کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرناٹک میں اپنی غیر متوقع شکست یا پھر یوں کہیے کہ بی جے پی کی فتح سے کانگریس کی مرکزی قیادت میں ہلچل مچی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر بعض کانگریسی وزرائے اعلیٰ اور پارٹی کے سنیئر رہمناؤں کی مٹینگ ہوئی۔ کانگریس کی سب سے بڑی پالیسی ساز کمیٹی کانگریس ورکنگ کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا۔ کانگریس نے دلی، مہاراشٹر، راجستھان، چھتیش گڑھ اور مدھیہ پردیش میں پارٹی کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں بنائی ہيں اور اس سلسلے میں ماہرین کی مدد لی جارہی ہے۔ ان ریاستوں میں اکتوبر میں انتخابات متوقع ہیں۔ مہنگائی کے سبب پورے ملک میں متوسط اور غریب طبقہ پریشان ہے۔ کانگریس کی مرکزی حکومت نے حالیہ بجٹ میں تنخواہ یافتہ طبقے کو کچھ مراعات دی تھیں لیکن بظاہر ان سے کوئی فرق نہيں پڑا ہے۔ انتخابات کے اس ماحول میں زبردست مہنگائی کانگریس کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ چین سے تلخی کے دوران پرنب کا دورہ
اقتصادی تعلقات کے برعکس سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اروناچل پردیش کے علاقوں کے بعد گزشتہ دنوں چین نے سکم کے’فرنگر پوائنٹ‘ کے علاقے پر دعویٰ کیا ہے۔ چین نے اس علاقے میں واقع فوجی چوکیوں کو منہدم کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ ادھر ہندوستان نے بھی جواب میں اس علاقے کا مفصل سروے شروع کیا ہے۔ گزشتہ دنوں مغربی کمان پر بھی چین کی سرحد کے نزدیک لداخ میں ہندوستان نے دولت بیگ ہوائی پٹی کو تینتالیس سال بعد فوجی استمعال کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ سرحد کشیدی کے درمیان ہندوستان کی طرف سے حال میں اولمپک ٹارچ ریلے کے دوران تبتی پناہ گزینوں کے احتجاج پر پابندی اور چین میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے پانچ ملین ڈالر کی امداد سے تعلقات میں کچھ بہتری ضرور پیدا ہوئی ہے۔ اب وزیر خارجہ پرنب مکھرجی چار روز کے دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں۔گزشتہ چار برس میں ان کا بیجنگ کا یہ پہلا دورہ ہے۔ دہشت گردی مخالف ریلیوں کا سلسلہ
ہندوستان میں گزشتہ برسوں میں وقتاً فوقتاً ہونے والے بم دھماکوں سے مسلم مدارس اور تنظیمیں بظاہر بری طر ح دباؤ میں آگئي ہیں۔ اگر چہ پولیس اور خفیہ ادارے بڑے بڑے بم دھماکوں کے مقدمات میں کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ لیکن عموماً ہر دھماکے کے فورا بعد پولیس اور ذرائع ابلاغ بعض مسلم شدت پسند تنظیموں کا نام لینے لگتے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں تبلیغی جماعت، اہل حدیث، جماعت اسلامی جیسی تنظيموں کو دہشت گردی تنظيم قرار دیا جانے لگا ہے۔ ندوۃ اور دیوبند جیسے اداروں کو دہشت گردی کی تربیت گاہ بتانے کی کوشش کی گئی۔ میڈیا میں زبردست پراپیگنڈہ کے نتیجے میں یہ ادارے اب دباؤ میں ہیں۔ چند ہفتے قبل دارالعلوم دیوبند نے ہر طرح کی دہشت گردی کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔ جمعیت العلماء ہند نے پورے ملک میں دہشت گرد مخالف ریلیاں، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ انصار برنی کی ملک بدری
گزشتہ جمعہ کی رات پاکستان کے سابق وفاقی وزیر انصار برنی کو ہندوستان حکام نے دلی ائرپورٹ سے ملک بدر کردیا۔ ان کو ملک بدر کرنے کی وجہ ان کے کاغذات درست نہ ہونا بتائی گئی۔ ہندوستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر خفیہ اداروں کا زبردست جال بچھا ہوا ہے۔ یہاں غیر ملک سے ہندوستان آنے والے تمام مسافروں کی فہرست پرواز کے پندرہ منٹ کے اندر متعلقہ ائر لائنز کو ہندوستان کے امیگریشن حکام کے حوالے کرنا لازمی ہے۔ انصار برنی نہ صرف ایک معروف شخصیت ہیں بلکہ وہ گزشتہ دنوں ہندوستان آئے تھے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کا اس بار ہندوستان آنا کسی وجہ سے پسند نہیں کیا گیا۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ جب سے کشمیر سنگھ کی رہائی ہوئی ہے اور سربجیت سنگھ کی موت کی سزا ختم کرانے کے لیے انصار برنی نے کوششیں شروع کی ہیں کئی پاکستانی قیدی ہندوستانی جیلوں میں پراسرار طریقے سے مر چکے ہیں۔ ہتھیار برادر طلبہ گرو تیغ بہادر ہاسٹل اور صفدر جنگ ہاسٹل میں اطلاعات کے مطابق لڑکوں میں ہتھیار لے کر چلنے والوں کی تعداد پندرہ فی صد سے زیادہ ہے۔ مار پیٹ میں بھی لڑکے آگے ہیں۔ یہ سروے 14 سے 19 برس کے طلبہ کے درمیان کیا گیا۔ سروے کے مطابق گزشتہ ایک برس میں انتالیس فیصد سے زیادہ طلبہ کو گزشتہ اکتالیس برس میں مارپیٹ کے دوران چوٹ آئی ہے۔ طلبہ جو ہتھیار لے کر چلتے ہيں ان میں چاقو، پستول، ڈنڈا، بیٹ، کوڑا، اور چھوٹی تلوار شامل ہے۔ |
اسی بارے میں عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||