بنگلہ دیشیوں کی مصیبت اور پی ایم کے دوست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
13 مئی کے جے پور دھماکوں کے سلسلے میں پولیس ابھی تک کوئی ٹھوس سراغ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ دنوں دلی پولیس نے محمد اقبال عرف عبدالرحمان نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ۔پولیس کا دعویٰ ہے اقبال شدت پسند تنظیم حرکت المجاہدین اسلامی کا رکن ہے اور اسے جے پور دھماکوں کی جانکاری تھی ۔پولیس کے مطابق اقبال یو پی، دلی اور سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں میں مطلوب تھا۔ جے پور کے دھماکوں کے بعد راجستھان، مہاراشٹر، اتراکھنڈ اور دلی جیسی ریاستوں میں پسماندہ بستیوں میں رہنے والے بنگالی بولنے والے مسلمانوں پر مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تلاش کے نام پر بنگالی مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان ریاستوں میں لاکھوں بنگالی کام کر رہے ہیں۔ اور اس وقت ہر جگہ ان کی برادری میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان غریب بنگالیوں کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ مغربی بنگال کی مارکسی حکومت نے اپنے شہریوں پر ہونے والی زیادتی کے خلاف ایک بار بھی آواز نہیں اٹھائی ہے ۔ پٹرول کی قیمت گلے کا پھندہ
پٹرول کی قیمت فی بیرل 135 ڈالر تک پہنچ جانے سے یوں تو امریکہ جیسے امیر ترین ملک میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے لیکن ہندوستان میں اس کی سیاسی قیمت دوسرے ملکوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ پٹرول کی قیمت حکومت کے گلے کا پھندہ بن گئی ہے۔ ہندوستان میں حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود افراط زر کی شرح قابو میں نہیں آرہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے تو صورتحال انتہائی خراب کر دی ہے ۔ پٹرولیم کی وزارت نے گوشتہ دنوں وزیر اعظم سے سفارش کی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں دس روپے اور ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جائے۔ بین الاقوامی قیمتیں بڑھنے سے تیل کمپنیون کو تقریبآ چھ سو کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ آئندہ ایک روز میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے لیکن شاید اس حد تک نہیں جتنے کی سفارش کی گئی ہے۔ آئندہ مہینوں میں کئی ریاستوں میں انتخاب ہونے والے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کے داموں میں زبردست اضافے سے حکومت پہلے ہی پریشان ہے۔ لیکن تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ حکومت سخت مشکل میں ہے۔ وزیر اعظم کے بچپن کے دوست
ان دنوں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بپن کے ایک دوست اور کلاس میٹ راجہ محمد علی ان سے ملنے دلی آئے ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق منموہن سنگھ کے آبائی گاؤں سے ہے۔ وہ پرائمری اسکول میں ایک ساتھ ہوا کرتے تھے۔ دونوں کی ملاقات 1947 کے بعد نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ماضی میں ایک دو بار خط و کتابت ہوئی ہے۔ راجہ محمد علی اپنےساتھ گاؤں کی مٹی اور ایک بوتل میں وہاں کا پانی لائے ہیں۔ راجہ محمد علی اپنے ساتھ منموہن سنگھ کا درجہ چار تک کا رپورٹ کارڈ بھی لائے ہیں۔ سیاست کی پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے مسٹر سنگھ بھی بے فکری کے زمانے کے اپنے دوستوں سے ملنے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ان حالات میں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسٹر سنگھ کا پرائمری کا رپورٹ کارڈ ان کی موجودہ کارکردگی سے کہیں بہتر ہے۔ انٹرنٹ کے استعمال میں اضافہ
ہندوستان میں انٹرنٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریبآ پانچ کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں چار کروڑ شہری علاقوں اور نوے لاکھ انٹر نٹ استعمال کنندگان دیہی علاقوں میں ہیں ۔ آن لائن تحقیقی اور مشاورتی فرم جکسٹ کنسلٹس نے پورے ملک میں 40 شہروں اور 160 گاؤں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کاجائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ شہری علاقوں میں ہر دس میں سے ایک شہری اب ’کنکٹڈ‘ ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے تین فی صد زیادہ ہے ۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ستر فی صد صارفین ہندوستانی زبانوں میں نیٹ پر لاگ کرتے ہیں ۔انگریزی کا استعمال کرنے والوں کا فی صد 28 ہے ۔ گزشتہ برس ان کی تعداد 41 فی صد تھی۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں خواتین کی تعداد 20 فی صد سے بھی کم ہے۔ 51 فی صد نیٹ صارفین ایسے ہیں جو بڑی بڑی کمپنیوں میں ملازم ہیں۔ جائزے کے مطابق سب سے زیادہ نیٹ کا استعمال جنوبی ہندوستان میں ہے اور سب سے کم ملک کی مشرقی ریاستوں میں ہے۔ بیماریوں پر 237 ارب ڈالرخرچ ہونگے
سگریٹ نوشی،مرغن کھانےاور فاسٹ فوڈ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہندوستانیوں کو آئندہ سات برس میں مجموعی طور پر 237 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔ عالمی تنظیم صحت اور عالمی اقتصادی فورم کی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے غیر صحت مند طرز زنگی اور غلط کھانے کے سبب دل کی بیماری، فالج ، ذیابیطس اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو گا ۔ یہ سبھی بیماریاں دھیرے دھیرے بڑھتی ہیں اور طویل عرصے کی ہوتی ہیں۔ اے سے لوگوں کی کمائی پر خاصا اثر پڑے گا ۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 تک ان بیماریوں پر مجموعی طور پر 237 ارب ڈالر خرچ ہونگے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بیماریوں سے ہندوستانیوں کو 2005 میں تقریباً نو ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ 2015 میں یہ اخراجات بڑھ کر 54 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں سے پاکستانی شہریوں کو مجموعی طور پر تقریباً 31 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔ انفرادی طور پر ہر برس پاکستان میں چھ ارب روپے ان بیماریوں کے علاج اور ان سے دیگر امورپر خرچ ہونگے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے چین کی حالت اس سے بھی زیادہ بری ہو گی اور وہاں بیماریوں کے علاج پر 2015 تک 550 ارب ڈالرسے زیادہ خرچ ہونگے۔ |
اسی بارے میں عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||