BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رام سیتو ’را‘ اور بھارتی نوجوان

ہندو انتہا پسند تنظیموں کےکارکن فائل فوٹو
ہم اپنے مذہب کےاحکامات پر عمل کريں گے: وشو ہندو پریشد
گردن کاٹنے کی ریس

انسانوں کی گردن کاٹنے کا اگر ذکر آتا ہے تو فورا ہی طالبان، عراق کے شدت پسند اور دیگر مسلم شدت پسندوں کا نام سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن اب لگتاہے کہ وشوہندو پریشد بھی اس صف میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔

گزشتہ دنوں بی جے پی کے سابق ایم پی اور وشو ہندو پریشد کے رہنماء رام ولاس ویدانتی نے ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ جو شخص تمل ناڈو کے وزیراعٰلی کروناندھی کی گردن اور زبان کاٹےگا اسے اس کے وزن کے برابر سونے سے تولا جائے گا۔

وشو ہندو پریشد اور بی جے پی، مسٹر کروناندھی سے ان کے اس بیان پر سخت برہم ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوؤں کے بھگوان رام کے وجود کا کوئی تاریخی یا آثاریاتی ثبوت نہیں ہے مسٹر ویدانتی کا کہنا ہےکہ مسٹر کرونا ندھی نے تمام ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے’ ہم اپنے مذہب کے احکامات پر عمل کريں گے اور ہمیں اس سے کوئی نہیں روک سکتا‘۔

’را‘ پر نکتہ چينی کرنے سے بچیں

مرکزي تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی نے گزشتہ دنوں خفیہ ادارے ’ را‘ کے سابق جوائنٹ سیکرٹری میجر جنرل وی کے سنگھ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ انہوں نے حال ہی میں ’را‘ پر ’انڈیاز ایکسٹرنل انٹیلی جنس ‘ نام کی ایک کتاب لکھی تھی۔ جس میں انہوں نے قیادت کی خرابی اور جوابدہی کی کمی کا سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے مخصوص کارروائیوں پر نکتہ چينی بھی کی تھی۔

میجر جنرل وی کے سنگھ نے کمانڈوز کے لیے خریدے گئے کچھ ساز و سامان کی بھی تفصیلات دی ہیں اور ساتھ ہی بعض خریداریوں میں بےضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ سی بی آئی نے سرکاری راز داری قانون کے تحت مقدمہ درج کرنےکے بعدان کے خلاف چھاپہ مارا ہے۔ ان کا ذاتی کمپوٹر ضبط کرلیا گيا ہے اور ان کے ناشر سےبھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہےکہ اس کتاب کے آنے کے بعد سے ہی ’را‘ کے حکام مصنف سے کافی ناراض تھے اور اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں’ را‘ نے حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا تھاکہ وہ اس کتاب پر پابندی عائد کردے۔ کتاب سامنے آنے کے کئی ہفتے بعد چھاپے مارنے کا بظاہر مقصد مستقبل میں اس طرح کی نکتہ چينیوں کو بند کرنا ہے۔

1857 کا غدر
اٹھارہ سو ستانوے کی یہ بغاوت ناکام رہی تھی

1857 برطانوی فوجی کی جیت کا جشن

ہندوستان میں گزشتہ کئی ہفتوں سے 1857 کی بغاوت کے ڈیڑھ سو برس پورے ہونے پر جشن منایا جارہا ہے۔ یہ بغاوت برطانوی فوج کے بعض سپاہیوں نے میرٹھ میں کی تھی۔ بغاوت ناکام رہی اور برطانوی فوج نے تمام سرکش سپاہیوں کی بغاوت کو سختی سے کچل دیا تھا۔ اس بغاوت کی ناکامی سے برطانوی راج کا تسلط پورے ہندوستان پر مکمل طور پر قائم ہوگیا تھا۔

لیکن کیا ان برطانوی سپاہیوں کی بہادری اور شجاعت کو یاد نہیں کیا جانا چاہیے جنہوں نے اس بغاوت کو کچلا تھا۔ گزشتہ دنوں تقریبًا بیس برطانوی شہری بڑی خاموشی سے ان سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے میرٹھ میں جمع ہوئے۔ ساٹھویں کوئنز رائل کے انیس فوجی اہلکار اس مقام پر پہنچے جہاں ہندوستانی فوجیوں نے بغاوت کی تھی۔ وہاں موجود سینٹ جونز چرچ میں وہ ایک سنگی کتبہ نصب کرنا چاہتے تھے۔ جس میں لکھا تھا میرٹھ اور دلی میں ساٹھویں کنگز رائل رائفل کور کی پہلی بٹالین کی بہادری اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں لیکن چرچ کے بشپ نے اس یادگار کتبے کو نصب کرنے کی اجازت نہیں دی‘۔

ہتھوڑے والا قاتل

مغربی دلی کے بلجیت نگر علاقے میں لوگوں کی نیند اڑی ہوئي ہے اور لوگ راتوں میں گروپ بناکر پہرا دے رہے ہیں۔ اس رہائشی علاقے میں گزشتہ دو مہینوں میں چار خواتین پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔ ان میں سے تین کی موت اسی وقت ہوگئی جبکہ چوتھی خاتون شدید زخمی ہیں۔

یہ سبھی حملے ایک جیسے ہیں۔ ان میں قاتل عورتوں کو نشانہ بناتاہے، کسی بھاری چيز سے سر پر وار کرتا ہے اور گھر سے کوئی چیز نہیں لے جاتا۔بعض رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے کم از کم سات حملے ہوۓ ہیں۔ پولیس ابھی تفتیش کررہی ہے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ قاتل ’ ہیمرمین‘ کے نام سے مشہور ہوچکا ہے۔

ہندوستانی نوجوان
ہندوستانی نوجوان اپنے اورمعاشرے کے مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں

ہندوستانی نوجوان دنیا میں سب سے زیادہ خوش

متوسط طبقے کے نوجوان ہندوستانی پوری دنیا میں سب سے زیادہ خوش اور دوسری قوموں کے مقابلے اپنی زندگی سے زیادہ مطمئن ہیں۔

سویڈین کی تحقیقاتی اور مشاورتی فرم کیروس فیوچر کےایک عالمی جائزے کے مطابق نوجوان ہندوستانیوں کے لۓ ملازمت یا کام سب سے اوّلین ترجیح دی ہے۔ اس کے بعد اچھا کریئر اوراعٰلی درجہ حاصل کرنے کا مقام آتا ہے۔ سروے کے مطابق ہندوستانی نوجوان اپنے اور اپنے معاشرے کے مستقبل کے بارے میں بہت حد تک مثبت خیال رکھتے ہیں سروے میں یہ بھی ایک دلچسپ پہلو ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں فیملی مرکزی نکتہ ہے لیکن آج کے نوجوان ہندوستانی معاشرے میں نوجوانوں نے فیملی اور بچے ہونے میں کم دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سنسکرت کی مقبولیت میں اضافہ
ہندوستان کی قدم ترین اور کلاسکی زبانوں میں سے ایک سنسکرت زبان تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔ اب ایک ایسے وقت میں جب لوگ اس زبان کو ’مردہ‘ قرار دینے لگے تھے ایک اطلاع کےمطابق لاکھوں لوگ اس زبان کو پورے ملک میں سیکھ رہے ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے ادارے راشٹریہ سنسکرت سنستھان کے مطابق سال 2000 سےسال 2006 کے درمیان اس کے غیر رسمی کورس کے ذریعے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد نے سنسکرت زبان سیکھی ہے اس میں ڈاکٹر، وکیل، بزنس مین، گھریلو خواتین رٹائرڈ اہلکار سبھی شامل تھے۔ ابھی حال ہی میں کشمیر یونیورسٹی کے سنسکرت کے شعبے میں بتیس مسلم طلبہ نے بھی سنسکرت پڑھنے کے لیے درخواست دی ہے۔ تین برس قبل جب سنسکرت سنستھان کھلا تھا تو اس کے سو مراکز تھے لیکن اب ان کی تعداد ایک ہزار زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد