کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری معاہدہ اور سیاسی بے یقینی مجوزہ ہند امریکہ جوہری معاہدہ حکمراں اتحاد کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی جوہری ادارے سے بات چیت جاری ہے، دوسری طرف امریکی حکومت بار بار متنبہ کر رہی ہے کہ وہ مذاکرات جلد مکمل کرے کیونکہ معاہدے کے لیے وقت نکلا جارہا ہے۔ اور ادھر دلی میں بائیں محاذ نے معاہدے کی مخالفت میں اپنی دھمکیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ دنوں تری پورہ کے اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو کی ریکارڈ تین چوتھائی کی اکثریت سے فتح نے ایک طرف بائیں محاذ کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں تو وہیں کانگریس کی حکومت کو اپنے رویے میں نرمی پیدا کرنی پڑی ہے۔ کمیونسٹ جماعتوں نے ایک بار پھر واضح طور پر دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت معاہدے کے لیے مزید قدم بڑھاتی ہے تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیگی۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ معاہدے کے لیے حکومت نہیں قربان ہونے دیں گے۔ دونوں ہی ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن ان دھمکیوں اور موقف میں ابہام سے ملک میں سیاسی بے یقینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکمراں کانگریس اب انتخابات کا موڈ بنا چکی ہے۔ جمعیت علماء ہند میں انتشار
ہندوستانی مسلمانوں کی اہم تنظیموں میں شمار کی جانے والی جمیعت علماء ہند میں زبردست پھوٹ پڑ گئی ہے۔ یہ تنظیم سابق صدر مرحوم اسد مدنی کے انتقال کے بعد تقریباً دو برس قبل مولانا ارشد مدنی کے صدر بننے کے بعد مسلسل دشواریوں کا شکار رہی ہے۔ مولانا ارشد کو ابتداء ہی سے عاملہ کی غالب اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن ان کی خدمات، بزرگی اور دیگر مصلحتوں کے سبب انہیں صدر بنا دیا گیا تھا لیکن رفتہ رفتہ بیشتر ارکان ان کے طریقہ کار سے ناخوش ہونے لگے۔ جمعیت کے بیشتر صوبائی اور مرکزی عہدیداران ان کے بھتیجے اور رکن پارلیمان محمود مدنی کے ساتھ ہیں۔ جمعیت علماء نے گزشتہ دنوں دلی میں مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ میں مولانا ارشد مدنی کو ہٹا کر ایک نیا صدر منتخب کر لیا۔ ورکنگ کمیٹی کا کہنا تھا کہ کہ وہ مولانا ارشد مدنی کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں۔ کمیٹی نے دارالعلوم دیو بند کے نائب مہتم قاری محمد عثمان کو نیا صدر بنایا ہے۔ مولانا محمود مدنی نےان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ تنظیم کی صدارت پر ان کی نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنظیم کے ایک خادم ہیں اور اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں چاہتے۔ مولانا محمود مدنی ایک فعال اور قدرے نوجوان مذہبی رہنما ہیں۔ وہ میڈیا میں بھی کافی مثبت نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے کم از کم دو بار دہشت گردی کے خلاف مذہبی علماء کی کانفرنس منعقد کرانے اور اسلام کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ میں جاسوس نہیں ہوں، کشمیر سنگھ پلٹ گئے
جاسوسی کے جرم میں پاکستان کی جیلوں میں پینتیس برس کاٹنے والے کشمیر نے جاسوس ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد اپنا بیان پلٹ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ جاسوس تھے۔گزشتہ دنوں انہوں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کر دیا۔ ابھی گزشتہ جمہ کو ہی انہوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ جاسوس تھے۔انہوں نے پریس کے سامنے یہ شکایت بھی کی تھی کہ کہ ان کی گرفتاری کے بعد حکومت اور ایجنسیوں نے ان کے گھر والوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ لیکن اب حکومت کی طرف سے ایک گھر اور اور مالی امداد کے اعلان کے بعد اچانک انہوں نے اپنا بیان بدل دیا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے حکومت اور ایجنسیوں کے دباؤ میں اپنا بیان بدل دیا ہے۔ کشمیر سنگھ نے کہا کہ وہ حکومت کے لیے کام کرتے تھے لیکن اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں رہائی دلانے والے پاکستان کے حقوق انسانی کے وزیر انصار برنی نے سنیچر کے روز کشمیر سنگھ سے ان کے بیان کے بارے میں وضاحت چاہی تھی۔ اسلحہ کے بعد اب اسرائیل کا دودھ
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ڈیڑھ برس قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور وہاں اسرائیلی قیادت کو بتایا کہ گجرات اسرائیلی سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین ریاست ہے۔ اسرائیل نے گجرات کا انتخابات اس لیے کیا کہ یہ دودھ کی پیداوار میں ملک میں سب سے آگے ہے۔ گجرات حکومت نے مہسانہ ضلع میں اسرائیلی فرم ایلبٹ امیجنگ کو تقریباً ڈیڑھ سو ہیکٹر آراضی الاٹ کی ہے۔اطلاعات کے مطابق ایلبٹ کمپنی دو مرحلوں میں اسرائیل سے اعلی نسل کی دس ہزار گائیں درآمد کرےگی۔ کمپنی کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی گائیوں کے اوسط آٹھ نو لیٹر دودھ کے مقابلے اسرائیل کی گائیں روزانہ تیس لیٹر تک دودھ دیتی ہیں۔ |
اسی بارے میں انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری16 July, 2006 | انڈیا ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور وی آئی پی سکیورٹی11 June, 2006 | انڈیا اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور انٹر نیٹ07 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||