سست رو معیشت اور دہشتگردی کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی انتخابی ایجنڈا حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی نے اس برس کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات اور آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے اپنی مہم شروع کردی ہے۔ اس مہم کا سب سے اہم موضوع دہشت گردی ہے۔ اس موضوع پر بی جے پی اور حکمراں کانگریس پارٹی کے درمیان زبردست ٹکراؤ شروع ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں بی جے پی کے حامیوں نے مدھیہ پردیش میں کانگریس کے دفتر پر ایک پوسٹر چسپاں کر دیا جس میں پارلمینٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو کی تصویر تھی اور اس پر لکھا تھا کہ کانگریس افضل کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کے جواب میں کانگریس کے حامیوں نے بی جے پی کے دفتر پر ایک پوسٹر لگایا جس میں مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور شیخ عمر سعید کی تصویریں تھیں اور اس میں لکھا تھا کہ انہيں کس نے رہا کیا تھا؟ بنگلور اور گوا شدت پسندوں کے نشانے پر گزشتہ سنیچر کو پولیس نے ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ یہ شدت پسندوں کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے جو بنگلور کو نشانہ بنانے کی تاک میں تھا۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس گروہ نےگوا کے ساحل کا کئی بار جائزہ لیا تھا اور وہ انڈو نیشیا کے بالی کے طرز کا حملہ کرنے والے تھے لیکن مقامی نیٹ ورک نہ ہونے کے سبب کامیابی نہيں مل سکی۔ معیشت کی ترقی میں سست روی
گزشتہ دو برس میں ہندوستان میں اقتصادی اصلاحات کا عمل سست رہا ہے۔اس مدت میں مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے بینکوں سے لین دین کی شرح سود میں زبردست اضافہ کیا اس کے نتیجے میں متوسط طبقہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اب جو اندازے سامنے آرہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت گزشتہ برسوں کے مقابلے اس بار کم رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔ آئندہ برس پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہيں اور اس مہینے کے اواخر میں عام بجٹ پیش کیا جانے والا ہے۔ دیہی آبادی اور متوسط طبقے پر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں حکومت اس بجٹ میں متعدد ’پاپولر‘ یعنی خوش کرنے والے اقدامات کا اعلان کرنے والی ہے۔ کانگریس واجپئی حکومت کی غلطی کو دہرانا نہيں چاہتی۔ واجپئی حکومت نے اقتصادیات پر اچھی کارکردگی دکھائی تھی لیکن آخری برسوں میں متوسط طبقہ اور دیہی آبادی اصلاحی عمل سے متاثر ہوئی تھی اور جب تک حکومت کوئی قدم اٹھاتی اسے اس طبقے نے اقتدار سے ہی ہٹا دیا تھا۔ امریکہ کا اثر
لیکن اب یہ حالات ہيں کہ دبئی برج بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایم آر نے اپنے شیئر لانچ کیے لیکن دوبار قیمتيں کم کرنے اور تاریخیں بڑھانے کے باوجود ستر فی صد سے زیادہ شیئر فروخت نہيں ہو پائے۔ بالآخر کمپنی نے اپنے حصص بازار سے واپس لے لیے۔ اس کے علاوہ کم از کم بارہ کمپنیوں نے بھی اپنے حصص کی فروخت پر روک لگا دی ہے۔ ٹیکس کلیکشن میں مسلسل اضافہ |
اسی بارے میں ایڈوانی،مودی نشانے پر اور دفتر میں رومانس 03 February, 2008 | انڈیا مودی کے ستارے، بابری مسجد مقدمہ09 December, 2007 | انڈیا فضا میں شراب، سپر کمپیوٹر18 November, 2007 | انڈیا دلی بہترین شہر،اسرائیلی ماہرین کشمیر میں30 September, 2007 | انڈیا منموہن کی کار،اجمیر کا نذرانہ20 May, 2007 | انڈیا اترپردیش الیکشن اور شاہی عمارتیں13 May, 2007 | انڈیا لاپتہ غیرملکی، جج کا تبادلہ اور لوڈشیڈنگ06 May, 2007 | انڈیا ٹریلین ڈالر معیشت، ان چاہی کالز پر روک29 April, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||