BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 December, 2007, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مودی کے ستارے، بابری مسجد مقدمہ

بابری مسجد (فائل فوٹو)
نریندر مودی نےگجرات اسمبلی انتخاب کو ہندو بمقابلہ ’دہشت گرد‘ میں تبدیل کردیا
مودی کے ستارے عروج پر

گجرات میں انتخابی مہم کے دوران کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے وزیر اعلی نریندرمودی کو ’موت کا سوداگر‘ کہے جانے کے بعد اسمبلی انتخابات میں اچانک گرمی پیدا ہوگی ہے۔

مودی نے اس کے جواب میں، سہراب الدین جیسے ’ دہشت گردوں‘ کے قتل کو جائز ٹہرانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتانے کی کوشش کی صرف وہی گجرات کے ہندوؤں کو ’اسلامی شدت پسندوں‘ سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ مودی کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برس میں مسلم دہشت گردوں نے ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ ہندوستانیوں کو قتل کیا ہے لیکن کانگریس کی مرکزی حکومت پارلمینٹ پر حملہ کرنے والے سزا یافتہ دہشت گرد افضل گرو کو پھانسی پر نہیں لٹکا سکی۔

نریندر مودی نے ایک بار پھر گجرات کے انتخابات کو بہت خوبصورتی سے ہندو بمقابلہ مسلم دہشت گرد اور گـجراتی بمقابلہ غیر گجراتی میں تبدیل کردیا ہے۔ فی الحال مودی کا ستارہ عروج پر نظر آرہا ہے لیکن کانگریس کی قیادت اس بار کافی پر اعتماد ہے۔

یہ کیسا انصاف ہے؟

چھ دسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کی برسی تھی۔ اس بار بھی ہندوؤں کی کچھ انتہا پسند تنظیموں کے کچھ کارکنوں نے اس دن کو ’یوم شجاعت‘ کے طور پر منانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی طرف توجہ بھی نہیں دی۔

بابری مسجد (فائل فوٹو)
چھ دسمبر 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا

ادھر بابری مسجد کے انہدام کے پندرہ برس بعد گزشتہ دنوں انہدام کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی۔ انہدام کا ایک مقدمہ رائے بریلی اور ایک لکھنؤ کی عدالت میں درج ہے۔ پندرہ برس بعد اس کی سماعت شروع ہوئی ہے تو اس مقدمے کا انجام کیا ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

انسانی سمگلنگ کا ایک منافع بخش کاروبار

غیر قانونی طور پر لوگوں کو امریکہ اور یوروپی ممالک پہنچانےکا کاروبار اتنا منافع بخش ہے کہ اس کے لالچ میں بظاہر کئی با اختیار لوگ بھی آچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں تفتیشی ادارے سی بی آئی نے فوج کے ایک بریگیڈیر اور ایک لفٹینٹ کرنل کی بیوی کو انسانی سمگلنگ کے معاملے میں حراست میں لے لیا۔

فوج کے بعض افسران فوجی بینڈ کو جاری کیے جانے والے مخصوص ’ سفید پاسپورٹ ‘ میں دھاندلی کر کے دیگر افراد کو خطیر رقم لے کر یوروپ پہنچاتے تھے۔

فائل فوٹو
ہندوستان میں انسانی اسمگلنگ کا کاروبار کافی منافع بخش مانا جاتا ہے

اس طرح کے ایک ديگر واقع میں گزشتہ دنوں ممبئی کی ایک ایر ہوسٹس کی گرفتار ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کاروبار میں اتنا پیسہ ملتا ہے کہ اچھے خاصے لوگ بھی پیسے کے لالچ میں آکر غیر قانونی فعل میں ملوث ہوجاتے ہیں۔

’را ‘ اور ’ آئی بی میں ہلچل‘

کٹھمنڈو باہر کی دنیا میں صرف سیاحت کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن مقامی صحافیوں دانشوروں اور سیاسی حلقوں میں یہ مختلف بیرونی ’ایجنسیوں ‘ کی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے۔

نیپال کے دارالحکومت میں سی آئی اے، ایم آئی فائیو، آئی ایس آئی اور را انٹیلی جینس بیورو کافی سرگرم ہیں۔

اطلاع کے مطابق ہندوستان کے را اور انٹیلیجنس بیورو کا ہندوستان کے باہر سب سے بڑا مرکز کٹھمنڈو میں ہی ہے۔ان تمام ایجنسیوں کی سرگرمیوں سے دانشوروں اور سیاسی حلقوں میں کافی تشویش رہی ہے لیکن اب جب کہ شاہی نظام اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک مکمل جمہوری نظام کے قیام کا آثار نظر آرہے ہیں۔ کٹھمنڈو میں بیرونی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کے بارے میں بے چینی بڑھنے لگی ہے۔

گزشتہ دنوں نیپال کے ایک ہفتہ روزہ اخبار نے کٹھمنڈو میں واقع ہندوستانی سفارتخانے میں تعینات ’را ‘ اور انٹیلی جنس بیورو کے اعلٰی افسروں کے نام اور انکے عہدے وغیرہ کی تفصیلات شائع کردیں۔ خفیہ اہلکاروں کے نام سامنے آتے ہی ان اداروں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ہندوستان میں اس بات پر تشویش ہے کہ اخبار نے بغیر سیاسی تحفظ اور ترغیب کے خفیہ ایجینسوں کی فہرست شائع نہیں کی ہوگی۔

یوپی: بندوقوں کی ریاست

بندوقوں کی فائل فوٹو
ریاست اترپردیش میں آج بھی بندوق اور پستول رکھنا سماجی حیثیت مانا جاتا ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈّز بیورو کے مطابق گزشتہ برس ہندوستان میں 556 افراد لائسنس یافتہ بندوقوں سے قتل ہوئے تھے ان میں 257ہلاکتیں صرف اترپردیش یعنی یوپی میں ہوئی تھیں۔

یو پی میں نو لاکھ سے زیادہ لائسنس یافتہ بندوقیں اور پستول موجود ہیں۔

ترقی کے اعتبار سے یہ ملک کی بدترین ریاستوں میں شامل ہے یہاں اب بھی بندوق اور پستول لے کر چلنا سماجی حیثیت اور دبدبے کا حصہ مانا جاتا ہے۔

کانپور میں سب سے زیادہ لائسنس یافتہ بندوقیں ہیں جن کی تعداد دو لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کے مطابق اس وقت تقریباً پچاس ہزار مزید درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔

پولیس کے اندازے کے مطابق ریاست میں بغیر لائسنس بندوقوں اور پستولوں کی تعداد لائسنس والی بندوقیں بہت زیادہ ہیں۔ گزشتہ برس تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار غیر قانونی بندوقیں برآمد کی گئی تھیں۔ 2005 میں اترپردیش میں 1187 افراد غیر قانونی بندوقوں سے قتل کیے گئے تھے۔

فائل فوٹودلی ڈائری
نیا میزائل، القاعدہ اور پاکستانی ہونے کا مسئلہ
فائل دلی ڈائری
کانگریس کو مودی کا ڈر، بائیں بازو کا امتحان
فائلدلی ڈائری
فضا میں شراب، ہائی کمشنر کے گھر چوری
کشمیری خاتون(فائل فوٹو)دلی ڈائری
دفاعی سودے اور بلیک لسٹڈ کشمیری
انڈیادلی ڈائری
تہلکہ کا تہلکہ، دلی کے وزیر، مسلم اور ملازمتیں
اسی بارے میں
بابری کمیشن، پھر توسیع
02 September, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد