اڈوانی کی غلطیاں اور اجتماعی قبریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اڈوانی کی کتاب میں غلطیاں حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی کی کتاب ’مائی کنٹری، مائی لائف‘ گذشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں خوب چرچا ميں رہی۔ اس سوانحی کتاب میں ذکر کیے گیے بعض واقعات پر سیاسی حلقوں میں بھی بحث ہوئي اور ردعمل سامنے آیا۔ اڈوانی کے اس بیان پر شدید ردعمل ہوا ہے کہ ’انڈین ایئر لائنز کے طیارے کے اغواء کے بعد مسافروں کی رہائی کے لیے ہندوستانی جیلوں میں قید تین شدت پسندوں کی رہائی اور انہيں اس وقت کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے ہمراہ قندھار بھیجنے کے بارے میں انہیں کوئي اطلاع نہيں تھی‘۔ بی جے پی کے اتحادی اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے قریبی جارج فرنانڈس نے ایل کے اڈوانی کے بیان کو مسترد کیا ہے اور کہا کہ وہ شدت پسندوں کی رہائی اور انہيں قندھار بھیجنے کے سارے فیصلوں میں شریک تھے اور وزیر داخلہ کے طور پر انہیں ہر بات کا علم تھا۔ اڈوانی کی کتاب میں ایک اور غلطی کا پتہ چلا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قندھار کے واقعے کے وقت رابرٹ بلیک ول دلی میں امریکہ کے سفیر تھے۔ جبکہ بلیک ول اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں تھے۔ کتاب میں اس کے بعد دیگر تذکروں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ حریف جماعت کانگریس نے موقع دیکھ کر کہا ہے کہ اس کتاب کا نام’ میرا ملک، میری زندگی اور میرے جھوٹ‘ ہونا چاہیے۔ کشمیر میں اجتماعی قبریں
لاپتہ افراد کی انجمن اے پی ڈی پی نےگذشتہ دنوں ان قبروں کے بارے میں زیرِ زمین حقائق کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی اور بتایا کہ اڑی خطے میں کم از کم ہزار ایسی قبروں کا پتہ چلا ہے جو نامعلوم افراد کی ہیں۔بمیار گاؤں کے ایک قبرستان میں 203 قبریں پائی گئی ہیں جس میں صرف چھ کے نام ہیں۔ اسی طرح کیچامہ گاؤں کے دو قبرستان ميں 235 نامعلوم افراد کی قبریں ملی ہیں جبکہ بجہامہ گاؤں میں 100 نامعلوم لاشیں دفن ہيں۔ اے پی ڈی پی کی ایک کمیٹی نے اٹھارہ گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد رپورٹ تیار کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہےکہ اس طرح کی مزید اجتماعی قبروں کا پتہ چل رہا ہے ایسوسی ایشن کے مطابق سرکاری طور پر ان قبروں کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ غیرملکی شدت پسندوں کی ہیں۔ کشمیر میں اٹھارہ برس کی شورش کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ کئی ہزار افراد لاپتہ ہوئے ہيں ان میں بیشتر پولیس اور فوج کے ہاتھوں حراست میں لیے گیے تھے۔ حقوق انسانی کی تنظمیں یہ الزام لگاتی رہی ہيں کہ ان افراد کو حراست میں قتل کردیا گیا ہے۔ پراسرار ان کاؤنٹر سپیشلسٹ
وقت کے ساتھ ساتھ اس دستے میں شامل پولیس افسران ’ ان کاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کہے جانے لگے۔ ان میں کئی پولیس افسران نے انفرادی طور پر درجنوں مجرموں اور شدت پسندوں کو تصادم میں ہلاک کیا اور شہرت حاصل کی۔ گذشتہ دنوں دلی میں اسی طرح کے ایک پولیس افسر راجبیر سنگھ کا قتل ہوا۔ وہ اس سے پہلے زمین کے مافیا سے تعلق ہونے اور بد عنوانی کے الزام میں معطل ہوچکے تھے حالانکہ تفتیش میں ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ملا۔ ان کا قتل بھی بظاہر کرروڑں روپے کے لین دین کے سبب ہی ہوا ہے۔ ممبئی میں کئی ’ان کاؤنٹر سپیشلسٹ‘ تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ ایک افسر پر کروڑوں کے اثاثے جمع کرنے کا الزام ہے اور وہ معطل ہيں۔ جبکہ ایک افسر پر پولیس مقابلے کے نام پر ایک مبینہ ملزم کو قتل کرنے کا الزام ہے اور وہ بھی معطل ہیں۔ اسی طرح گجرات کے سنیئر پولیس افسر ڈی جی ونجارہ پر بھی فرضی تصادم ماہرین کا کہنا ہے کہ بے پناہ اختیارات اور کوئی بھی جواب دہی نہ ہونے کے سب یہ فوجی دستے کے پولیس افسران خود کو قانون بن چکے ہيں اور بعض اتنے طاقتور ہوچکے ہوتے ہيں کہ خود پولیس والے ان سے خوفزدہ ہيں۔ منتخب خواتین کا ملک
ہندوستان کے مختلف اداروں میں منتخب خواتین کی تعداد پوری دنیا میں منتخب ہونے والی خواتین کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ خواتین کی نمائندگی میں یہ بہتری آئین میں ایک ترمیم کے نتیجے میں آئی جس کے تحت دیہی پنچایتوں میں خواتین کے لیے تینتیس فی صد سیٹیں مخصوص کر دی گئیں ۔ پنچایتی راج کی وزارت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کی دیہی پنچایتوں میں دس لاکھ سے بھی زیادہ منتخب خواتین ہیں ۔ یہ تعداد تمام منتخب ارکان کا سینتیس فی صد ہے ۔ بہار جیسی بعض ریاستوں میں منتخب خواتین کا حصہ چون فی صد تک پہنچ گیا ہے۔ یہاں پچاس فیصد سیٹیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ ہندوستان میں خواتین کو بااختیار بنانے اور فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں شامل کرنے کی غرض سے پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے سیٹیں ریزرو کیے جانے کے بعد لاکھوں خواتین ان اداروں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں بھی خواتین کے لیے تینتیس فی صد سیٹیں مختص کرنے کے لیے ایک ترمیمی بل زیر غور ہے۔ پاکستانی شہری کی ہلاکت پر رپورٹ
گزشتہ مہینے ہریانہ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری خالد محمود کی لاش اس ماہ کے اوائل میں ان کے رشتہ داروں کے حوالے کی گئی تھی۔ خالد کی پراسرار موت پر پاکستان میں زبردست ناراضگی پیدا ہوئی تھی اور حکومت پاکستان نے بھی ہندوستان کی حکومت سے خالد کی موت کے اسباب کی تفصیلات مانگی تھیں ۔ اس پر وزارت داخلہ نے ہریانہ کی ریاستی حکومت سے پاکستانی شہری کی موت کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ گزشتہ دنوں ہریانہ حکومت نے مرکز کو جو رپورٹ بھیجی اس میں خالد کی موت کی وجہ فطری بتایا گیا ہے۔ ریاستی انتظامیہ کے مطابق خالد کی موت جگر میں انفیکشن کے سبب ہوئی اور انہیں قید میں اذیتیں نہیں دی گئیں تھیں۔ اس سلسلے میں ان کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی بھیجی گئی ہے لیکن خالد کے رشے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں اذیتیں دے کر ہلاک کیا گیا ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق خالد مارچ 2005 میں ہند- پاک کرکٹ میچ دیکھنے ہندوستان آئے تھے لیکن وہ واپس نہیں گئے۔ ریاستی پولیس کے مطابق خالد نے اپنا پاسپورٹ پھینک دیا اور ایک مقامی لڑکی سے شادی بھی کی۔ حکام کے مطابق جس وقت انہیں گرفتار کیا گیا اس وقت ان کے قبصے سے حساس نوعیت کے کاغذات برآمد ہوئے تھے۔ خالد کے گھر والوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور ہریانہ پولیس کے خلاف لاہور میں ایک کیس درج کرایا ہے۔ |
اسی بارے میں اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری16 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||