BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 06:19 GMT 11:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امیروں کی دلّی اور غدر کے 150 سال

بھارتی فضائیہ کا اشتہار
انڈین فوج میں مسلمانوں کی اوسط تقریباً دو فیصد ہے
فضائیہ میں لشکر کے شدت پسند
ممبئی بم دھماکوں کے بعد خفیہ اداروں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیارہ جولائی کو جس نوعیت کا حملہ سات مختلف مقامات پر ٹرینوں میں کیا گیا اگر خفیہ ایجنسیاں الرٹ ہوتیں تو وہ اس خونریز واقعہ کو ہونے سے پہلے ہی مجرموں تک پہنچ سکتی تھیں۔

ممبئی کے بھیانک واقعے کے بعد اب ہر طرف الرٹ ہی الرٹ ہے ۔ خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے دو کارکن انڈین فضائیہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ خفیہ رپورٹ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹیریٹ نے تیار کی ہے جس کی قیادت قومی سلامتی کے معاملے پر وزیراعظم کے مشیر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے متعلقہ اداروں کو فوراً چھان بین کرنی چاہیئے۔ فضائیہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے اس معاملے کی مکمل تفتیش کی گئی ہے اور لشکر کا کوئی بھی کارکن فضائیہ میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کی یہ رپورٹ اگرچہ پرانی ہے اور اسے ریاستی حکومتوں کو بھی الرٹ کرنے کے لیئے بھیجا گیا تھا لیکن اس خفیہ دستاویز کو بظاہر خفیہ ایجنسیو ں کی ایما پر اخباروں کو جمعہ کے روز لیک کیا گیا۔ انڈین فوج میں مسلمانوں کی اوسط تقریباً دو فیصد ہے۔ فضائیہ میں بھی اعلٰی عہدوں پر گنتی کے مسلمان فائز ہیں اور خفیہ ایجینسیوں کی رپورٹ کے بعد یہ سبھی مسلمان شک کے گھیرے میں رہیں گے۔

صرف مسافر جائیں گے

’جس کو ٹاٹا، بائے بائے کرنا ہے وہ باہر سے کرے‘
وہ دن گئے جب آپ اپنے دوستوں ،عزیزوں اور رشتے داروں کو سفر پر جاتے وقت ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر چھوڑنے جایا کرتے تھے۔ شدت پسندی نے عوام سے اپنے پن کی یہ روایت بھی چھین لی ہے۔

انڈیا کے ہوائی اڈوں کی اصل عمارت میں تو پہلے ہی ملاقاتیوں اور مسافروں کو الوداع کہنے والوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے، اب ریلوے سٹیشنوں پر بھی مسافروں کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریل گاڑیوں میں کئی دھماکوں کے بعد سلامتی کے نقطۂ نظر سے ریلوے کا محکمہ مسافروں کو چھوڑنے کے لیئے آنے والے لوگوں کے پلیٹ فارموں پر جانے اور ٹرینوں پر سوارہونے پر پابندی لگانے کے سلسلے میں غور کر رہا ہے۔ ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کا کہنا ہے کہ’جس کو ٹاٹا، بائے بائے کرنا ہے وہ باہر سے کرے گا اور جائے کیونکہ مسافروں کی سلامتی محکمے کی اولین ترجیح ہے‘۔

امیروں کی دلی

دلی والوں کی فی کس آمدنی 54000 روپے ہوگئی ہے۔
انڈیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کا اثر کہیں ہو رہا ہو یا نہیں دلی کو اس کا بھرپور فائدہ پہنچ رہا ہے۔ دلی کی ریاستی حکومت کے جائزے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں دلی والوں کی فی کس آمدنی تقریبآ چون ہزار روپے تک پہنـچ گئی ہے۔ یہ آمدنی قومی اوسط آمدنی کے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ دلی والوں کی آمدنی میں پچھلے کچھ برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چار برس قبل دلی والوں کی فی کس آمدنی چوالیس ہزار روپے تھی۔ دلی کی آمدنی میں تقریباً اسّی فیصد حصہ خدمات کے شعبے کا ہے۔ گو کہ ملکی سطح پر فی کس آمدنی میں اضافے کی اوسط دلی سے زیادہ ہے لیکن دلی والوں کی آمدنی تک پہنچنے میں باقی ملک کو ابھی کافی عرصہ درکار ہوگا کیونکہ’ہنوزدلی دور است‘۔

سنہ 1857 کی بغاوت کے 150 سال

1857 کی بغاوت میرٹھ سے شروع ہوئی تھی
ابھی تک مؤرخ یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ برطانوی تسلط کے خلاف سنہ 1857 کی بغاوت کو محض غدر کہا جائے یا اسے پہلی جنگ آزادی کا نام دیا جائے۔ فیصلہ جو بھی ہو اس واقعہ کے ڈیڑھ سو برس پورے ہونے پر ہندوستان میں اس واقعے کی یاد میں زبردست تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ دلی حکومت نے گزشتہ ہفتے وزیراعظم کو ان تقریبات کا خاکہ پیش کیا جو آئندہ برس کے پروگراموں کے لیئے تیار کیئے گئے ہیں۔

1857 کی بغاوت میرٹھ سے شروع ہوئی تھی اور وہاں سے فوجیوں نے دلی تک مارچ کیا اور بہادرشاہ ظفر کو ہندوستان کا بادشاہ مقرر کیا۔ اس بغاوت کے دوران دلی میں ہزاروں لوگ مارےگئے تھے۔ انگریزوں نے یہ بغاوت کچل دی تھی جس کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کا سوا تین سو سال کا دورِ بادشاہت اختتام کو پہنچا تھا اور برصغیر پر انگریزوں کا مکمل تسلط قائم ہوگیا تھا۔

انڈیا میں اس واقعے کو بڑے پیمانے پر منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایک مرحلے پر انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ طور پر سنہ1857 کے واقعہ کو منانے کی تجویز رکھی تھی لیکن یہ بات تجویز کے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔

یہاں تھوکنا منع ہے

اب سڑکوں پر تھوکنے والے کو سزا ملے گی
اگر آپ ممبئی میں سڑک پر تھوکتے ہوئے پکڑے گئے تو آپ کو اگلے ایک گھنٹے تک کوڑا صاف کرنے یا دیواروں پر سے پوسٹر وغیرہ ہٹانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن شہری ذمے داری کا احساس پیدا کرنے کے لیئے تھوکنے والوں، سڑک کے کنارے پیشاب کرنے والوں اور کوڑا پھینکنے والوں کو ایک گھنٹے کی کمیونٹی سروس کی سزا دینے کا ضابطہ وضع کر رہی ہے۔ ضابطے کے مطابق کتوں اورگائیوں کو بچا ہوا کھانا دینا بھی سزا کے دائرے میں آئے گا۔

میونسپل اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ سزا سے بچنا چاہیں گے ان کے لیئے پانچ سو روپے کے جرمانے کا متبادل ہے لیکن شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور صفائی کا رحجان پیدا کرنے کے لیئے جرمانے کی رقم میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ایڈز کے مریضوں کےساتھ تفریق

بیوی کے متاثر ہونے کی صورت میں شوہروں کا ساتھ دینے کا تناسب کم ہے۔
انڈیا میں ایڈز کے بارے میں زبردست بیداری پیدا کیئے جانے کے باوجود دفاتر میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں سے زبردست تفریق برتی جاتی ہے اور اکثر انہیں ملازمت سے استعفٰی دینے یا رضا کارارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہ انکشاف نیشنل ایڈز کنٹرول تنظیم کے زیراہتمام ایک مطالعے سے ہوا ہے۔ اس مطالعے کے مطابق 29 فیصد متاثرین کو قرض کی سہولیات نہیں دی جاتیں جبکہ 30 فیصد کو ان کی ملازمتوں میں ترقی نہیں دی گئی۔ 16 فیصد کو مستعفٰی ہونا پڑا جبکہ دس فیصد نے خود ہی ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا۔

اس مطالعے سے یہ بھی پتہ جلا ہے کہ ان مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتالوں میں بھی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ افراد کے بچوں کو بھی گھر کے حالات کے سبب اکثرگھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شوہرکے ایڈز سےمتاثر ہونے کی صورت میں بیوی بیشتر معاملوں میں ساتھ دیتی ہے جبکہ بیوی کے متاثر ہونے کی صورت میں شوہروں کا ساتھ دینے کا تناسب کم ہے۔

ممبئی دھماکےدلی ڈائری
میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک کی ہوم ڈلیوری
لالو پر تحقیقدلی ڈائری
لالو پر تحقیق اور جاسوسوں کی جاسوسی
دلی ڈائری
شہر ممنوعہ، ہاسٹل میں جرائم، ایڈز کیلیئے ٹماٹر
ہندوستانی لڑکیدلی ڈائری
ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور دلّی وہِیل
منموہن سنگھدلی ڈائری
مہنگائی، کرائے پر بیوی، نہرو پر مضمون اور کتے
دلّی ڈائری بجلیدلّی ڈائری
اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور شادی کا مسئلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد