آئی پی ایل کے پیسے کا کیا ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین پریمیئر لیگ میں شامل شاہ رخ خان کی کولکاتا نائٹ رائڈرز ٹیم کے لیے موسیقی بالی وڈ کے چار مشہور موسیقاروں نے تیار کی ہے۔ اس سےاس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صرف موسیقی تیار کرنے میں کتنے پیسے خرچ ہوئے ہوں گے۔ صرف اتنا ہی نہیں کولکاتا ٹیم کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ مختلف میچوں میں ’مین آف دی میچ‘ کو سونے کی ٹوپی بطور تحفہ دی جائے گي۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس رفتار سے انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل میں پیسے خرچ کیے جا رہے ہیں تو یہ پیسہ واپس کیسے آئےگا؟ آئی پی ایل کے سی ای اؤ سندر رمن کہتے ہیں ’ہمارے پاس ایک اچھا پروڈکٹ ہے اور بہترین برانڈ بھی، یہ مقابلہ پوری دنیا میں اپنی ساکھ بنانے کی طاقت رکھتا ہے اور اس بات سے انکار نہيں کیا جا سکتا کہ اس سے پیسے بھی کمائے جا سکتے ہیں۔‘ آئی پی ایل سے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو پہلے ہی تقریبا سات کروڑ امریکی ڈالر حاصل ہو چکے ہیں۔ یہ پیسے میچوں کے نشریات سمیت مختلف حقوق کے لیے ملے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ ٹیمیں جو کھلاڑیوں سے لے کر مارکیٹنگ پر پیسے خرچ کر رہی ہے انہیں فائدہ ہوگا؟ کرکٹ کے تجزیہ کار ایاز میمن کا کہنا ہے ’ ٹیموں نے کھلاڑیوں اور مارکٹنگ میں جو پیسے خرچ کیے ہیں وہ ایک دو برس کے لیے نہيں بلکہ دس برس کے لیے ہیں۔ روپے کمانے کے کئی طریقے ہیں۔ اگر میچ اچھے ہوں گے تو کمائی ہوگی۔ لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ضروری نہیں کہ بڑے سٹار کے سبب لوگ میچ دیکھنے آئيں‘۔ آئی پی ایل کی سب سے مہنگی ٹیموں میں سے ایک ممبئی انڈينز کے مینجر آر بالا چندرن کو یقین ہے کہ یہ مقابلہ فائدے کا سودا ہوگا۔ وہ اس مقابلے کو لمبی ریس کا گھوڑا قرار دیتے ہیں۔
ممبئی انڈينز ریلائنس کمپنی کی ٹیم ہے۔ وہیں بنگلور کی ٹیم بھی بزنس مین وجے مالیا کی ہے لیکن شاہ رخ اور پریٹی زنٹا جیسے فلم سٹار کیا سوچتے ہیں؟ شاہ رخ کہتے ہیں ’ اگر میں ایمان داری سے کہوں تو مجھے لگتا ہے کہ ہماری ٹیم ہی ان ٹیموں میں ہوگی جنہیں تھوڑا بہت فائدہ ہوگا، یہ راہ آسان نہیں ہے۔‘ ایک وقت میں مفتلال کی جانب سے کھلینے والے جے وی سمپت اب کوچ بن چکے ہیں۔ جے وی سمپت کہتے ہیں ’ ہمارے پاس نہ تو اتنا پیسا تھا اور نہ ہی چینلوں اور اخبارات کا سیلاب ۔ پہلے کھلاڑیوں کو اس قدر مواقع نہیں ملتے تھے۔ لیکن اب انڈین کرکٹ لیگ ہے اور انڈین پریمیئر لیگ۔ کھلاڑیوں کو اب کہیں نہ کہیں موقع مل جائے گا۔ اب رانجی میچوں میں بھی اچھے پیسے ملنے کی توقع ہے‘۔ لیکن ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی پی ایل اور آئی سی ایل کے بعد کرکٹ شائقین میں ملک کے بجائے ایک ٹیم کی حمایت کرنے کے چلن میں دلچسپی پیدا ہو گی؟ میمن کہتے ہیں ’ بھارت میں لیگ ٹورنامنٹ اور ٹیموں کے تئیں وفاداری کا چلن نہیں رہا ہے۔ حالانکہ کولکاتا میں فٹبال کی موہن باگان اور ایسٹ بنگال کی ایک فین فولوؤنگ ہے تاہم پریمیئر ہاکی لیگ بھی بنی جس میں بیرونی کھلاڑی بھی شامل تھے لیکن وہ بھی نہیں چلی۔‘ میمن کے مطابق ٹیموں کے لیے وفاداری پیدا کرنے کے لیے کم از کم دو سے تین برس لگیں گے۔ |
اسی بارے میں ’بھارتی ہار کی ذمہ دار آئی پی ایل‘ 06 April, 2008 | کھیل آئی پی ایل نے بھی پابندی لگا دی03 April, 2008 | کھیل ’جیسے بکروں کی نیلامی ہو رہی ہو‘27 February, 2008 | کھیل شعیب سوا چار لاکھ ڈالر میں’نیلام‘20 February, 2008 | کھیل لیگ ٹیمیں لاکھوں ڈالر میں نیلام24 January, 2008 | کھیل ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ کا اعلان14 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||