BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 June, 2008, 10:17 GMT 15:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھانےدھماکہ: ہندو شدت پسندگرفتار

فائل فوٹو
سائیکل پر بم نصب کر کے دھماکہ کرنے کی حکمت عملی مالیگاؤں بم دھماکہ میں سامنے آئی تھی
مہاراشٹر انسداد دہشتگردی عملہ نے تھانے شہر میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزام میں ہندو شدت پسند تنظیم ’ہندو جن جاگروتی سمیتی‘ اور اس کی ذیلی شاخ ’سناتن پربھات‘ کے دو اراکین رمیش ہنومنت گڈکری اور منگیش دینکر نگم کوگرفتار کر لیا ہے۔

عدالت نے انہیں چوبیس جون تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اس سال چھ جون کو تھانے شہر کے گڈکری رنگائین آڈیٹوریم کے کار پارکنگ زون میں سائیکل میں بم نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے سات افراد زخمی ہوئے تھے۔

اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے کے مطابق انہوں نے ملزمان کو اس موٹر سائیکل کے نمبر کے ذریعہ پہچانا جسے لے کر وہ آڈیٹوریم میں آئے تھے۔ حکام کے مطابق وہ موٹر سائیکل’پریم گرو کرپا پرتشٹھان‘ نامی آشرم کے نام پر رجسٹر ہے اور ملزمان بم اسی پر رکھ کر لے گئے تھے۔

کرکرے کے مطابق ان افراد کا تعلق ہندو شدت پسند تنظیم سے ہے جسے آڈیٹوریم میں دکھائے جا رہے ڈرامہ ’ آمہی پاچپوتے‘ پر اعتراض تھا۔

پولیس نے ان ملزمان کے خلاف دھماکہ خیز اشیاء قانون کے تحت کیس درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی اور گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں اور ان لوگوں کو تلاش کیا جا رہا ہے جو اس تنظیم کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔

 یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مالیگاؤں، ناندیڑ اور پربھنی مسجد بم دھماکوں میں اس تنظیم کا ہاتھ ہے یا نہیں تاہم اے ٹی ایس اس زاویے سے بھی تفتیش کرے گی۔
ہیمنت کرکرے

پولیس کے مطابق ان ملزمان کے خلاف ’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘ یعنی مکوکا قانون کا اطلاق نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ کسی منظم دہشت گرد یا کسی ممنوعہ تنظیم کے اراکین نہیں ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان ملزمان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فلم ’جودھا اکبر‘ کی نمائش کے دوران بھی دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بم پھٹ نہیں سکا تھا۔ ملزم منگیش کو اس سے قبل فروری سن دو ہزار چھ میں رتنا گیری کے ایک چرچ کے باہر بم دھماکہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔وہ اس مقدمے میں اس وقت ضمانت پر رہا ہے۔

سائیکل پر بم نصب کر کے دھماکہ کرنے کی حکمت عملی مالیگاؤں بم دھماکہ میں سامنے آئی تھی اور آٹھ ستمبر سن دو ہزار چھ کو مالیگاؤں قبرستان ، مسجد اور مشاورت چوک میں اسی طرز پر چار بم دھماکے ہوئے تھے اور اس کے بعد مہاراشٹر ہی نہیں حیدرآباد اور بنارس میں بھی اسی طرز پر بم دھماکے کیے گئے۔

اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مالیگاؤں، ناندیڑ اور پربھنی مسجد بم دھماکوں میں اس تنظیم کا ہاتھ ہے یا نہیں تاہم اے ٹی ایس اس زاویے سے بھی تفتیش کرے گی۔

جےپوردھماکےجے پور اور کرکٹ
دھماکوں کے درمیان میچ کا سکور بھی جانا تو۔۔۔
جے پور تین دن بعد
زندگی بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہی ہے
مالیگاؤں دھماکے
میں زخمی کا نام نہ پوچھ پایا: ایک عینی شاہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد