BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 June, 2008, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ

کانگریس کا انتخابی نشان
کانگریس کو مسلسل اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
کرناٹک میں اپنی غیر متوقع شکست یا پھر یوں کہیے کہ بی جے پی کی فتح سے کانگریس کی مرکزی قیادت میں ہلچل مچی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر بعض کانگریسی وزرائے اعلیٰ اور پارٹی کے سنیئر رہمناؤں کی مٹینگ ہوئی۔ کانگریس کی سب سے بڑی پالیسی ساز کمیٹی کانگریس ورکنگ کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا۔

کانگریس نے دلی، مہاراشٹر، راجستھان، چھتیش گڑھ اور مدھیہ پردیش میں پارٹی کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں بنائی ہيں اور اس سلسلے میں ماہرین کی مدد لی جارہی ہے۔ ان ریاستوں میں اکتوبر میں انتخابات متوقع ہیں۔ مہنگائی کے سبب پورے ملک میں متوسط اور غریب طبقہ پریشان ہے۔ کانگریس کی مرکزی حکومت نے حالیہ بجٹ میں تنخواہ یافتہ طبقے کو کچھ مراعات دی تھیں لیکن بظاہر ان سے کوئی فرق نہيں پڑا ہے۔ انتخابات کے اس ماحول میں زبردست مہنگائی کانگریس کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔

چین سے تلخی کے دوران پرنب کا دورہ

ہند چین، علم
ادھر ہندوستان اور چین کے درمیان رشتے استوار ہورہے ہيں
ہندوستان اور چین کے اقتصادی تعلقات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں شاید ہی حالیہ برسوں میں کسی دو ممالک کے درمیان اتنی تیزی سے فروغ پائے ہيں۔ باہمی تجارت 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور آئندہ ڈیڑھ برس میں یہ 60 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اقتصادی تعلقات کے برعکس سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اروناچل پردیش کے علاقوں کے بعد گزشتہ دنوں چین نے سکم کے’فرنگر پوائنٹ‘ کے علاقے پر دعویٰ کیا ہے۔ چین نے اس علاقے میں واقع فوجی چوکیوں کو منہدم کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ ادھر ہندوستان نے بھی جواب میں اس علاقے کا مفصل سروے شروع کیا ہے۔ گزشتہ دنوں مغربی کمان پر بھی چین کی سرحد کے نزدیک لداخ میں ہندوستان نے دولت بیگ ہوائی پٹی کو تینتالیس سال بعد فوجی استمعال کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔

سرحد کشیدی کے درمیان ہندوستان کی طرف سے حال میں اولمپک ٹارچ ریلے کے دوران تبتی پناہ گزینوں کے احتجاج پر پابندی اور چین میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے پانچ ملین ڈالر کی امداد سے تعلقات میں کچھ بہتری ضرور پیدا ہوئی ہے۔ اب وزیر خارجہ پرنب مکھرجی چار روز کے دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں۔گزشتہ چار برس میں ان کا بیجنگ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

دہشت گردی مخالف ریلیوں کا سلسلہ

جامع مسجد
مسلمان اس وقت ہندوستان میں دفاعی حالت میں ہیں

ہندوستان میں گزشتہ برسوں میں وقتاً فوقتاً ہونے والے بم دھماکوں سے مسلم مدارس اور تنظیمیں بظاہر بری طر ح دباؤ میں آگئي ہیں۔ اگر چہ پولیس اور خفیہ ادارے بڑے بڑے بم دھماکوں کے مقدمات میں کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ لیکن عموماً ہر دھماکے کے فورا بعد پولیس اور ذرائع ابلاغ بعض مسلم شدت پسند تنظیموں کا نام لینے لگتے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں تبلیغی جماعت، اہل حدیث، جماعت اسلامی جیسی تنظيموں کو دہشت گردی تنظيم قرار دیا جانے لگا ہے۔ ندوۃ اور دیوبند جیسے اداروں کو دہشت گردی کی تربیت گاہ بتانے کی کوشش کی گئی۔

میڈیا میں زبردست پراپیگنڈہ کے نتیجے میں یہ ادارے اب دباؤ میں ہیں۔ چند ہفتے قبل دارالعلوم دیوبند نے ہر طرح کی دہشت گردی کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔ جمعیت العلماء ہند نے پورے ملک میں دہشت گرد مخالف ریلیاں، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

انصار برنی کی ملک بدری

انصار برنی
انصاربرنی نے ہندوستانی قیدی کشمیر سنگھ کی رہائی میں اہم رول ادا کیا تھا

گزشتہ جمعہ کی رات پاکستان کے سابق وفاقی وزیر انصار برنی کو ہندوستان حکام نے دلی ائرپورٹ سے ملک بدر کردیا۔ ان کو ملک بدر کرنے کی وجہ ان کے کاغذات درست نہ ہونا بتائی گئی۔

ہندوستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر خفیہ اداروں کا زبردست جال بچھا ہوا ہے۔ یہاں غیر ملک سے ہندوستان آنے والے تمام مسافروں کی فہرست پرواز کے پندرہ منٹ کے اندر متعلقہ ائر لائنز کو ہندوستان کے امیگریشن حکام کے حوالے کرنا لازمی ہے۔ انصار برنی نہ صرف ایک معروف شخصیت ہیں بلکہ وہ گزشتہ دنوں ہندوستان آئے تھے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کا اس بار ہندوستان آنا کسی وجہ سے پسند نہیں کیا گیا۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ جب سے کشمیر سنگھ کی رہائی ہوئی ہے اور سربجیت سنگھ کی موت کی سزا ختم کرانے کے لیے انصار برنی نے کوششیں شروع کی ہیں کئی پاکستانی قیدی ہندوستانی جیلوں میں پراسرار طریقے سے مر چکے ہیں۔

ہتھیار برادر طلبہ
جنوبی دلی کے کالجوں اور سکولوں میں تقریباً بارہ فی صد طلبہ اپنے تحفظ کے لیے کوئی نہ کوئی ہتھیار لے کر آتے ہیں۔

گرو تیغ بہادر ہاسٹل اور صفدر جنگ ہاسٹل میں اطلاعات کے مطابق لڑکوں میں ہتھیار لے کر چلنے والوں کی تعداد پندرہ فی صد سے زیادہ ہے۔ مار پیٹ میں بھی لڑکے آگے ہیں۔ یہ سروے 14 سے 19 برس کے طلبہ کے درمیان کیا گیا۔ سروے کے مطابق گزشتہ ایک برس میں انتالیس فیصد سے زیادہ طلبہ کو گزشتہ اکتالیس برس میں مارپیٹ کے دوران چوٹ آئی ہے۔

طلبہ جو ہتھیار لے کر چلتے ہيں ان میں چاقو، پستول، ڈنڈا، بیٹ، کوڑا، اور چھوٹی تلوار شامل ہے۔

سپریم کورٹ آف انڈیادلی ڈائری
عدلیہ میں شفافیت پرزور، کم عمر میں شراب نوشی
منموہن سنگھدلی ڈائری
وزیراعظم کے طیارےکو خطرہ، اناج کی قلت نہيں
اڈوانی (فائل فوٹو)دلی ڈائری
ایل کے اڈوانی کی غلطیاں اور اجتماعی قبریں
ایل کے اڈوانی (فائل فوٹو)دلی ڈائری
اڈوانی کا سیاسی اخلاق، حادثوں کا ملک ہندوستان
 گجرات فسادات (فائل فوٹو)دلی ڈائری
بقول مودی گجرات کے مسلمانوں کے زخم بھرگئے
سمجھوتہ دھماکہ ، فائل فوٹودلی ڈائری
سمجھوتہ کی برسی اور پاک انتخابات کی کوریج
فائل فوٹودلی ڈائری
سست رو معیشت اور دہشتگردی کا خطرہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد