BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 December, 2007, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مودی کا قد اور پارٹی میں گھبراہٹ

بی جے پی کا انتخابی نشان
مودی کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد سے خود بی جے پی کے اندر بھی بحث و مباحثے ہو رہے ہیں
مودی کا بڑھتا ہوا سیاسی قد

گجرات کے اسمبلی انتخابات قومی اہمیت اختیار کر گئے ہیں ۔اخبارات اور ٹیلی ویژن پر ہر جگہ اس پہلو پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں کہ گجرات اسمبلی کے انتخابات قومی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہونگے۔

بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مودی کی شکست ہوئی تو یہ صرف مودی کے لیے ہی نہیں بی جے پی کی قومی سیاست کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگی ۔ لیکن اگر مودی دوبارہ جیت گئے تو اس سے نہ صرف مودی کی پوزیشن مستحکم ہوگی بلکہ آنے والے دنوں میں وہ قومی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد سے خود بی جے پی کے اندر بھی بحث و مباحثے ہو رہے ہیں ۔ پارلیمانی انتخابات سے ڈیڑھ برس قبل گزشتہ ہفتے ایل کے اڈوانی کو اچانک وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنانے کااعلان کیے جانے کو بھی بی جے پی کی قومی قیادت میں اسی گبھراہٹ سے تعبیر کیا جا رہا ہے کہ اگر گجرات میں مودی منتخب ہوئے تو بی جے پی کے اندر کئی حلقوں کی جانب سے ان پر دلی کی سیاست میں سرگرم ہونے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔

چینیوں کا جواب نہیں

اس بار گجرات کے انتخابات میں ایک خاص بات یہ دیکھنے کو ملی کہ پوری ریاست میں ہر جگہ وزیراعلیٰ نریندر مودی کا ’ماسک‘ یعنی مکھوٹا فروخت ہوتا ہوا نظر آیا ۔مختلف انداز میں مودی کے ماسک لاکھوں کی تعداد میں ان کے حامیوں میں تقسیم کیے گیے تھے۔ مودی کے انتخابی جلسوں میں ہزاروں لوگ مودی کا مکھوٹا پہنے ہوۓ نظر آتے تھے ۔

مودی کے پلاسٹک کے مکھوٹے ہندوستان کی نہیں بلکہ کھلونے بنانے والی چین کی ایک کمپنی نے بنائے ہیں

دلچسپ بات یہ تھی کہ مودی کے پلاسٹک کے یہ ماسک یا مکھوٹے ہندوستان کی کسی کمپنی نے نہیں بلکہ کھلونے بنانے والی چین کی ایک کمپنی نے بنائے ہیں۔ ایک ہند نژاد امریکی نے ان مکھوٹوں کو چینی کمپنی سے بنوایا تھا۔

ہندوستان میں ترقی کے معاملے میں اکثر چین سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ لیکن چین ہندوستان سے کافی آگے نکل چکا ہے ۔ خود ہندوستان میں بھی چین کے الیکٹرانک کے سامان سے لے کر مودی کے مکھوٹے اور دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں تک چین کی بنی ہوئی دستیاب ہیں۔

افضل کی رحم کی درخواست پر یاد دہانی

وزارت داخلہ پارلیمنٹ پر حملے کے معاملے میں سزایاب محمد افضل گرو کی رحم کی درخواست پر دلی حکومت کی رائے جاننے کے لیے یاد دہانی کا ایک خط بھیجنے والی ہے۔

افضل کی اہلیہ تبسم نے گزشتہ برس اکتوبر میں رحم کی اپیل داخل کی تھی۔ جسے صدر مملکت نے اگلے روز ہی دلی کی ریاستی حکومت کے پاس بھیج دیا تھا۔ لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق دلی کی ریاستی حکومت کے نئے چیف سیکرٹری مقرر ہوئے ہیں ۔اس لیے وزارت داخلہ نے افضل کی رحم کی اپیل پر دلی حکومت کی رائے جاننے کے لیے حکومت کو یاد دہانی کاخط بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افضل گرو کو پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی افضل کو ابھی تک پھانسی نہ دیے جانے پر مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتی رہی ہے ۔

افضل گرو کی اہلیہ تبسم
افضل کی اہلیہ تبسم نے گزشتہ برس اکتوبر میں رحم کی اپیل داخل کی تھی

ہندوستانیوں کا سپر پاور

ہندوستانیوں کی غالب اکثریت یہ سوچتی ہے کہ ہندوستان 2020 تک ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا ۔

جرمنی کے ایک تحقیقی ادارے ’برٹلسمین اسٹفسٹنگ‘ کے ذریعے نو ملکوں میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق 72 فی صد ہندوستانیوں کا خیال ہے کہ آئندہ تیرہ برس میں ہندوستان ایک سپر پاور ہو گا ۔ 59 فی صد امریکی یہ مانتے ہیں کہ امریکہ کی عالمی لیڈر کی کی حیثیت برقرار رہے گی ۔ جبکہ صرف 39 فی صد چینی یہ سوچتے ہیں کہ آئندہ تیرہ برسں میں چین ایک سپر پاور ہوگا۔

ایک دلچسپ پہلو یہ کہ دوسرے ملکوں میں ایسے لوگوں کی تعداد صرف 29 فی صد ہے جو ہندوستان کو آئندہ تیرہ برسوں میں ایک سپر پاور کے طور پر دیکھتے ہیں ۔اس جائزے کے مطابق ہندوستان اقتصادی اور عالمی حیثیت کےاعتبار سے امریکہ ، چین ، روس ۔یوروپی یونین اور جاپان کے بعد چھٹے نمبر پر رہا ۔

پرائمری کے یہ ٹیچر، ماشا اللہ

ہندوستان میں سبھی تک تعلیم پہنچانےکے مقصد کے تحت جو مختلف اسکیمیں نافذ کی گئیں ان کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا ہے اور پرائمری اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے ۔ لیکن ان اسکولوں میں ٹیچروں کی تعلیمی اہلیت پر شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے ۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈ منسٹریشن کے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ابتدائی اسکولوں کے تقریباً سینتالیس لاکھ ٹیچرز میں نصف سے زیادہ ایسے ہیں جنہوں نے ہائر سکنڈری یعنی بارہویں درجے سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے ۔ اس مطالعے کے مطابق ایک تہائی ٹیچرز ایسے ہیں جو صرف دسویں پاس ہیں۔

اہم بات یہ کہ یہ صورتحال گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر، کیرالہ اور مغربی بنگال جیسی تعلیم میں آگے رہنے والی ریاستوں میں زیادہ بری ہے۔

بابری مسجد (فائل فوٹو)دلی ڈائری
مودی کے ستارے، بابری مسجد مقدمے کی سماعت
فائل دلی ڈائری
کانگریس کو مودی کا ڈر، بائیں بازو کا امتحان
فائلدلی ڈائری
فضا میں شراب، ہائی کمشنر کے گھر چوری
کشمیری خاتون(فائل فوٹو)دلی ڈائری
دفاعی سودے اور بلیک لسٹڈ کشمیری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد