BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی بہترین شہر،اسرائیلی ماہرین کشمیر میں

بھارتی پارلیمان
بھارتی پارلیمان میں شورشرابے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں
ارکان پارلیمان کو واپس بلانے کا حق
پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ آرائی، شور شرابے اور بائیکاٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے لوک سبھا کے سپیکر سومناتھ چٹری نے گزشتہ ہفتے یہ تجویز پیش کی کہ عوام کو اپنے ارکان پارلیمان کو واپس بلانے کا حق دیا جانا چاہیے۔

کامن ویلتھ پارلیمنٹری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر چٹرجی نے کہا کہ ووٹر کو یہ حق ملنا چاہیے کہ اگروہ اپنے نمائندے کی کارکردگی سے مطمئن نہيں تو وہ اسے واپس بلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک میں اس طرح کے ضوابط موجود ہيں اور اس پر غور کرنے کی ضرورت نہيں ہے لیکن کامن ویلتھ کے بیشتر نمائندوں نے ان کی تجویز سے اتفاق نہيں کیا۔

دلی بہتر ہو رہی ہے
ہندوستان کے اڑتالیس بڑے شہروں میں رہنے کے لیے سب سے بہترین شہر دلی ہے۔ ایک کنسلٹنگ فرم’ارنسٹ اینڈ ینگ‘ کی ایک پورٹ کے مطابق دارالحکومت نے سڑک، بہترین میٹرو، باصلاحیت لوگوں کی افراد اور پیسے کی فراوانی کے سبب یہ مقام حاصل کیا ہے۔شہروں کی درجہ بندی کے لیے ستاون پیمانے منتخب کیے گیے تھے اور ان میں سب سے اوپر دلی کا نام آیا ہے۔

دلی ممبئی سے بھی زيادہ خوشحال شہر ہے

رپورٹ کے مطابق اگرچہ بڑے بڑے کارپوریٹ ہاوسز کا صدر دفتر ممبئی ہے لیکن اب مینجمنٹ، تجارت، کارپوریٹ اور دیگر سیکٹرز میں گریجویٹس اور ماہرین بڑي تعداد میں دلی کا رخ کر رہے ہیں۔

دلی کے قریبی فضائی اڈے کی بحالی
سنہ دو ہزار پانچ میں سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر کسی طیارے کے بارے میں یہ واضح طور پر پتہ ہو کہ وہ کسی اہم مقام کو تباہ کرنے کے لیے جا رہا ہے تو اسے مار گرانے کی اجازت ہوگی۔ دلی میں اس طرح کے کسی حملے کو ناکام بنانے کی خاطر فوری کارروائی کےلیے فضائیہ کے جو قریب ترین اڈے ہيں وہ رائے بریلی، چنڈی گڑھ، اور انبالہ میں واقعہ ہیں جو کم از کم پچیس منٹ دور ہيں۔

ہنڈن فضائی اڈے پر جنگی طیارے تعینات کیے جائیں گے

اب فضائیہ نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ وہ دلی کے نواح میں ہنڈن فضائي اڈے کو بحال کرے گی جہاں مگ23، اور مگ 27 جنگی طیارے تعینات کیے جائیں گے۔ کسی خطرے کی صورت میں جوابی کارروائی میں صرف پانچ منٹ لگیں گے۔ اس فضائي اڈے کے اطراف میں کوڑے کے ڈھیر اور مذبح خانوں کی موجودگی کے سبب پرندوں کی آماجگاہ بن گئے تھے اور کئی بار پرندوں کے طیارے سے ٹکرانے کے سبب 1997 میں یہ اڈہ منتقل کر دیا گيا تھا۔

اسرائیلی ماہرین پھر کشمیر میں
اسرائیلی دفاعی ماہرین اور فوجی اہلکاروں کی ایک ٹیم اکتوبر کے وسط میں کشمیر کا دورہ کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق سری نگرمیں اپنے قیام کے دوران اسرائیلی ماہرین شمالی کشمیر میں سرحدی چوکیوں پر جائیں گے۔اس سے پہلے جون میں بھی اسرائیلی دفاعی ماہرین کی ایک ٹیم کشمیر آئی تھی اور اس نے نگروٹہ میں فوجی اڈے کا دورہ کیا تھا۔

