سمجھوتہ کی برسی اور را کی مصیبت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی انتخابات کی تاریخی کوریج گزشتہ ہفتے پاکستان کے پارلیمانی انتخابات تو تاریخی اہمیت کے تھے ہی، ہندوستان میں ان کا کوریج بھی تاریخی نوعیت کا تھا۔ پاکستان کا یہ پہلا ایسا انتخاب تھا جس کی کوریج ہندوستان میں وسیع پیمانے پر ہوئي۔ ہندوستان سے درجنوں ملکی اور غیر ملکی صحافی پاکستان گئے اور وہاں کے بڑے بڑے شہروں اور حلقوں سے انتخابات اور ان سے متعلق خبریں اور تبصرے شائع اور نشر کیے۔ پاکستان کے انتخابات کے بارے میں ہندوستان میں اس بار جتنی دلچسپی دیکھنے کو ملی اتنی پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ کم از کم دس ٹی وی چینل پاکستان سے براہ راست خبریں نشر کر رہے تھے۔ انتخابات کی اس گہما گہمی کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی بحالی کے اقدامات پر بات چيت بھی جاری رہی۔ گزشتہ ہفتہ دونوں ملکوں نے پروازوں کی تعداد میں ڈھائی گنا اضافہ کرنے کے بعد بس سروس بھی بہتر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے جو فیصلے کیے گئے ان میں دلی لاہور بس کو ہفتے میں دو کے بجائے تین بار چلانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ ہر ٹرپ میں رٹرن ٹکٹ کی تعداد بھی بڑھائي گئی ہے۔ ’را ‘ کی مصیبت پچھلے کچھ عرصے سے ہندوستان کی خارجی خفیہ سروس ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ یعنی ’را‘ اپنے اہلکاروں پر جاسوسی اور بدعنوانی کے الزامات سے بدنام ہوئی ہے۔ پھر پے در پے کئی کتابوں نےاس خفیہ تنظیم کے طریقہ کار، کارگردگی اور صلاحیت پر سوالیہ نشان لگائے اور ان کے سربراہ کی صلاحیت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں شکوک ظاہر کیے گئے ہیں۔ بعض اخبارات نے لکھا ہے کہ ان کی صلاحیت کے بارے میں شکوک اتنے بڑھ گئے ہیں کہ مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے را سے خفیہ معلومات کا تبادلہ بند کر دیا ہے۔ لیکن بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مسٹر چترویدی کے خلاف مغربی ایجنسیوں کا پراپیگنڈہ ہے کیونکہ وہ انہیں پسند نہیں کرتے ہیں۔ انتخابی بجٹ
29 فروری کو ملک کا عام بجٹ پیش کیا جانے والا ہے۔ رواں مالی سال میں ٹیکس کلکشن میں نہ صرف زبردست اضافہ ہوا ہے بلکہ براہ راست ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم بالواسطہ ٹکس سے پہلی بار تجاوز کرگئی ہے۔ وزیر خزانہ کا خزانہ توقع سے زيادہ بھرا ہوا ہے۔ آئندہ برس پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہيں اور کئي حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکس کی شرح گھٹائی جائے۔ ٹیکس گھٹے گا یا نہيں یہ تو 29 فروری کو ہی پتہ چلے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ انتخابات کے پیش نظر اس بحٹ میں متوسط طبقے، کسانوں اور مزدوروں کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور ہوگا۔ سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی رہائي نہیں ہندوستان اور پاکستان کی جیلوں میں سینکڑوں ایسے قیدی موجود ہيں جو اپنی سزاؤں کی مدت پوری کرنے کے کئي برس بعد بھی رہائی حاصل نہيں کرسکے ہیں۔ دونوں ہی ملکوں میں حقوق انسانی کی تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں ان افراد کی رہائي کے لیے کوششیں کرتی رہی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے پیچیدہ نظام کے سبب ان میں اکثر کامیابی نہي ملتی۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے ایک شخص نے پاکستان کی جیل میں قید اپنے بھائي گوپال داس کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی۔ گوپال داس مبنیہ طور پر 1984 میں بھٹک کر پاکستانی خطے میں چلے گئے تھے۔ ان پر جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلا اور انہيں 1986 میں عمر قید کی سزا ہوئی۔ ان کے بھائي کے مطابق سزا کی مدت 2005 میں پوری ہوگئی لیکن حکومت نے ان کی رہائی کے لیے سفارتی طور پر کوئی کوشش نہيں کی ہے۔ عرضی گزار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ گوپال داس نے میاں والی جیل سے ایک خط لکھا ہے۔ عرضی گزار نے عدالت سے درخواست کی ہےکہ وہ حکومت کو ہدایت کرے کے ان قیدیوں کی رہائی کے لیے سفارتی اقدامات کیے جائیں۔ عدالتِ عظٰمی نے حکومت کو نوٹس بھیجا ہے۔ سمجھوتہ دھماکے کی برسی
گزشتہ ہفتے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے کے ایک برس پورے ہوئے۔ گزشتہ برس اٹھارہ فروری کی رات دلی سے تقریباً سو کلو میٹر دور ہریانہ میں دیوانہ کے مقام پر ٹرین کے دوڈبوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 68مسافر مارے گئے تھے۔ بہت سی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی اور اس میں سے کم از کم 24 افراد کو مہرانہ کے مقامی قبرستان میں دفنا دیا گيا تھا۔ جہاں کتبوں پر نام کے بجائے نمبر لکھے ہوئے ہيں۔ مہلوکین کے بعض رشتہ دار اس واقعہ کی برسی پر پاکستان سے مہرانہ آئے۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے بم دھماکے کی تفتیش ابتدائی مرحلے پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس کے ذمہ دار کو ن تھے اس کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔ تفتیش کی کیا صورت حال ہے اور اس میں کوئی پیش رفت ہورہی یا نہیں یا تفتیش بالکل رکی ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں سست رو معیشت اور دہشتگردی کا خطرہ10 February, 2008 | انڈیا ایڈوانی،مودی نشانے پر اور دفتر میں رومانس 03 February, 2008 | انڈیا مودی کے ستارے، بابری مسجد مقدمہ09 December, 2007 | انڈیا فضا میں شراب، سپر کمپیوٹر18 November, 2007 | انڈیا دلی بہترین شہر،اسرائیلی ماہرین کشمیر میں30 September, 2007 | انڈیا منموہن کی کار،اجمیر کا نذرانہ20 May, 2007 | انڈیا اترپردیش الیکشن اور شاہی عمارتیں13 May, 2007 | انڈیا لاپتہ غیرملکی، جج کا تبادلہ اور لوڈشیڈنگ06 May, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||