BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 June, 2008, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہندو خود کش دستے بننے چاہیئیں‘

بال ٹھاکرے (فائل فوٹو)
بال ٹھاکرے ایک سخت گیر ہندو نواز سیاسی رہنما خیال کیے جاتے ہيں
ہندوستان کے مغربی صوبے مہاراشٹر کی سیاسی جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کو مسلم شدت پسندی سے نمٹنے اور اپنی قوم کی بقاء کے لیے ’ہندو خود کش‘ دستے تیار کرنے چاہیئیں۔

بال ٹھاکرے نے بدھ کو پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ میں تھانے شہر میں ہوئے بم دھماکے اور اس کے سلسلہ میں گرفتار ہندو تنظیم ’جن جاگرتی‘ کے رکن کے بارے میں ایک تفصیلی اداریہ لکھا ہے۔

اپنے اداریہ میں ٹھاکرے نے لکھا ہے کہ انہیں یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ ہندؤں نے بم دھماکے کیے لیکن یہ پڑھ کر شرم بھی محسوس ہوئی کہ وہ دھماکے بہت ہلکی نوعیت کے تھے اس سے محض چند افراد ہی زخمی ہوئے۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان بم دھماکوں کی وجہ سے ہندو زخمی ہوئے جبکہ تنظیم کو یہ بم دھماکے مسلمانوں کے خلاف کرنے چاہیے تھے۔

اداریہ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ملک میں مسلم شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور جیش محمد ، القاعدہ اور حزب المجاہدین جیسی مسلم تنظیموں سے ٹکر لینی ہے تو انہیں بھی اسی طرح کے خود کش دستے تیار کرنے ہوں گے۔’ یہ تنظیمیں محض ہندؤں کو تباہ کرنے کا کام کر رہی ہیں اور دہشت پیدا کر رہی ہیں۔اس لیے ان کا مقابلہ ہندؤں کو دہشت پیدا کر کے ہی دینا پڑے گا‘۔

 ٹھاکرے کی نظر میں جمہوریت ہی نہیں انسان کی بھی کوئی قیمت نہیں ہے۔ وہ صرف تقسیم کرنے اور لوگوں میں نفرت پھیلانے کی سیاست کرنا جانتے ہیں اور برسوں سے یہی کرتے آئے ہیں
سابق جسٹس سریش ہوسبیٹ

بال ٹھاکرے اس سے قبل بھی اس طرح کے بیانات دے چکے ہیں۔ان پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور بیانات دینے کے الزامات کے تحت پولیس کیس بھی درج ہو چکے ہیں۔

سابق جسٹس سریش ہوسبیٹ نے ٹھاکرے کے اس بیان کو محض سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’ٹھاکرے کی نظر میں جمہوریت ہی نہیں انسان کی بھی کوئی قیمت نہیں ہے۔ وہ صرف تقسیم کرنے اور لوگوں میں نفرت پھیلانے کی سیاست کرنا جانتے ہیں اور برسوں سے یہی کرتے آئے ہیں‘۔

ٹھاکرے کے اس بیان کو ہندو کتنی سنجیدگی سے لیں گے اس پر لوک مت سی این این آئی بی این سیون کے مراٹھی ایڈیٹر نکھل واگلے کا کہنا ہے کہ ’ایک ہوش مند ہندو اسے سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ہاں کچھ فیصد شدت پسند ہندو ان کے اس بیان پر تالیاں ضرور بجائیں گے لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا’جس طرح ہر مسلمانوں شدت پسندی کی جانب مائل نہیں اسی طرح ہندؤں میں بھی لوگ شدت پسندی کو صحیح حل نہیں مانتے ہیں‘۔

جے پور تین دن بعد
زندگی بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہی ہے
مالیگاؤں دھماکے
میں زخمی کا نام نہ پوچھ پایا: ایک عینی شاہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد