سرکاری شراب،جاوید کانغمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج میں خصوصی میزائل گروپ گزشتہ دنوں اڑیسہ کی ساحلی تجربہ گاہ سے اگنی۔ ون میزائل کا تجربہ کیاگیا۔ سات سو کلو میٹر کے فاصلے تک مارکرنے والے اس میزائل کے پہلے بھی کئی تجربے کیے جا چکے ہیں۔ یہ میزائل ایک ٹن وزن کے جوہری بم گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگنی۔ون کے اس تجربے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تجربہ فوج نے کیا ہے۔ اب فوج میں ایک ’سپیشل میزائل گروپ‘ قائم کیا گيا ہے جو اگنی ٹو اور اگنی تھری اور دوسرے میزائلوں کے استعمال کی مہارت رکھتا ہے۔ جج کو قانون پڑھنے کے لیے کلاس میں بھیجا گیا دلی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے ایک جج کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوراً قانون کی کلاس میں واپس جائیں۔ ہائی کورٹ نے یہ ہدایت اس وقت جاری کی جب ایڈیشنل سیشن جج نے ہائی کورٹ کی طرف سے ضمانت دیے جانے کے باوجود ایک ملزم کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔ جج نے ملزم کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری کا وارنٹ اور جائیداد کی قرقی کا بھی حکم جاری کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ذیلی عدالت کے جج نے جس طرح کے احکامات دیے ہیں اس سے واضح ہے کہ انہیں قانونی عمل کے بنیادی نکات کی بھی معلومات نہیں ہے۔ اس لیے انہیں تین ماہ کے لیے جوڈیشل اکیڈمی بھیج دیا جائے۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے ذیلی عدالتوں کے ججوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ بات بات پر اعلیٰ پولیس افسروں اور دیگر اہلکاروں کو عدالت طلب کرنے سے گریز کریں۔
صرف سرکاری شراب پئیں دو اکتوبر گاندھی جی کا یوم پیدائش ہے۔ اس دن گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے کو خاص طور سے یاد کیا جاتا ہے۔ تشدد کے ساتھ ساتھ گاندھی جی شراب کے بھی سخت خلاف تھے۔ انہی کے زير اثر ہندوستان میں آئین کے رہنما اصولوں میں شراب سے پاک معاشرے کا تصور بھی شامل کیا گيا تھا۔ عدم تشدد کا فلسفہ تو اب بین الاقوامی سطح پر اہمیت کر رہا ہے لیکن شراب کے بارے میں گاندھی جی سے کم ہی لوگوں نے اتفاق کیا ہے۔ شراب کی کھپت ہندوستان میں ’دن دونی رات چوگنی‘ ہو رہی ہے۔ ہریانہ، دلی، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں کی آمدنی کے سب سے اہم ذرائع میں شراب بھی شامل ہے۔ شراب کی دکانوں پر حکومت کی اجارہ داری ہے اور شراب خانوں کو چھوڑ کر شراب صرف سرکاری دکانوں پر ملتی ہیں۔ گزشتہ دنوں گاندھی جی کے یوم پیدائش پر حکومت کی طرف سے شراب کے خلاف ایک اشتہار میں گاندھی جی کا یہ قول شائع کیا گيا تھا: ’شراب صرف جسم کو ہی نہیں روح کو بھی کھوکھلا کرتی ہے‘۔ اسی اشتہار میں صارفین کو الرٹ کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ دو اکتوبر کو شراب کی دکانیں بند رہیں گی۔ اس لیے وہ پہلے ہی اپنی خریداری کرلیں۔ ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ’شراب صرف سرکاری دکانوں سے ہی خریدیں‘۔ پینے والے کی روح کھوکھلی ہوتی ہے یا نہیں یہ تو بتانا مشکل ہے لیکن گجرات جیسی ریاستوں جہاں شراب پر پابندی لگائی گئی ہے، زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب یہ ریاستیں شراب لانے کے نئے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ نوجوانوں کا قتل نہ کریں کشمیر میں گزشتہ اٹھارہ برسوں کی شورش کے دوران ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ تقریباً روزانہ ہی قتل، گمشدگی، تصادم اور حملوں کے واقعات ہوتے ہیں۔
