BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 October, 2007, 03:19 GMT 08:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی بی آئی کی گرفت فوج تک بھی

نریندر مودی
بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ایک حلقے میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ مسٹر مودی کو دِلی لایا جائے۔
مودی وزیر اعظم بننے کے اہل
ایک طرف نریندر مودی کے خلاف گجرات میں خود ان کی پارٹی کے بڑے بڑے رہنما کھل کر سامنے آگئے ہیں تو دوسری جانب بی جے پی کی مرکزی قیادت پوری طاقت سے ان کی حمایت کر رہی ہے۔

گزشتہ دِنوں دِلّی میں ایک تقریب میں مودی نےگجرات میں اپنی کامیابیوں کے بارے میں ایک کتاب کا اجراء کیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے سینیر رہنما اور سابق وزیر ارون شوری نے مودی کی انتظامی صلاحیت اور شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم بننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

شوری نے یہ بات پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اور سینیئر لیڈر ایل کے اڈوانی کی موجودگی میں کہی ۔بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ایک حلقے میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ مسٹر مودی کو ریاست کی سیاست سے نکال کر دِلی لایا جائے۔

بخوشی پٹتی بیویاں
 اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ آج بھی بیشتر مردوں کی پرورش اس تربیت کے ساتھ ہوتی ہے کہ بیوی کو پیٹنے میں کوئی برائی نہیں ہے جبکہ عورتوں کو بتایا جاتا ہے کا شوہر کے ہاتھوں پٹائی قابل قبول ہے۔
لیڈر شپ کی تربیت
ہندوستان کے ارکان پارلیمان اب کارپوریٹ کے طرز پرقیادت اور لیڈرشپ کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کررہے ہیں۔گزشتہ دنوں بارہ ارکان پارلیمان امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں لیڈرشپ کے ایک کورس میں حصہ لینے گئے۔ اس یونیورسٹی نے امریہ کو کئی صدور دیے ہیں۔

ہندوستانی ارکان پارلیمان قیادت کے پیشہ ورانہ کورس کی تربیت کے دوران امریکہ کے کئی سرکردہ دانشوروں اور سیاسی فلسفیوں سے تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ مختنف پالیسیوں اور پروگراموں پر بھی بحث و مباحثہ کریں گے۔

ان ارکان میں بی جے پی کے چندن مترا، کانگریس کے راشد علوی، نوین جندل اور سماج وادی پارٹی کے شاہد صدیقی شامل ہیں۔ان کے پروگرام میں واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے اہلکاروں اور صنعت کاروں سے تبادلۂ خیال بھی شامل ہے۔

کروڑ پتی جنرل
عام طور پر بد عنوانی سے دولت جمع کرنے کے معاملات میں اعلیٰ سرکاری افسروں اور کبھی کبھی سیاست دانوں کے نام آتے رہے ہیں لیکن گزشتہ دنوں سی بی آئی نے ایک ’کروڑ پتی‘ میجر جنرل کو اپنی گرفت میں لیا ہے۔

سی بی آئی نے میجر جنرل اور اور ان کی اہلیہ کی کم از کم بارہ املاک پر چھاپے مارے ہیں۔ تفتیشی ادارے کے مطابق بینکوں میں کروڑوں روپے کے ڈپوزٹ کے علاوہ دِلّی، یو پی، راجستھان اور ہریانہ میں کئی مکانوں، دوکانوں اور بڑے بڑے پلاٹوں کا پتہ چلا ہے ۔ سی بی آئی نے میجر جنرل کے خلاف چھاپے مارنے سے پہلے ان کے خاندانی پس منظر کی جانچ کی تھی اور یہ پتہ چلا تھا کہ فوج میں آنے سے قبل ان کے پاس کوئی خاندانی جائداد نہیں تھی۔

