اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اڈوانی کا سیاسی اخلاق بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور وزارت عظمٰی کے امیدوار لال کرشن اڈوانی کی کتاب ’مائی کنٹری ،مائی لائف ‘ کا گزشتہ دنوں اجرا ہوا ۔ اس کتاب میں اڈوانی نے بابری مسجد کے انہدام ، پاکستان کے اپنے دورے ، کرگل کی لڑائی اور واجپئی سے اپنے تعلقات جیسے متعدد اہم اور دلچسپ سوالوں پرمفصل روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکمراں اتحاد کی رہنما سونیا گاندھی سے اختلافات اتنے زیادہ ہو گئے کہ حزب اختلاف بی جے پی اورحکمراں جماعت کانگریس کے درمیان کوئی رابطہ ہی باقی نہ رہا ۔ انہوں نے لکھا کہ سونیا گاندھی سے کوئی تعلق نہ ہونے کے سبب وزیر اعظم سے بھی ان کا کوئی ناطہ نہ رہا ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ سنیچر کو ہولی کا تہوار تھا اور اڈوانی نے موقع دیکھ کر تعلقات کی پہل کر دی۔ پہلے وہ سونیا گاندھی کے گھر گئے ۔ انہیں ہولی کی مبارکباد دی اور اپنی کتاب انہیں پیش کی۔ اس کتاب میں انہوں نے سونیا گاندھی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے وزارت عظمی کو کمتر بنا دیا ہے۔ بعد میں بی جے پی کے رہنما وزیراعظم منموہن سنگھ کے پاس بھی گئے اور ان سے دیر تک بات کی۔ اڈوانی نے اپنے اس قدم سے نہ صرف یہ کہ منقطع رابطے بحال کر لیے بلکہ اپنے حریفوں پر اخلاقی برتری کا اسکور بھی کیا ہے۔ پاکستان کے حالات پر ہندوستان میں تشویش
وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کی اندرونی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی صورتحال کا پورے خطے کے امن و استحکام پر اثر پڑے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام اور سلامتی کی پیچیدہ صورتحال سے ہندوستان کے اندر بھی گڑبڑ پیدہ ہو سکتی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو کے قتل سے خطے میں سیاسی استحکام قائم کرنے کی کوششون کو شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ اس رپورٹ میں جموں کشمیر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں شدت پسندی کے واقعات میں قابل ذکرکمی آئی ہے لیکن بقول اس کے سرحد پار سے شدت پسندی کی اعانت اب بھی جاری ہے ۔ حادثوں کا ملک ہندوستان
ہندوستان میں ترقی کے معاملوں میں اکثرچین سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں چین صرف آگے ہی نہیں بہت آگے نکل گیا ہے۔ لیکن ایک میدان میں ہندوستان نے حال میں چین کو شکست دی ہے۔ سڑک حادثوں میں۔ روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2006 میں ہندوستان میں 105749 افراد سڑک حادثوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ چین میں ہلاکتوں کی تعداد89455 تھی۔ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے سڑکوں کی صورتحال اور حفاظتی و طبی انتظامات بہترکر کے گزشہ چار برسوں میں اوسط دس فی صد کی شرح سے حادثوں میں ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی کی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس ہندوستان میں ہر برس اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ’را‘ افسر کے خلاف را کی جوابی کاروائی ہندوستان کے خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ یعنی را کے خلاف کچھ لکھنا مہنگاپڑ سکتا ہے۔ گزشتہ برس ’را‘ کے ایک سبکدوش افسر میجر جنرل وی کے سنگھ نے را کے طریقہ کار اور تنطیم پر ایک کتاب لکھی ۔ اس میں انہون نے تنطیم میں بدعنوانی اور بد انتظامی کا ذکر کیا تھا۔ اس کتاب میں انہون نے را کے طریقہ کار بھی انگلیاں اٹھائی تھیں۔ کتاب کی ریلیز کے تین مہینے بعد ستمبر میں سنگھ کے خلاف سی بی آئی نے ایک مقدمہ درج کر لیا تھا اور ان کی رہائش گاہ اور دفتر پر چھاپے مارے تھے۔ اب سی بی آئی میجر جنرل سنگھ کے خلاف سرکاری رازداری قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے جا رہی ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ را کے بعض افسروں نے بتایا ہے کہ سنگھ نے اپنی کتاب کے لیے جو معلومات استعمال کی ہیں وہ خفیہ نوعیت کی تھیں اور انہیں عام نہیں کیا جانا چاہیۓ تھا۔ پٹودی کے ساتھ اداکاربیٹی بھی مصیبت میں
سابق کرکٹر منصور علی خان کے خلاف 2005 میں ہریانہ کے جھجھر علاقے میں ایک نایاب ہرن کا شکار کرنے کا ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا اور یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں اس معاملے نے ایک نیا موڑ اس وقت لے لیا جب مبینہ طور پر شکار والی بندوق کے سلسلے میں پولیس کی طرف سے پٹودی کی بیٹی اراکارہ سوہا علی خان کو ’وجہ بتاؤ‘ نوٹس جاری کیا گیا۔ سوہا کو دو ہفتے کے اندر جواب دینا ہے۔ گڑگاؤں کے ڈپٹی پولیس کمشنر کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس میں سوہا سے پوچھا گیا ہے کہ کیا انہوں نے یہ رائفل غیر قانونی طریقے سے حاصل کی تھی۔ پولیس کے مطابق بندوق کا لائسنس حاصل کرنے کی کم سے کم عمر ایکس برس ہے اور بقو ل اس کے سوہا نے نومبر 1996 میں جب لائسنس حاصل کیا تھا اس وفت ان کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ اس بندوق کا لائسنس کیسے جاری ہوا اور کیا یہی بندوق مبینہ شکار میں استعمال ہوئی تھی یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2005 میں سوہا کے نام اس بندوق کے لائسنس کی تجدید ہوئی تھی۔اس بندوق کے اصل کاغذات سرکاری دفتر سے غائب ہیں۔ |
اسی بارے میں قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری16 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||