وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جج اپنے اثاثوں کو عام کرنے کے خلاف ہائي کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں پر یہ تنقید کی جاتی رہی کہ وہ اپنی دولت اور اثاثوں کو عام نہیں کرتے۔ گذشتہ دنوں چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے ایک لکچر کے دوران ججوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اعلٰی عدالتوں کے جج ضابطے کے تحت اپنے اثاثوں کو عام کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ کے ججز اپنے اثاثوں کی تفصیلات انفرادی طور پر انہیں فراہم کرتے رہے ہیں۔ جنہیں راز میں رکھا جاتا ہے۔ ملک کے بعض سرکردہ ماہرین قانون نے عدلیہ میں تقرریوں اور انصاف کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے ججوں کے اثاثوں کے ڈکلیریشن اور تمام پہلوؤں کو معلومات حاصل کرنے کے حق یعنی آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کی حمایت کی تھی۔ لیکن ججوں نے اسے مستردکردیا ہے۔ رام جیٹھ ملانی ، ریٹائرڈ جج وی آر کرشنا ائیر ، پی این بھگوتی اور جے ایس ورما جیسے ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ دولت اور اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کے فیصلے سے اعلٰی عدالتوں کے ججز عوام کے ذہن میں صرف شکوک پید ا کريں گے۔ دہشت گردی کی تفتیش اب دفاعی ایجینسی کرے گی امن و قانون کا شعبہ ریاستی حکومتوں کے دائرہ اختار میں آتا ہے۔ اور کوئی بھی واقعہ رونما ہونے پر مرکزی تفتیشی ادارے اس میں تب تک دخل نہيں دے سکتے جب تک کہ ریاستی حکومت ان سے تفتیش کی درخواست نہ کرے۔ لیکن اب دہشت گردی اور دوسرے بین ریاستی ریاستی قسم کے سنگین اور بڑے جرائم کی تفتیش دفاعی ادارے کے ہاتھ میں آسکتی ہے۔ گذشتہ دنوں داخلی امور کے وزیر مملکت نے پارلمینٹ میں بتایا کہ بعض مخصوص قسم کے دہشت گردی کے واقعات اور دیگر جرائم کی تفتیش ایک وفاقی ادارے سے کرانے کا ایک طریقہ وضع کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تمام ریاستوں کو خط لکھاگیا ہے۔ اور ان سے ان کی رائے طلب کی گئی ہے تاکہ وفاقی ادارے کی تفتیش کے سلسلے میں اتفاق رائے پیدا کی جاسکے۔ وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ ؟
گذشتہ ہفتے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رانچی سے دلی واپسی کے وقت سکیورٹی فورسیز اور انٹیلی جنس انجینسیز کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وزیر اعظم کا خصوصی طیارہ جب دلی کے نزدیک پہنچا کہ اچانک ایر ٹریفک کنٹرول کے ریڈار پر ایک نامعلوم جہاز کا سگنل نظر آيا۔ اس سگنل نے پورے سکیورٹی نظام میں بھگڈر مچادی اور وزیر اعظم کے طیارے کا رخ بدلنے کے لیے فضایہ اور سول ایویشن کے جوائنٹ کنٹرول مرکز نے ہنگامی اقدامات کیے۔ وزیر اعظم کا طیارہ دلی کے اطراف میں تقریبا سولہ منٹ تک فضا میں اڑتا رہا اور اسے پوری طرح محفوظ کرنے کے بعد ہوائي اڈے پر اتار گيا۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ وہ سگنل دراصل فضائیہ کے ایک چھوٹے سے طیارہ سے آیا تھا جس میں کوئي تکنیکی خرابی کے سبب یہ سگنل پیدا ہوا۔ اطلاع کے مطابق یہ طیارہ وزیراعظم کے طیارے کے بیس فضائی میل کے دائرے میں نہیں آیا تھا۔ اس معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے۔ مردم شماری کی تیاریاں ہندوستان میں کئي عشروں سے ہر دس برس بعد مردم شماری کی جاتی رہی ہے۔ بہتر ٹکنولوجی آنے کے ساتھ مختلف اعداد و شمار اور معلومات حاصل کرنے کے عمل میں بھی بہتری آئی ہے۔ 2011 مردم شماری کا برس ہے ار اس کی تیاریاں ابھی سے شروع ہوگئی ہیں۔ گذشتہ دنوں وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نےمردم شماری کے اہلکاروں کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مردم شماری ایک قومی آبادی رجسٹر کی بنیاد نبے گا۔ اس جائزے میں ملک کے ہر فرد کو ایک مخصوص شناختی نمبر مختص کیا جائے گا۔ ہر شخص کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات بھی بعد کے مرحلے میں آبادی کے رجسٹر میں شامل کیے جائیں گے۔ حکومت پورے ملک میں پوری آبادی کے لیے ایک قومی شناختی کارڈ جاری کرے گي جس کے لیے یہ مردم شماری تمام تفصیلات فراہم کرے گی۔ اناج کی قلت نہيں ہوگی
ایک ایسے وقت میں جب پوری دینا میں خوردنی اشیاء کی قلت کی وارنگ دی جارہی ہے اور امریکہ جیسے ممالک کے بعض اسٹورز میں چاول اور آٹے مقررہ مقدار میں فروخت کیے جارہے ہیں، ہندوستان میں ایک اچھی خبر ہے۔ ہندوستان میں گیہوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔ ابتدائی پندرہ دنوں کے اندر سرکاری ذخیرے میں مقررہ پندرہ ملین ٹن گیہوں کی خرید تقریبا مکمل ہوچکی ہے۔اور یہ بیس ملین ٹن تک جانے کی توقع ہے۔گیہوں کی مجموعی پیداوار اس بار تقریبا 78 ملین ٹن ہوجانے کی توقع ہے۔ اسی طرح چاول کی پیداوار کا اندازہ 95 ملین ٹن لگایا گيا ہے۔ محکمہ موسمیات نے نارمل مانسون کی پیش گوئي کی ہے۔ اگر بارش اچھی ہوگی تو ہندوستان جلد ہی اپنے چاول برآمداد کرنا بھی شروع کردے گا۔ کیوں کہ چاول کا خاصہ اسٹاک موجود ہے۔ |
اسی بارے میں اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری16 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||