تہلکہ کا تہلکہ، دلی کے وزیر، مسلم اور ملازمتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مودی پر دباؤ تہلکہ کے سٹنگ آپریشن کے بعد ایک بار پھر کانگریس سمیت تمام غیر بی جے پی جماعتیں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہيں۔ تہلکہ کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ میں جو باتیں دکھائی گئی ہيں وہ اس سے پہلے بھی کئي تحقیقات اور رپورٹوں میں کہی جا چکی ہيں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب مبینہ طور پر براہ راست ملوث اہم افراد اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے ویڈیو پر دکھائے دیے گئے ہیں۔ اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ گجرات فسادات کی تحقیقات کر رہے نانوتی شاہ تحقیقاتی کمیشن میں گجرات حکومت کی نمائندگی کرنے والے سرکاری وکیل کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گيا ہے کہ کمیشن کے جج مبینہ طور پر بی جے پی کے حامی ہيں۔ کمیشن پر پہلے بھی کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہوئی رہی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ وہ سٹنگ آپریشن کی ویڈیو دیکھنے کے بعد اس میں دکھائے گئے ٹیپوں کو دوبارہ طلب کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اہم شخصیات گھر میں رہیں
امریکی حراستی مراکز میں اذیتیں ہندوستان کے وزير اعظم منوہن سنگھ کی بیٹی امرت سنگھ امریکہ میں حقوق انسانی کی ایک تنظیم کے ساتھ کام کرتی ہيں۔ گزشتہ دنوں ان کی کتاب ’ایڈ منسٹریشن آف ٹارچر۔۔۔‘ شائع ہوئی جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ عراق کے ابو غریب حراستی مرکزی میں قیدیوں کو اذیتیں دینے اور ان پر مظالم ڈھانے کا معاملہ اکیلا ایسا معاملہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق غیر ممالک میں واقع امریکہ کے سبھی حراستی مراکز میں اذیتیں دینا اور مظالم ڈھانا عام ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کے لیے اطلاعات حاصل کرنے کے حق کے تحت ایک لاکھ سے زيادہ سرکاری دستاویز حکومت سے حاصل کی گئی تھیں اور کتاب میں ٹارچر اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے متعلق ایف بی ائی کی میل، تفتیشی ہدایات اور پوسٹ ماٹم کی رپورٹ جیسی سینکڑوں دستاویزات شامل کی گئی ہيں۔ پرائیوٹ سیکٹر میں بھی مسلمان نہيں
سرکاری اداروں اور شعبوں میں تو مسلمان پہلے سے ہی نا کے برابر ہیں۔ اب ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پرائیوٹ کمپنیوں میں بھی دلتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ملازمتوں میں زبردست تفریق برتی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف نام دیکھ کر ہی مسلمانوں اور دلتوں کی عرضیاں خارج کردی جاتی ہیں۔ یونیورسیٹی گرانٹس کمیشن کے چئرمین سکھدیو تھوراٹ نے اپنے ایک مطالعے میں پایا ہے کہ اگر آپ کے نام سے اعلی ذات ظاہر ہوتی ہے تو ملازمت کے امکانات بہت وسیع ہوجاتے ہيں اور اگر نام سے دلت ذات اور مسلم ہونے کا پتہ چلتا ہو تو ابتدائی مرحلے میں ہی عرضی رد ہو جاتی ہے۔ پرفیسر تھوراٹ کا کہنا ہےکہ پرائیوٹ سیکٹر میں یہ تفریق بالکل واضح ہےاور ملازمت کے پورے طریقے کار میں اس کا دخل ہے۔ تعلقات مضبوط کر رہے ہيں: پاکستانی سیمنٹ ہندوستان میں اس وقت تعمیرات کا زور ہے۔ تعمیراتی کمپنیوں کو سیمنٹ کی شیدید ضرورت ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں پاکستانی سمینٹ کا ایک بڑا بازار بن کر ابھرا ہے۔ تمام مشکلوں اور رکاوٹوں کے باوجود سیمنٹ کی تجارت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اور توقع ہے کہ اب سال کے اواخر تک ہندوستان افغانستان کی جگہ پاکستان کا سینمٹ خریدنے والا بڑا ملک بن جائے گا۔ پاکستان کی سیمنٹ منیو فیکچرنگ ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کا ٹارگٹ ہے ہندوستان کو سالانہ ساٹھ لاکھ ٹن سیمنٹ فروخت کیا جائے۔ پچاس کلوگرام کا پاکستانی سیمنٹ کا پیکٹ ہندوستان کو ایک سو چوالیس روپے میں ملتا ہے جو ہندوستانی سیمنٹ سے بہت سستا ہوتا ہے۔ ہندوستانی مارکٹ میں یہ سیمنٹ دو سو پچاس روپے تک میں بکتا ہے۔ | اسی بارے میں سی بی آئی کی گرفت فوج تک بھی 14 October, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:’ملا کی دوڑ اسمبلی تک‘15 April, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کون، بدلتا وقت اور مایاوتی03 June, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: کروڑ پتی مایاوتی، پلاسٹک کے نوٹ01 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی پارٹی اور پاسپورٹ بابا15 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:فوجی اڈے اور ٹیکس کا شکنجہ22 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: ایچ آئی وی ٹیسٹ اور سڑک حادثے26 August, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی تنخواہ اور دلی کا بوجھ09 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||