جوہری معاہدہ پر بی جے پی کی مشکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری معاہدے، اب حزب اختلاف کے لیے مصیبت حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی ہند امریکہ جوہری معاہدے کی شدت سےمخالفت کر رہی ہے۔ اب اس معاہدے کو حمتی شکل دینے میں محض دو مہینے بچے ہیں۔ لیکن اس اہم مرحلے پر بعض غیر متوقع حلقوں سے جوہری معاہدے کی حمایت میں بیانات آنے سے حزب اختلاف کے لیے مصیبت کھڑی ہوگئی ہیں۔ پہلے برجیش مشرا کی طرف سے معاہدے کی حمایت میں بیان آیا۔ مشرا سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے قومی سلامتی کے مشیر تھے اور ابتدا میں انہوں نے معاہدے کی مخالفت کی تھی۔ گذشتہ دنوں سابق صدر اے پی جے عبدالکلام نے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔ دونوں ہی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور بی جے پی سے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی حمایت کے بعد بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ ان کی ذاتی رائے ہے اور وہ معاہدے کی مخالفت پر قائم ہے۔ فضائیہ کے بعد بحریہ کی جدیدکاری چین کی بحریہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور خطے میں جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے سبب ہندوستان نے مزید چھ جدید آبدوز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بحریہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان آبدوزوں کے لیے جلد ہی ٹیندر جاری کیے جائیں گے۔مزگاؤں کے بندرگاؤں پر فرانسسی ساخت کی چھ آبدوزیں تیاری کے مراحل میں ہیں۔ بحریہ کے مطابق ہندوستان طیارہ بردار جنگی جہازوں اور آبدوزوں سمیت سمندر میں کم از کم 160 جہازوں کا بیڑا کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ بجلی کی کٹوتی سے فسادات
دلی کے مکھرجی نگر میں کسی خرابی کے سبب بجلی آٹھ گھنٹے تک گل رہی۔ علاقے کے لوگ برہم ہوگئے اور مقامی بجلی دفاتر پر حملہ کر دیا۔ اسی طرح گڑگاؤں کے بادشاہ پور گاؤں میں پندرہ گھنٹے تک بجلی غائب رہنے کے بعد گاؤں والوں نے بجلی کے دفتر پر حملہ کردیا اور وہاں فوجی اہلکاروں کی پٹائی کی اور مشینوں کو نقصان پہنچایا۔ گرمی کے دنوں میں بجلی کی مانگ کافی بڑھ جاتی ہے اور دلی اور گڑگاؤں جیسے شہروں میں اکثر بجلی چلی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن اب بھی بعض علاقوں میں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے۔ کشمیر پنڈتوں کے لیے سولہ ارب کا پیکچ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک کے دوران ہزاروں پنڈتوں کو وادی میں اپنا گھر بار چھوڑ کر جموں اور دوسری ریاستوں میں منتقل ہونا پڑا تھا۔ تقریباً اٹھارہ برس گزارنےکے بعد حکومت نے ان کی آباد کاری کے لیے ایک وسیع منصوبہ تیار کیا ہے۔ مفاد عامہ کی ایک عذرداری کے جواب میں حکومت نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کو بتایا کہ پنڈتوں کی واپسی اور ان کی ملکی آبادی کے لیے تقریباً 16 ارب کروڑ روپے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس سے تقریباً آٹھ ارب روپے پنڈتوں کے تباہ شدہ مکانوں اور دیگر عمارتوں کی مرمت اور تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے۔ ہند پاک بات چیت کی تیاری
21 مئی کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کمپوزٹ ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے والے ہیں۔ وزارت خارجہ سے اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ ہندوستان اس بات چیت میں سری نگر، مظفر آباد اور پونچھ سیالکوٹ بس سروس کو پندرہ روز کے بجائے ہفتہ وار کرنے کی تجوير رکھے گا۔ اس طرح کی بھی خبریں مل رہی ہیں کہ ہندوستان کی طرف سے جموں، سیالکوٹ کرگل سکارڈو اور ترتک سیاری راستوں کو بھی مرحلہ وار طریقہ سے کھولنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔ ان تجاویز کو گراؤنڈ پر تفصیلی شکل دینے کے لیے سابق خارجہ سیکرٹری شیام سرن کو کشمیر بھیجاگیا ہے وہ وادی میں ایک ہفتہ قیام کریں گے اور ان تمام پہلوؤں پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی۔ اب اساتذہ کا امتحان ابھی تک تو ٹیچر ہی طلبہ کا امتحان لیا کرتے تھے لیکن اب وہ زمانہ آگیا ہے جب طلبہ اپنے ٹیچر کا امتحان لیا کريں گے۔ گذشتہ دنوں لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ کورسز کے تمام ٹیچرز کی کارکردگی کا جائزہ ان کے طلبہ لیں گے۔ یہی نہیں اگر جائزے میں ان کی کارکردگی خراب پائی گئی تو انہیں اس کی سزا بھی ملے گی۔ ٹیچروں کی کارکردگی کا طلبہ کے ذریعے جائزے کا عمل آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے سرکردہ تعلیمی اداروں میں پہلے ہی موجود ہے۔ لکھنو یونیورسٹی میں اگر تجربہ کامیاب رہا وہ انڈر گریجویٹ ٹیچرز پر بھی نافذ کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||