امیروں کی دلّی اور غدر کے 150 سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فضائیہ میں لشکر کے شدت پسند ممبئی بم دھماکوں کے بعد خفیہ اداروں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیارہ جولائی کو جس نوعیت کا حملہ سات مختلف مقامات پر ٹرینوں میں کیا گیا اگر خفیہ ایجنسیاں الرٹ ہوتیں تو وہ اس خونریز واقعہ کو ہونے سے پہلے ہی مجرموں تک پہنچ سکتی تھیں۔ ممبئی کے بھیانک واقعے کے بعد اب ہر طرف الرٹ ہی الرٹ ہے ۔ خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے دو کارکن انڈین فضائیہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ خفیہ رپورٹ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹیریٹ نے تیار کی ہے جس کی قیادت قومی سلامتی کے معاملے پر وزیراعظم کے مشیر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے متعلقہ اداروں کو فوراً چھان بین کرنی چاہیئے۔ فضائیہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے اس معاملے کی مکمل تفتیش کی گئی ہے اور لشکر کا کوئی بھی کارکن فضائیہ میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کی یہ رپورٹ اگرچہ پرانی ہے اور اسے ریاستی حکومتوں کو بھی الرٹ کرنے کے لیئے بھیجا گیا تھا لیکن اس خفیہ دستاویز کو بظاہر خفیہ ایجنسیو ں کی ایما پر اخباروں کو جمعہ کے روز لیک کیا گیا۔ انڈین فوج میں مسلمانوں کی اوسط تقریباً دو فیصد ہے۔ فضائیہ میں بھی اعلٰی عہدوں پر گنتی کے مسلمان فائز ہیں اور خفیہ ایجینسیوں کی رپورٹ کے بعد یہ سبھی مسلمان شک کے گھیرے میں رہیں گے۔ صرف مسافر جائیں گے
انڈیا کے ہوائی اڈوں کی اصل عمارت میں تو پہلے ہی ملاقاتیوں اور مسافروں کو الوداع کہنے والوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے، اب ریلوے سٹیشنوں پر بھی مسافروں کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریل گاڑیوں میں کئی دھماکوں کے بعد سلامتی کے نقطۂ نظر سے ریلوے کا محکمہ مسافروں کو چھوڑنے کے لیئے آنے والے لوگوں کے پلیٹ فارموں پر جانے اور ٹرینوں پر سوارہونے پر پابندی لگانے کے سلسلے میں غور کر رہا ہے۔ ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کا کہنا ہے کہ’جس کو ٹاٹا، بائے بائے کرنا ہے وہ باہر سے کرے گا اور جائے کیونکہ مسافروں کی سلامتی محکمے کی اولین ترجیح ہے‘۔ امیروں کی دلی
سنہ 1857 کی بغاوت کے 150 سال
1857 کی بغاوت میرٹھ سے شروع ہوئی تھی اور وہاں سے فوجیوں نے دلی تک مارچ کیا اور بہادرشاہ ظفر کو ہندوستان کا بادشاہ مقرر کیا۔ اس بغاوت کے دوران دلی میں ہزاروں لوگ مارےگئے تھے۔ انگریزوں نے یہ بغاوت کچل دی تھی جس کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کا سوا تین سو سال کا دورِ بادشاہت اختتام کو پہنچا تھا اور برصغیر پر انگریزوں کا مکمل تسلط قائم ہوگیا تھا۔ انڈیا میں اس واقعے کو بڑے پیمانے پر منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایک مرحلے پر انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ طور پر سنہ1857 کے واقعہ کو منانے کی تجویز رکھی تھی لیکن یہ بات تجویز کے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔ یہاں تھوکنا منع ہے
میونسپل اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ سزا سے بچنا چاہیں گے ان کے لیئے پانچ سو روپے کے جرمانے کا متبادل ہے لیکن شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور صفائی کا رحجان پیدا کرنے کے لیئے جرمانے کی رقم میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایڈز کے مریضوں کےساتھ تفریق
اس مطالعے سے یہ بھی پتہ جلا ہے کہ ان مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتالوں میں بھی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ افراد کے بچوں کو بھی گھر کے حالات کے سبب اکثرگھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شوہرکے ایڈز سےمتاثر ہونے کی صورت میں بیوی بیشتر معاملوں میں ساتھ دیتی ہے جبکہ بیوی کے متاثر ہونے کی صورت میں شوہروں کا ساتھ دینے کا تناسب کم ہے۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||