رام مندر کا نعرہ اور اٹل چوک کی بھرمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخاب اور رام مندر لال کرشن اڈوانی آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظٰمی کے امیدوار کے طور پر اتر رہے ہیں۔ اور ایک بار پھر انہوں نے اپنے پسندیدہ موضوع رام مندر کا رخ کیا ہے۔ ’شری رام مندر‘ نام کی ایک فلم کی اسکریننگ کے بعد مسٹر اڈوانی نے کہا کہ 1990 میں رام مندر کی تحریک نے ان کی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا۔ انہرں نے کہا کہ ہندوستان کے ہر کونے میں ایک رام مندر ہونا چاہئے ۔ بی جے پی کے رہنما کا خیال ہے کہ ایودھیا میں جس مقام کو لوگ بھگوان رام کی جائے پیدائش سمجھتے ہیں اس مقام پر رام مندر ضرور بننا چاہئے۔ اس میں انہوں نے صرف اتنا اضافہ کیا کہ مندر کی تعمیر مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ اڈوانی نے جے شری رام کے نعرے کے ساتھ کہا کہ رام بھکتی ہندوستان کی روایت رہی ہے اور یہ کسی ایک فرقے تک محدود نہیں ہے۔ رام مندر سے متعلق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اس مہینے کے اوائل میں ہی بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی نے اپنے قومی جمہوری اتحاد پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی حمایت کے دائرے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی لانے کی کوشش کرے ۔ اٹل چوک
ہندوستان کا شاید ہی کوئی کونہ ہو جہاں کوئی نہ کوئی عمارت ، سڑک ، دفتر یا اسکول و کالج کا نام نہرو ، گاندھی کے نام پر نہ ہو۔ اتر پردیش میں مایاوتی کے وزیراعلٰی بننے کے بعد صوبے میں عمارتوں کا نام دینے میں امبیڈکر کا نام بھی جڑ گیا۔ بی جے پی ابھی تک اس معاملے میں کافی پیچھے رہی تھی لیکن اب وہ اس معاملے میں سب کو پیچھے چھورتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ بی جے پی کے اقتدار والے چھتیس گڈھ صوبے میں پنچایت کے محکمے نے پارٹی کے سبکدوش رہنمااور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو ہمیشہ یاد رکھنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔ محکمے نے صوبے کے سبھی 9820 گاؤوں میں ایک بڑے چوراہے کا نام ’اٹل چوک‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گاؤں پنچایتیں ان اٹل چوراہوں کو خوبصورت بنائیں گی۔ اب تک تقریبآ آٹھ ہزار چوراہے تیار ہو چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اٹل بہاری واجپائی کو اس طرح کی شہرت بالکل پسند نہیں تھی۔ جب وہ وزیر اعظم تھےاس وقت بعض پروگراموں کو ان کے نام دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ لیکن جھتیس گڑھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اٹل بہاری واجپئی ہی تھے جنہوں نے جھتیس گڑھ صوبے کی تشکیل کا آغاز کیا تھا اورانہیں اسی طرح یاد کیا جانا چاہیے۔ جنریٹر کا خرج ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے دارالحکومت دلی اور اس کے اطراف میں بجلی کی کمی اور خراب سپلائی کے سبب صنعتی کارخانوں کو جنریٹر چلانے کے ڈیزل پر سالانہ ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے خرج کرنے پڑتے ہیں۔ ایسوسی ایٹیڈ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری یعنی ایسوچیم نے ایک جائزے میں بتایا ہے کہ اس صنعتی خطے میں بجلی کی سپلائی انتہائی خراب ہے اور جنریٹرکے استعمال سے چالیس فی صد سپلائی پوری ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غازی آباد، گڑگاؤں، نوئیڈا، فریدآباد ، میرٹھ ، لونی اور بلبھ گڑھ میں 38 ہزار سے زیادہ چھوٹی بڑی صنعتی یونٹیں ہیں۔ ان یونٹوں کو چلائے رکھنے کے لیے ہر مہینے تقریبا 117 کروڑ روپے ڈیزل پر خرچ ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں جنریٹروں کے چلنے سے نہ صرف یہ کہ ماحولیاتی اور صوتی الودگی پیدا ہو رہی ہے بلکہ اس سے ڈيزل بھی ضائع ہوتا ہے جسے موٹر گاڑیوں کے لیے استعمال کیا چا سکتا ہے۔ ہندوستان میں ترقی ہونے کے ساتھ بجلی کی مانگ میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔لیکن بجلی کی کمی کے سبب یہ مانگ پوری نہیں ہو پا رہی ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں بجلی گل ہونا آج بھی معمول کی بات ہے۔ |
اسی بارے میں پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ01 June, 2008 | انڈیا بنگلہ دیشیوں کی مصیبت اور پی ایم کے دوست25 May, 2008 | انڈیا عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا اڈوانی کا سیاسی اخلاق، پاکستان پر تشویش23 March, 2008 | انڈیا قرضوں کی معافی، مسلمانوں کے زخم 16 March, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||