چلو چلو امریکہ چلو
 گزشتہ برس امریکی سفارتحانے نے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ویزے جاری کیے اور مجموعی طور پر چار لاکھ سات ہزار ہندوستانیوں نے امریکہ کا سفر کیا۔
سنگاپور کے لیے فضائی اڈہ
سنگاپور نے گزشتہ دنوں ہندوستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا جس کےتحت سنگاپور کی فضائیہ فیس دے کر ہندوستان کے بعض فضائی اڈوں کو استعمال کر سکے گی۔ یہ معاہدہ پانچ برس کے لیے ہے۔

ہندوستان میں حال ہی میں گوالیار کے بعد مغربی بنگال میں کلائی کونڈا کے مقام پر ایک فضائی اڈہ قائم کیا گیا ہے۔ یہ فضائی بیس غیر ملکی فصائیہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔ سنگاپور کے پاس جگہ کی کمی ہے اس لیے وہ کلائی کونڈا بیس کو اپنے آپریشنل مرکز کےطور پر استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ سنگاپور نے اسی طرح کے معاہدے آسٹریلیا، نیو زی لینڈ ، تائیوان اور امریکہ سے بھی کر رکھے ہیں ۔

اس معاہدے سے ہندوستان کو سنگاپور کی جدید ترین فضائیہ اور بالخصوص ایف سولہ جنگی طیاروں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا ۔

امریکہ چلو
ہندوستانیوں میں امریکہ کی چاہت لگتا ہے بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی سفارتخانے کی اطلاع کے مطابق گزشتہ برس اسی ہزار طلبہ تعلیم کے لیے امریکہ گئے جبکہ مزید پچاس ہزار نے درخواستیں دیں۔ تعداد کے لحاظ سے ہندوستانی طلبہ نے اب چینی طلبہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

گزشتہ برس امریکی سفارتحانے نے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ویزے جاری کیے اور مجموعی طور پر چار لاکھ سات ہزار ہندوستانیوں نے امریکہ کا سفر کیا۔
ہندوستان ان دس ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں سے سب سے زیادہ لوگ امریکہ جاتے ہیں ۔

بیویوں پر تشدد

ہندوستان میں تقریباً چالیس فیصدشادی شدہ خو اتین کسی نہ کسی مرحلے پر اپنےشوہروں سے پٹتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ چون فی صد سے زیادہ خواتین مختلف بنیادوں پر شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کی پٹائی کو جائز سمجھتی ہیں۔

یہ انکشاف نیشنل فیملی ہیلتھ سروے تین کے جائزے میں کیا گیا ہے۔اس سروے میں ملک کی اٹھائیس ریاستوں میں سوا لاکھ خواتین سے تفصیلات حاصل کی گئی ہیں۔ سروے کے مطابق اکتالیس فیصد عورتوں نے کہا کہ اگر بیوی ساس سسر کی بے عزتی کرے تو شوہر کا اسے پیٹنا جائز ہے جبکہ پینتیس فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ اگر وہ گھر کے کام کاج نہ کریں اور بچوں کا خیال نہ رکھیں تو شوہر ان کی پٹائی کرنے میں حق بجانب ہے۔

جائزے کے مطابق پچھتر ہزار مردوں کے سروے میں اکیا ون فی صد مردوں نے بتایا کہ وہ ضرورت پڑنے پراپنی بیویوں کو پیٹنا صحیح سمجھتے ہیں۔ یہ جامع سروے انٹرنیشل انسٹی ٹیوٹ اف پاپولیشن اسٹڈیز کی نگرانی میں کیا گیا۔ جائزے کے انکشافات سے ادارے کے ماہرین سکتے میں ہیں ۔ اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ آج بھی بیشتر مردوں کی پرورش اس تربیت کے ساتھ ہوتی ہے کہ بیوی کو پیٹنے میں کوئی برائی نہیں ہے جبکہ عورتوں کو بتایا جاتا ہے کا شوہر کے ہاتھوں پٹائی قابل قبول ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد