پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پراسرار قتل ہندوستان میں انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل کے کرکٹ میچوں نے ٹیلی ويژن پر مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ لیکن گزشتہ مہینے دِلّی سے ملحقہ علاقے نوئیڈا میں دوہرے قتل کے ایک واقعہ نے عوامی دلچسپی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہيں۔ 15 مئي کے اس واقعہ میں ایک ڈاکٹر والدین کی چودہ سالہ بچی اور ان کے گھریلو ملازم کا قتل ہوا تھا۔ قتل ابتداء سے ہی انتہائی پراسرار بنا ہوا ہے۔ پولیس نے بچی کے قتل کے لیے ان کے والد کو گرفتار کر لیا تھا، لیکن کیس سی بی آئی کے پاس جانے کے بعد اس واقعہ میں روزانہ نیا ڈرامائي موڑ آرہا ہے۔ یہ واقعہ ایک مہینے سے ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن کی پہلی خبر بنا ہوا ہے۔ سی بی آئی کے ڈائرکٹر کا کہنا ہےکہ یہ واقعہ ان کی تنظیم کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پارسیوں کی گھٹتی تعداد پر تشویش
ہندوستان میں پارسی سب سے چھوٹی مذہبی اقلیت ہيں۔ 2001 کی مردم شماری میں پارسیوں کی آبادی 69601 تھی۔ اقلیتی کمیشن کے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ 2006 میں یہ تعداد گھٹ کر 60000 رہ گئی ہے۔ جائزے کے مطابق اس میں 30 فیصد وہ لوگ ہیں جو ساٹھ برس سے زیادہ عمر کے ہيں۔ اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پارسیوں میں شادی نہ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان، دیر سے شادی کرنے اور طلاق کے سبب بچوں کی پیدائش کی شرح مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ اقلیتی کمیشن پارسیوں کے لیے پروگرام شروع کر رہا ہے تاکہ انہيں درپیش خطروں سے آگاہ کیا جا سکے، بیشتر پارسی مہاراشٹر اور گجرات میں آباد ہيں۔ پرائیوٹ ہوائي اڈے
ہندوستان میں اقتصادی ترقی کے ساتھ غریب بھی ترقی کر رہے ہیں یا نہیں یہ تو پتہ لگانا ذرا مشکل ہے لیکن ملک کے امیر تو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہے ہيں۔گزشتہ چار برس میں تقریباً ہر صنعت کار چار گنا ترقی کر چکا ہے۔ ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات بھی بڑھی ہے۔ ہندوستان اس وقت ذاتی سفر کے لیے پرائیویٹ جہاز خرید نے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگر آپ دِلّی، احمدآباد، بنگلور، ممبئي، کولکاتہ، اور چنئی جیسے بڑے ہوائي اڈوں پر اتریں تو وہاں آپ کو پچاسوں چھوٹے بڑے پرائیوٹ ہوائی جہاز کھڑے ہوئے ملیں گے جو سبھی صنعت کاروں اور ملک کے نئے امراء کے ہيں۔ پرائیوٹ جہازوں کی بڑھتی ہوئي تعداد کے پیش نظر حکومت نے دِلّی میں پہلے پرائیوٹ ہوائي اڈے کی تعمیر کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔ پاک قیدویوں کی ہلاکت جاری
پاکستان کے حقوق انسانی کے کارکن انصار برنی نے جب کشمیر سنگھ کو رہائی دلائی اور سربجیت کی رہائي کے لیے مہم شروع کی اس وقت سے ہندوستان کی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی ہلاکت کا بھی سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جب کشمیر سنگھ رہا ہوکر ہندوستان پہنچے اس وقت حکام نے ایک پاکستانی قیدی کی لاش پاکستانی حکام کے حوالے کی۔ جب سربجیت سنگھ کے لیے مہم زور پکڑ رہی ہے تھی اس وقت ایک اور قیدی کی موت ہوئي۔ درمیان میں دو اور قیدی جیلوں میں مرے۔ گزشتہ ہفتے بھی ہندوستان نے دو پاکستانی قیدیوں کی لاشیں پاکستان کے حوالے کی ہيں۔پاکستان نے ان واقعات پر ہندوستان سے باضابطہ احتجاج کیا ہے اور ان کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان کی جیلوں کا شمار دنیا کی بدترین جیلوں میں ہوتا ہے۔ اس طرح کی ہلاکتوں کی کبھی آزادانہ تحقیقات نہيں ہوئيں اور قیدی اگر پاکستانی ہو تو پھر یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہوتا ہے وہاں جوابدہی کی ضروت نہيں ہوتی۔ اعلیٰ پولیس افسر پر نقل کرنے کا الزام
گجرات کے اعلیٰ پولیس افسر رجنیش رائے کو ایل ایل بی کے امتحان میں نقل کرنے کا قصوروار پایا گیا اور گجرات یونیورسٹی نے انہیں سبھی پرچوں میں فیل کر دیا ہے۔ انہیں کرائم بیورو کے ڈی آئی جی سے ہٹا کر جونا گڑھ کے ٹرینگ سکول بھیج دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی رائے ایک عرصے سے حکومت کی نظر میں تھے۔ انہیں ایک قابل اور ایمان دار پولیس افسر سمجھا جاتا ہے۔ سہراب الدین کے فرضی مڈھ بھیڑ کے معاملے میں ڈی جی ونجارہ سمیت تین اعلیٰ پولیس اہلکاروں کو انہوں نے ہی گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے حکومت سے اجازت لیے بغیر ایک وزیر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا اور ایک قتل کے معاملے میں ایک بلڈر کو گرفتار کیا تھا جس سے حکمران جماعت کے بہت لوگ خوش نہیں تھے۔ رجنیش رائے نے نقل کرنے سے پوری طرح انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس فٹ رول کو نقل کا بہانہ بنایا گیا ہے اس پر ان کے چھ سال کے بچے نے کچھ لکھا تھا جس کا کوئی تعلق قانون کے امتحان سے نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا کشمیرکاانکار، اسرائیلی ڈیری09 March, 2008 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||