BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 May, 2008, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھولنا بہت آسان ہے۔۔

جےپور دھماکے
جےپور دھماکوں میں 63 افراد ہلاک ہوئے تھے
انڈین پریمئر لیگ کا سکور اور ساتھ ساتھ جے پور دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں جاننے کی کوشش میں مسلسل چینل بدلتے بدلتے اچانک میں ٹھنڈا سا پڑ گیا۔

ایک تفریح تھی اور دوسرا ایک حادثہ نیوز ریڈرز ہلاک ہونے والی کی تعداد گنا رہے تھے اور یہ بھی بتا رہے تھے کہ پھر ہندوستان شدت پسندوں کے نشانے پر ہے۔

ساتھ میں ہمیں اس کی بھی خصوصی معلومات دی جا رہی تھی کہ کون سی شدت پسند تنظیمیں ان دھماکوں کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں حالانکہ اس وقت تک ان دھماکوں کی تفتیش بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔

نیوز چینلز پر حادثے سے متاثر افراد کی تصاویر دکھائی جا رہی تھیں۔ ان کا خوف زدہ چہرہ دیکھ کر ہم سبھی اپنے آپ کو مجبور سمجھنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر پا رہے تھے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ماحول کے درمیان نیوز چینلز نے اپنے سکرین سے آئی پی ایل کا سکور نہیں ہٹایا۔ کتنی اچھی بزنس سوچ ہے۔

دوسری جانب آئی پی ایل کے میچ کے دوران جشن جیسا ماحول تھا۔ وکٹ گرنے، چوکے اور چھکے لگنے اور کسی فلمی سٹار کو دکھانے پر شور بھی جاری تھا۔

آئی پی ایل کے چیئرمین للت مودی کو بھی ٹی وی پر پرجوش اور خوش دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ سب دیکھ کر ایسا ہی لگ رہا تھا کہ سٹیڈیم میں بیٹھے ہوئے کسی کو بھی اس بات کی معلومات نہیں کہ جے پور میں اتنا بڑا دھماکہ ہوا ہے۔

ہمت کا مظاہرہ
 ہمیں اس معاملے کو ذرا سمجھداری اور سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ جب لوگ مصیبت جھیل رہے ہیں اور دھماکوں کے بعد اپنی زندگی کو پٹری پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں اس وقت ہم کرکٹ کے روپ میں تفریح مہیا کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، میں نہیں جانتا کہ جے پور کے لوگ اسے کس نظر سے دیکھیں گے۔
وینکٹیش پرساد، کوج بنگلور ٹیم

للت مودی کا تعلق جے پور سے ہے اور اگر انہیں پتہ ہوتا کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے تو شاید وہ بھی ایسے موڈ میں نہ ہوتے۔ ایڈن گارڈن میں جب میچ ختم ہوا تو ایسا لگا کہ کسی دوسرے سیارے کے شہر میں ہیں جو جے پور کے حادثے سے ذرا بھی واقف نہیں ہے۔

للت مودی شاہ رخ حان کے ساتھ سٹیج پر موجود تھے اور وہ کولکاتہ نائٹ رائڈرز اور خاص طور پر شعیب اختر کی کارکردگی سے کافی خوش نظر آ رہے تھے۔

دوسرے دن سبھی نے جے پور دھماکوں پر افسوس ظاہر کیا لیکن ساتھ ہی ان خدشات کو بھی خارج کر دیا کہ جے پور میں ہونے والا میچ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس سے کہیں چھوٹے حادثوں پر بھی اس ملک کا دورہ کرنے والی آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے جے پور دھماکوں پر دکھ تو ظاہر کیا لیکن مقابلے سے ہٹنے کے بارے میں نہیں سوچا۔

واضح طور پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ایک بڑی چیز ہے اور اس قسم کے معاملات میں اپنا موقف ظاہر کرنا بھی اہم ہے لیکن جب آپ نجی طور پر کھیل رہے ہوتے ہیں ایسے حالات میں آپ کی جان کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

ایک سچ یہ بھی ہے کہ ملک کی جانب سے کھیلنے پر جتنا پیسہ آپ کو ملتا ہے یہاں آپ ا س سے کہیں زیادہ پیسہ کما رہے ہیں۔ یہ ایک دکھ کی بات ہے یہ دھماکوں پر افسوس تو سب کو ہے لیکن آئی پی ایل کو پیٹھ دکھانے کا سوال ہی نہیں۔

خاص طور پر ان حالات میں جب اس قسم کے کھیل نے کرکٹ کی دنیا میں ’انقلابی‘ تبدیلی لایا ہو اور اس کے بعد بھی اسی طرح کا کرکٹ ہونا ہے۔

جے پور میں ہونے والے میچ کے دوران کھلاڑیوں کی سلامتی کا سوال تو پیدا ہوا لیکن للت مودی نےاس تشویش کو خارج کر دیا۔

انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ سٹیڈیم میں سلامتی کے انتظامات ایسے ہوں گے کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا۔ ان سوالات اور مبینہ طور پر تشویش کے درمیان آئی پی ایل میں شامل ایک سابق کھلاڑی نے ہمت کی۔

آئی پی ایل میں اس قسم کے منظر دیکھے جا سکتے ہیں

بنگلور رائل چیلنجرز کے کوچ وینکٹیش پرساد نے کہا’ہمیں اس معاملے کو ذرا سمجھداری اور سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ جب لوگ مصیبت جھیل رہے ہیں اور دھماکوں کے بعد اپنی زندگی کو پٹری پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت ہم کرکٹ کے روپ میں تفریح مہیا کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، میں نہيں جانتا کہ جے پور کے لوگ اسے کس نظر سے دیکھیں گے۔‘

وینکٹیش پرساد کا یہ رد عمل آج کے ماحول میں ہو سکتا ہے آپ کو عجیب لگے، کیونکہ جس دنیا ميں ہم جی رہے ہیں، وہاں ہم سبھی ان لوگوں کے جذبات کے بارے میں کہاں سوچتے ہیں، جنہوں نے اپنے لواحقین کو ایسے حادثوں میں کھو دیا ہے۔

ہم تو صرف یہ سوچتے ہیں کہ میچ منسوخ ہو جانے سے کیسے آرگنائزرز کو نقصان ہو گا اور ہم کرکٹ کے اس روزانہ خوراک سے محروم رہ جائیں گے۔

یہ ہمارے لیے بہت آسان اور آرام دہ ہے کہ ہم اپنے ’دماغی گودام‘ یعنی اپنی یاداشت میں آئی پی ایل میچوں کے سکور کو یاد رکھیں اور زندگی کی ڈگر پر آگے بڑھ جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد