عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدلیہ میں مزید شفافیت پر زور گزشتہ کئی ہفتوں سے ججوں کی تقرریوں میں شفافیت لانے اور ان کے اثاثوں وغیرہ کی تفصیلات کو عام کرنے جیسے سوالوں پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز ابھی تک عدلیہ کو معلومات کے حق یعنی آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لیکن قانونی ماہرین اور متعدد سرکردہ اراکینِ پارلیمان عدلیہ کو بھی آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کے حق میں ہیں۔ عدلیہ میں مزید شفافیت لانے کی بحث کے دوران بار کونسل آف انڈيا نے وکلاء کے درمیان ملک گیر سطح پر ایک سروے شروع کیا ہے جس میں بہت سے سوالات کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی شامل ہيں کہ کیا عدلیہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہورہی ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو اسے کیے دور کیا جائے۔ 36 سوالات پر مشتمل اس سروے میں ججوں کی تقرریوں کے خفیہ طریقہ کار کے بارے میں سوال کیے گيے ہیں۔ بار کونسل کے صدر کا کہنا ہےکہ اگر اس سروے سے عدالت کو توہین ہوتی ہے تو وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی جماعتیں آر ٹی آئی کے دائرے میں سیاسی جماعتوں کو کتنا چندہ کہاں سے ملا! ان کے پاس کتنا پیسہ اور اثاثہ ہے ؟ انہوں نے کس طرح سے فنڈ کا استمعال کیا؟ یہ سبھی تفصیلات اب ایک عام آدمی ملک کی سیاسی جماعتوں سے حاصل کرسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں سنٹرل انفارمیشن کمینشن نے جمہوری اصلاحات کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے درخواست پر یہ فیصلہ سنایا کہ شفافیت کے تقاضے کے تحت سیاسی جماعتوں کو اپنے فنڈ کی تمام تفصیلات عوام کو فراہم کرنی ہوں گی۔ فوجی ساز ور سامان کا سب سے بڑا ٹینڈر
ٹینڈر کے جواب میں روس، سویڈن، فرانس اور امریکہ کی چھ کمپنیوں نے اپنے اپنے جنگی طیاروں کی تفصیلات وزارت دفاع کو پیش کر دی ہیں۔ ان کمپنیوں میں امریکہ کی لاک ہیڈ کمپنی بھی شامل ہے جس نے ایف 16 آئی این طیارے کی تفصیلات دی ہیں جو بقول اس کے ہندوستانی فضائیہ کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گيا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے ماہرین سبھی کمپنیوں کی پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یورینیم کی اسمگلنگ گزشتہ دنوں پولیس نے میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ کے نزیک پانچ افراد کو گرفتار کیا جو یورینیم فروخت کررہے تھے۔ اخبارات میں شائع اطلاعات کے مطابق یہ پانچوں مقامی باشندے 26 لاکھ روپے میں ایک کلوگرام یورینیم پولیس کے ایک خفیہ ایجنٹ کے ہاتھ فروحت کرنے آئے تھے جو ان سے ایک خریدار بن کر ملا تھا۔ یورینیم کے پیکٹ پر اٹامک انرجی ڈپارٹمنٹ کی مہر لگی ہوئي تھی۔ پولیس کے مطابق یہ افراد شمالی مشرقی ریاستوں میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کے ہاتھوں یورینیم فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میگھالیہ میں بڑی مقدار میں یورینیم موجود ہے۔ پولیس نے ضبط شدہ یورنیم کی جانچ کے لیے اسےگوہاٹی کی لیبارٹری میں بھیجا ہے۔ کم عمری میں شراب نوشی
نشے میں ڈرائیونگ کے لیے عمر قید کی سزا شراب کے نشے میں موٹر گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے حادثات اور اموات کے پس منظر میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے گذشتہ دنوں سفارش کی ہے کہ اس طرح کے حادثوں میں ملوث افراد کو عمر قید کی سزا دی جائے۔ پارلیمانی کمیٹی نے مشورہ دیا ہے کہ شراب کے نشے میں اگر کوئی شخص دوسری بار کوئي ایکسیڈینٹ کرے اور اس کے سبب کسی کی موت واقع ہو تو ایسے شخص کو عمر قید تک کی سزا دی جانی چاہیے۔حکومت اس سفارش پر غور کررہی ہے۔ جیب خرچ یا تنخواہ؟ اب وہ زمانے گئے جب سو روپے میں کام چل جاتے تھے۔ نوعمروں کی جیب خرچ پر والدین اب ہزاروں خرچ کر رہے ہيں۔ ایوان صنعت’ایسوچیم‘ کے ایک سروے کے مطابق گزشتہ برسوں میں شہری علاقوں میں دس سے سترہ برس کے بچوں کی جیب خرچ میں چار گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ سرو ے کے مطابق سب سے زیادہ جیب خرچ دلی کے بچوں کو ملتاہے۔ جہاں اوسط یہ رقم 1800 روپے فی ماہ ہے۔ دوسرے نمبر پر بنگلور ہے جہاں 1600 روپے ماہانہ ملتے ہيں جبکہ ممبئی کے بچے 1500 روپے خرچ کرتے ہيں۔ |
اسی بارے میں وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||