سرحدی علاقوں میں کشمیر اور پنجاب کے کئي علاقوں میں دراندازی اور سرحدپار نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے اسرائیلی الیکٹرانک نگرانی نظام اور دوسرے دفاعی آلات نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ماہرین ان چوکیوں پر اسرائیلی ہتھیاروں اور سازو سامان کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

ماہرین شمالی کشمیر میں محاذی چوکیوں پر جائیں گے

کارگل کی لڑائی کے بعد اسرائیل سے دفاعی سازو سامان کی خریداری کا حجم بہت بڑھ گيا ہے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنےاور جاسوسی و نگرانی جیسے معاملات کے لیے اسرائیل بھارت کو ساز وسامان سپلائی کرنے والا سب سے اہم ملک بن گیا ہے۔

گجرات میں انتخابی سرگرمیاں شروع
گجرات میں اسمبلی انتخابات کا عمل چھبیس دسمبر سے پہلے مکمل کیا جانا ہے۔ چیف الیکشن کمیشنر دیگر کمشنروں کے ہمراہ ریاست کے دورے پر جا رہے ہیں۔ انتخابی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں اور اندازہ ہے کہ انتخابات دو مرحلے میں ہوں گے۔الیکشن کمیشن نے حکم دیا ہے کہ گجرات کے فسادات سے متاثر ہونے والے تمام افراد کو انتخابات سے قبل شناختی کارڈ جاری کیے جائیں تاکہ کوئی حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بڑی تعداد میں مسلمان شناختی کارڈ نہ ہونے کے سبب ووٹ نہيں دے سکے تھے۔

غیر مقیم ہندوستانی کے پوسٹ مارٹم کا تنازعہ
مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں عدالت کو بتایا کہ ایک ہندوستانی نژاد برطانوی بچی کا پوسٹ مارٹم ہندوستان ميں نہيں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازعہ پیدا ہو جائے گا۔ پانچ سالہ سنیتا کی لاش اس کے ماں باپ گزشتہ مارچ میں دلی لائے تھے۔ سنیتا کی موت سات برس قبل ایک ہسپتال میں علاج کے دوران ہوگئی تھی۔ اس کے والدین نے الزام لگایا تھاکہ بچی کی موت ہسپتال کی لاپرواہی سے ہوئی۔ لیکن پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ہسپتال کی لاپرواہی ثابت نہيں ہوئی۔ ماں باپ نے سات سال تک بچی کی لاش کو اپنے پاس رکھا اور اسے مارچ میں اس امید کے ساتھ دلی لائے کہ یہاں پر وہ پوسٹ مارٹم کراسکیں گے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ مبینہ غفلت کا واقعہ دوسرے ملک میں پیش آیا ہے اس لیے پوسٹ مارٹم یہاں کرنا مناسب نہيں۔ عدالت نے ابھی اپنا فیصلہ نہيں سنایا ہے۔

ہندو انتہا پسند تنظیموں کےکارکن فائل فوٹودلی ڈائری
کروناندھی کی گردن جیت کا جشن اور ’را‘پر کتاب
انڈین صدر (فائل فوٹو)دلی ڈائری
صدر کی تنخواہ، دلی کا بوجھ اورایران سےدوستی
بابری مسجددلی ڈائری
بابری کمیشن توسیع، مودی کی پرائم ٹائم فلم
فائل فوٹودلی ڈائری
HIV ٹیسٹ، سڑک حادثے اور یورینیم پلانٹ
دہلی کا ایک آوارہ کتادلی ڈائری
دلی کے کتے کوریا بھیجے جانے کی تجویز
گجرات ہائی کورٹدلّی ڈائری
پاکستان پر حملے کی عرضی، فری ہنی مون
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد