نیا میزائل، القاعدہ اور پاکستانیوں کا مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئے انٹرسپٹرمزائیل کا تجربہ عنقریب ہندوستان آئندہ چند دنوں میں کسی حملہ آور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے ایک نئے انٹر سپٹر میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے۔ یہ میزائل امریکہ کے پیٹریاٹ میزائل ’پی اے سی- تھری‘ ساخت کا ہے اور یہ حملہ آور میزائل کو زمین کی سطح سے پندرہ سے بیس کلو میٹر کی اونچائی پر تباہ کرے گا ۔ گزشتہ برس نومبر میں ہندوستان نے اسرائیل کے’ایرو - ٹو‘ساخت کے انٹر سپٹر مزائیل کا تجربہ کیا تھا ۔ اس تجربے میں مخالف سمت سے آتے ہوئے ایک پرتھوی میزائل کو پچاس کلو میٹر کی اونچائی پر تباہ کیا گیا تھا۔ اب جس میزائل کا تجربہ کیا جا رہا ہے اس میں’ایرو- ٹو' اور ’پیٹریاٹ ‘ دونوں کی خصوصیات شامل ہیں ۔ یعنی یہ میزائل زمین کے مدار کے اندر اور باہر دونوں جگہ حملہ آور میزائل کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ مہنت نے القاعدہ کا سہارا لیا ایودھیا کے متنازعہ رام مندر ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کو گزشتہ دنوں ڈاک سے ایک خط ملا جس کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ القاعدہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے ۔ اس خط میں لکھا تھا ’ اپنے تمام شاگردوں اور پیروکاروں کے ساتھ اسلام قبول کر لو ورنہ موت کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘ یہ خط اتر پردیش میں دس دن قبل ہونے والے سیریل بم دھماکوں سے ایک روز قبل موصول ہوا تھا۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ یہ خط ریاست کے ہردوارشہر سے بھیجا گیا تھا۔ مزید تفتیش کے بعد پولیس نے مہنت گوپال داس کے ایک شاگرد کو گرفتار کیا ہے ۔ شاگرد نے پولیس کو بتایا کہ اس نے مہنت کے کہنے پر یہ خط لکھا تھا۔ مہنت اس بات پر دکھی تھے کہ سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشر کے رہنماؤں ، اشوک سنگھل اور پروین توگاڑیا کو انتہائی سخت یعنی’ زیڈ‘ زمرے کی سکیورٹی ملی ہوئی ہے جبکہ انہیں اس سے ہلکے درجے کے ’ایکس‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس خط کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ مہنت جی بھی زبردست پہرے والے زمرے میں آجائیں ۔
پاکستانیوں کے لیے ہوٹل نہیں پاکستان کی خاتون صحافی نادرہ مشتاق ہند – پاک کرکٹ سیریز کی کوریج کے لیے دلی آئیں۔ قیام کے لیے انہوں نے سیاحوں میں مقبول پہاڑ گنج کا علاقہ چنا ۔ نادرہ ہوٹل ڈی ہولی ڈے ان گئیں۔ وہاں کمرے کے کرائے سے لے کر تمام سہولیات وغیرہ پر بات ہو گئی۔ ہوٹل کے سٹاف نے انہیں کمرہ بھی دکھایا ۔ لیکن نادرہ نے جیسے ہی اپنا پاسپورٹ استقبالیہ پر دیا، اسی وقت سب کچھ بدل گیا۔ سٹاف نے کہا ’میڈم یہاں کوئی روم خالی نہیں ہے اور ہم پاکستانیوں کو کمرہ نہیں دیتے ۔‘ حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ پاکستان کے ایک سرکردہ فلم ساز کے ساتھ ممبئی میں پیش آیا تھا لیکن اس خبر کے میڈیا میں آنے کے بعد ہوٹل نے معافی مانگ لی تھی۔ جنگی جہاز کی جنگی قیمت ہندوستان نے روس کے جنگی جہاز ایڈمرل گورشکوف کو خریدنے کا روس سے سودا کیا تھا ۔ یہ معاہدہ 2004 میں واجپئی حکومت کے دور میں ہوا تھا اور اس و قت اس کی قیمت 974 ملین ڈالر طے ہوئی تھی ۔اس طیارہ بردار جہاز میں ہندوستان کی ضروریات کے مطابق اندرونی تبدیلیاں کی جانی تھیں اور اگست 2008 تک اسے ہندوستان کے سپرد کیا جانا تھا۔ لیکن اب اچانک روس نے اس کی قیمت دوگنے سے بھی زیادہ کر دی ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ روس نے سرکاری طور پر ہندوستان کو مطلع کیا ہے کہ گورشکوف خریدنے کے لیے اسے مزید ایک ارب بیس کروڑ ڈالر دینے ہونگے ۔ ہندوستان کو قیمت میں اضافے کی توقع تھی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ روس چار سو ملین ڈالرتک اضافی قیمت مانگ سکتا ہے ۔ لیکن اسے دوگنی قیمت کی توقع نہیں تھی ۔ ہندوستان گورشکوف کے لیے ساڑھے چار سو ملین ڈالر پہلے ہی ادا کر چکا ہے ۔ اسے ہر حالت میں 2010 تک یہ جنگی جہاز چاہئے کیونکہ بحریہ کا سب سے اہم جنگی جہاز آئی این ایس وراٹ پہلے ہی اپنی مدت ختم کر چکا ہے اور اسکی جگہ جدید جہاز رکھنا ہو گا ۔
رزرو سیٹوں کی تعداد میں اضافہ ہندوستان میں تمام اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔شمال مشرق کی چار ریاستوں اور جموں کشمیر کو چھوڑ کر پورے ملک کے 3726 اسمبلی حلقوں اور 518 پارلیمانی حلقوں میں نئی حد بندی کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔ اور اگر ان کا نفاذ عمل میں آتا ہے تو پارلیمنٹ میں دلتوں کے لیے رزرو سیٹوں کی تعداد 78 سے بڑھ کر 84 ہو جائے گی ۔ اسی طرح قبائل کے لیے مخصوص نشستوں میں بھی چار سیٹوں کا اضافہ ہو گا اور وہ 38 سے 42 پر پہنچ جائیں گی ۔ نئی حد بندی کے نفاذ کے بعد ریاستی اسمبلیوںمیں دلت سیٹوں کی تعداد 553 سے 610 ہو جائے گی۔ نئی حد بندی سے نہ صرف حلقوں کی جغرافیائی حدود بدلیں گی بلکہ حلقوں میں آبادی کی مختلف برادریوں کے تناسب میں بھی فرق آسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں تہلکہ کا تہلکہ، دلی کے وزیر، مسلم اور ملازمتیں28 October, 2007 | انڈیا دلی بہترین شہر،اسرائیلی ماہرین کشمیر میں30 September, 2007 | انڈیا کیا ہندوستان میں ایسا ممکن ہے؟ 29 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی پارٹی اور پاسپورٹ بابا15 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی سادگی، مہنگی کاریں08 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||