کشمیر میں تین طرح کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ شہری، شدت پسند اور سکیورٹی اہلکار۔ ان سبھی میں ایک پہلو مشترک ہے کہ ان میں غالب اکثریت نوجوانوں کی ہوتی ہے۔ سکیورٹی فورسز میں بھی جو اہلکار ’انکاؤنٹر‘ کے دوران یا شدت پسندوں پر گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں میں ہلاک ہوتے ہیں، وہ عموماً نوجوان افسر ہی ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں کشمیر میں ایک ’انکاؤنٹر‘ میں دو میجر ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک میجر کے یہاں دو ماہ بعد بچے کی پیدائش ہونی والی تھی۔ دوسرے میجر کی انتیس اکتوبر کو بنگلور میں شادی ہونے والی تھی اور شادی کی ساری تیاری مکمل تھیں۔ ’را‘ کے نئے ضابطے ہندوستان کی خفیہ سروس ’را‘ کے بارے میں خود اسی کے اہلکاروں کی طرف سے حالیہ ماہ میں کئی تنقیدی کتابیں شائع ہونے کے بعد’را‘ نے اپنے اہلکاروں کو قابو میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ’را‘ اپنے تمام اہلکاروں سے ایک ایسے تحریری اقرار نامے پر دستخط لے رہی ہے جس کے تحت کسی بھی اہلکار کو ’را‘ کے بارے میں کوئی کتاب لکھنے سے پہلے تنظیم سے اجازت لینی ہوگی اور کتاب کا متن شائع ہونے سے قبل ’را‘ کو جائزے کے لیے دیا جائے گا۔ یہ نیا ضابطہ ان سابقہ اہلکاروں پر بھی نافذ ہوگا جن کی سبکدوشی کو دو سال پورے ہو چکے ہیں۔
ملٹری اکیڈمی کے لیے جاوید کا نغمہ دہرادون میں ملٹری اکیڈمی نے اپنی ’پاسنگ آؤٹ پریڈ‘ کے لیے مشہور نغمہ نگار جاوید اختر کا ایک نغمہ منتخب کیا ہے۔ ملٹری اکیڈمی ہندوستان کی فوج کی تربیت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ابھی تک اس کے پاس اپنا کوئی گیت نہیں تھا اور پاسنگ آؤٹ پریڈ اور دیگر تقاریب میں فوج کی دھنیں بجائی جاتی تھیں۔ گزشتہ دنوں جاوید اختر نے اکیڈمی کے لیے ایک نغمہ لکھا: ’بھارت ماتا تیری قسم، تیرے رکشک رہیں گے ہم، دیواریں ہم بنیں گے، تلورایں ہم بنیں گے ماں‘۔ اس نغمے کی طرز راجو سنگھ نے تیار کی ہے اور اسے معروف گلوکار سونو نگم نے گایا ہے۔ |
اسی بارے میں دلی بہترین شہر،اسرائیلی ماہرین کشمیر میں30 September, 2007 | انڈیا سیتو سندرم اور ہندوستانی سیکولرزم16 September, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی تنخواہ اور دلی کا بوجھ09 September, 2007 | انڈیا بابری کمیشن، پھر توسیع02 September, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: ایچ آئی وی ٹیسٹ اور سڑک حادثے26 August, 2007 | انڈیا پاکستان پر حملے کی عرضی، مفت ہنی مون12 August, 2007 | انڈیا لالو کا تنازعہ،فوجیوں کو ہدایت05 August, 2007 | انڈیا کیا ہندوستان میں ایسا ممکن ہے؟ 29 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||