں سے جاری پر تشدد واقعات میں بیشتر ہلاکتیں مسلمانوں کی ہوئی ہیں۔ مالی طور پر بھی سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہی اٹھانا پڑا ہے۔ ریاستی اور قومی اخبارات نے مسلم زاویہ کو خوب اچھالا اور حکمراں کمیونسٹوں کو دفاعی رخ اختیار کرنا پڑا۔ دلچسپ پہلو یہ کہ مسلم مخالف سمجھی جانے والی بی جے پی نے بھی بنگال کی حکومت پر مسلمانوں پر ظلم کرنے کا الزام لگایا اور اسے فرقہ پرست قرار دیا ہے۔ اب جبکہ متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کو ریاستی حکومت کے رویے کے سبب اچانک کولکتہ چھوڑنا پڑا ہے تو ایک بار پھر کمیونسٹس تنقید کے نشانے پر ہیں۔ مارکسی پارٹیاں ہندوستان میں اظہار آزادی کی حمایت کرتی رہی ہیں اور ناقدوں کا کہنا ہے کہ اب وہ خود اس کے خلاف کام کر رہی ہے ۔ مودی کے خلاف کون لڑے ؟ گجرات میں اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں اور کانگریس کے سامنے ایک مشکل یہ ہے کہ وہ وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف کسے کھڑاکرے؟ ریاست کے کئی اعلی کانگریسی رہنماؤں نے شکست کے اندیشے سے مودی کے خلاف لڑنے سے پہلے ہی انکار کر دیاہے۔ اطلاعات ہیں کہ کانگریس نے معروف کلاسیکی رقاصہ ملکہ سارہ بھائی سے بھی رجوع کیا تھا لیکن بظاہر انہوں نے سیاست میں نہ اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے بالاخر مہاتما گاندھی کے پر پوتے توشار گاندھی کو مودی کے خلاف اتارنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی انتخاب لڑنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ’وہ مودی کو گاندھی کو شکست دینے کا سکون حاصل کرنے نہیں دینا چاہیں گے۔‘
کانگریس گجرات کے انتخابات میں بہت منظم طریقے سے اتر رہی ہے ۔ مودی کو بی جے پی کے متعدد اعلی رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا ہے اور سنگھ پریوار بھی ان سے خوش نہیں ہے ۔ بظاہر مودی کوبھی دباؤ محسوس ہو رہا ہے اور گزشتہ دنوں انہوں نے تمام ’ہندو فورسز‘ کو متحد ہونے کی کال کی حمایت کی ہے۔ یہ اپیل ان کے مذہبی گرو کی طرف سے آئی ہے اور اس کا مقصد بی جے پی کے سبھی ناراض دھڑوں کو متحد کرنا ہے۔ دہشت گردی سے تحفظ کا بیمہ ہندوستان میں شدت پسندی کے خطرات کے پیش نظر بڑی بڑی کمپنیاں اور عبادت گاہیں تیزی سے بیمہ کمپنیوں کا رخ کررہی ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں، ہند پاک سرحدی ریاستوں ماؤنوازوں کی اثراتی ریاستوں اور ایل ٹی ٹی ای کی سرگرمیوں والے خطے میں بڑي بڑی کمپنیاں اب تحفظ کے پیش نظر بیمہ پالیساں خرید رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خطرات سے تحفظ کے بیمے کی رقم گزشتہ پانچ برس میں دو ارب روپے سے بڑھ کر اب چھ ارب روپے تک ہوگئی ہے۔ دہشت گردی کے حملوں کا کوریج امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد ہندوستان میں شروع ہوا تھا۔ ملک ميں شدت پسندوں کی طرف سے صرف اہم تنصیبات کو خطرہ لاحق ہے بلکہ بڑی بڑی عبادت گاہیں بھی اس کے نشانے پر ہیں۔اکشردھام مندر، بنارس کا سنکٹ موچن مندر، اجمیر کی درگاہ اور دلی کی جامع مسجد بھی شدت پسندوں کے حملوں کا نشان بن چکی ہیں۔
دلی میں پاکستان کی مقبولیت ہر برس کی طرح اس بار بھی جب دلی میں بین الاقوامی میلہ شروع ہوا تو دلی والوں کی بھیڑ ٹوٹ پڑی۔ اس میلے میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ساتھ ساتھ دینا کے مختلف ممالک بھی اپنی اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے لیے اپنا اسٹال لگاتے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پاکستان نے بھی اس میلے میں حصہ لینا شروع کیا ہے۔ پاکستان کی مصنوعات میں گہری دلچسپی رہی ہے لیکن اس بار کراچی کےالحاج بندو خان کے ریستوران سب کی توجہ کا مرکز ہے۔ مٹن بوٹی، سیخ کباب، حلوہ پراٹھا کی تھالی حاصل کرنے کے لیے پاکستان اسٹال کے باہر لمبی خطاریں لگ رہی ہیں۔ لوگوں کو پاکستانی کھانا تو بہت پسند آیا لیکن ایک شکایت یہ تھی کہ وہ زرا مہنگے ہیں۔
امیروں کے شہر دارالحکومت دلی میں ایک لاکھ اڑتیس ہزار ایسے خاندان ہیں جن کی سالانہ آمدنی دس لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ جبکہ چندی گڑھ ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر ساتویں گھر کی آمدنی دس لاکھ سے زیادہ کے زمرے میں آتی ہے ۔ انڈیکس انالیٹکس نے اپنے ایک جائزے میں بتایا ہے کہ دلی کے علاوہ بنگلور، ممبئی، تھانے، پونے، احمدآباد، سورت، چنڈی گڑھ، جےپور، حیدرآباد اور کولکتہ جیسے شہروں میں دس لاکھ روپے سالانہ کمانے والے گھروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لکھ پتی افراد کی تعداد کے لحاظ سے چھوٹے شہروں کی کارکردگی بڑے شہروں کے مقابلے کافی بہتر ہے ۔ |
اسی بارے میں سرکاری شراب،جاوید کانغمہ07 October, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی تنخواہ اور دلی کا بوجھ09 September, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، سائنسدان، گنجے30 July, 2006 | انڈیا امیروں کی دلّی اور غدر کے 150 سال 23 July, 2006 | انڈیا شہر ممنوعہ، ہاسٹل میں جرائم، ایڈز کیلیئے ٹماٹر02 July, 2006 | انڈیا انکم ٹیکس کی پھرتی اور الزرقاوی انڈیا میں18 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||