پریمیئر لیگ میں بالی وُڈ کی چمک دمک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیائے کرکٹ میں جمعہ کو انڈین پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب سے تو یہی محسوس ہوا کہ کرکٹ نہیں، بلکہ بالی وُڈ بازی لے گیا۔ جمعہ کی شب بنگلور کے چِنناسوامی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے انڈین پریمیئر لیگ کے افتتاحی میچ میں میزبان بنگلور کو کولکتہ کے ہاتھوں 140 رنز سے شرمناک شکست کا سامنا رہا۔ بڑے بڑے کرکٹرز میدان پر اترے تھے، جیسے راہول ڈراوِڈ اور سوورو گانگولی، آسٹریلیا کے رِکی پونٹِنگ، نئے انڈین باؤلِنگ سنسیشن ایشانت شرما، جنوبی افریقہ کے ژاک کالِس اور ظہیر خان۔ لیکن اس افتتاحی میچ کے دوران بالی وُڈ کے سُپر سٹار شاہ رخ خان کی موجودگی کرکٹ پر حاوی رہی۔ شاہ رخ کولکتہ ٹیم کے مالک بھی ہیں۔ میچ کے دوران شاہ رخ کے چاہنے والے تماشائیوں کی دیوانگی دیکھنے کے قابل تھی۔ جیسے شاہ رخ نے اپنی ٹیم کی ہمت افزائی کی، فقرے کسے، ڈانس کی، وہاں موجود لڑکے اور لڑکیوں نے بھی ان کا کھل کر ساتھ دیا، اپنے ہیرو کی موبائل سے تصویریں بناتے رہے۔ اور جب شاہ رخ نے اپنی ٹیم کی فتح پر شیمپین کی بوتل کھولی تو بھر وہاں کا سماں دیکھنے کے قابل تھا۔ جب ایک ٹیلی ویژن رپورٹر نے وہاں موجود تماشائی سے پوچھا کہ اوپننگ میچ کا ہیرو کون تھا، تماشائی چلا پڑے: ’شاہ رخ خان۔‘
رنگا رنگ تقریب کے سامنے میچ کون دیکھتا، پچپن ہزار سیٹوں والے سٹیڈیم میں سب کی نظریں امریکہ اور ہالینڈ سے لائی گئیں حسیناؤں پر تھیں جنہوں نے تقریب کی فضا ہوش ربا بنادیا۔ اس موقع پر پرکشش لیزر اور لائٹ شو کے دوران ایک وائلن نواز موسیقی کا جادو بکھیرتا رہا۔ اور جب ایسا لگا کہ اب گیم ختم ہوگیا، بالکل اسی وقت کِنگ خان سٹیڈیم کے اپر سٹینڈ میں نمودار ہوائے اور جیسے ایک طوفان آگیا ہو۔ پِچ پر برینڈن میکلم اپنی طوفانی بلے بازی کا جوہر دکھا رہے تھے اور سٹیڈیم میں موجود شائقین کا سمندر شاہ رخ خان کی ایک جھلک دیکھنے کو امنڈ رہا تھا۔ لگتا تھا کہ جیسے کرکٹ کی میچ میں کسی کی دلچسپی نہیں۔ جب میکلم کے چھکے پر ایک گینڈ میدان سے باہر جارہی تھی اسی وقت بالی وُڈ کی موسیقی کی شور کے درمیان ایک لڑکی اپنی ماں کو موبائل فون پر یہ کہ رہا تھا: ’ماما، میں کِنگ خان سے صرف پچاس فِٹ دوری پر ہوں۔‘
گیم کی اپنی ہی چمک دمک تھی، کولکتہ ٹیم کا نشان ’ٹائیگر‘، ٹیم کی ہمت افزائی کرنے والی ٹیم کا لباس پہنے ملبوس حسینائیں، کولکتہ ٹیم کے کھلاڑیوں کے سنہرے رنگ کے چمک دمک والے ہیلمٹ اور پیڈ، اور سرخ رنگ کی یونیفارم میں کرکٹ کے امپائر! شائقین شاید اوپننگ تقریب اور کِنگ خان سے مدہوش ہوکر اس لیے لوٹے کیونکہ انڈین پریمیئر لیگ کا یہ مقابلہ ابھی شروع ہی ہوا ہے اور ٹیموں سے شائقین کی وفاداری ابھی تشکیل نہیں پائی ہے۔ اس مقابلے میں ایک سو سے زائد کھلاڑی چوالیس دنوں کے اندر انسٹھ میچ کھیلیں گے، اور کرکٹرز جن کی نیلامی ہوئی ہو۔ کچھ کرکٹ شائقین کو اپنے چہروں پر ’وی لو انڈیا‘ پینٹ کرواتے ہوئے دیکھا گیا، چند ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے بنگلور اور کولکتہ ٹیموں کی جرسی پہنی ہو۔ ٹیم سے وفاداری کی نشو و نما میں ابھی وقت لگے گا۔ تو کیا انڈین پریمیئر لیگ کامیاب رہے گی؟ کرکٹ کے ایک شائق نور احمد نے افتتاحی میچ پر اپنا ردعمل کچھ یوں دیا: ’یہ تین گھنٹے کی بالی وُڈ فلم کی طرح ہے جو آپ لوگ سنیما میں دیکھنے جاتے ہیں۔ رقص، موسیقی اور تفریح۔ ساتھ میں کچھ کرکٹ بھی ہے۔‘ ’اور یہ اسی لیے کامیاب بھی رہے گا۔ ہم انڈین یہی پسند کرتے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں پی سی بی کے خلاف مقدمے کی تیاری 16 February, 2008 | کھیل پاکستانیوں کی ٹیم ’لاہور بادشاہ‘29 February, 2008 | کھیل آئی سی ایل، باغی سیریز بدھ سے09 April, 2008 | کھیل لیگ ٹیمیں لاکھوں ڈالر میں نیلام24 January, 2008 | کھیل شعیب سوا چار لاکھ ڈالر میں’نیلام‘20 February, 2008 | کھیل مصباح پچاس لاکھ روپے میں بکے 11 March, 2008 | کھیل آئی پی ایل: کولکتہ کی شاندار جیت18 April, 2008 | کھیل سب سے مہنگا ٹورنامنٹ شروع18 April, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||