’جیسے بکروں کی نیلامی ہو رہی ہو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کرکٹ سے وابستہ سنجیدہ حلقوں نے بھارت میں منعقدہ انڈین پریمیئر لیگ میں کرکٹرز کی نیلامی اور خریداری جیسے الفاظ کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں کھلاڑیوں کی نیلامی ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ فلاں کھلاڑی کو فلاں ٹیم نے اتنے لاکھ ڈالر میں خریدا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے بکرا مارکیٹ میں بکروں کی نیلامی ہو رہی ہو۔ اس تقریب میں گو کہ پاکستان سے صرف فاسٹ بالر شعیب اختر نے شرکت کی اور باقی پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی ان کی غیر موجودگی میں لگائی گئی تاہم سابق چئرمین توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں جن کرکٹرز کی بھی خرید و فروخت ہوئی وہ دنیا کے ٹاپ کے کھلاڑی تھے۔ انہوں نے بولی لگانے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی ایل والوں نے جو طریقہ اپنایا ہے وہ درست نہیں۔ توقیر ضیاء نہیں سمجھتے کہ اس طرح اتنے نامور کھلاڑیوں کو سٹیج پر بلا کر ان کی بولی لگانا درست طریقہ تھا۔ انہوں نے کہا میں ذاتی طور پر خود نہیں چاہوں گا کہ میرے بارے میں یہ کہا جائے کہ مجھے اتنے لاکھ ڈالر میں خرید لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیسے کی خاطر کیا کیا ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا عمل خاموشی سے بھی کیا جا سکتا۔ سابق چئرمین کے مطابق متعلقہ بورڈ بھی اس کے لیے کوئی بہتر طریقہ کار وضع کر سکتے تھے۔ پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ جا وید میاں داد نے بھی کرکٹرز کے لیے نیلامی اور خریدنے جیسے الفاظ پر کڑی تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ نیلامی تو کسی چیز کی ہوتی ہے لیکن زندہ انسانوں کی نیلامی تو شرمناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ تو آرٹ ہے اور کرکٹ کے کھلاڑی قوم کے ہیرو ہوتے ہیں، ان کا ایک مقام اور عزت ہوتی ہے اور ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا ان کی توہین کے مترادف ہے۔ پاکستان کی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان انضمام الحق جنہوں نے آئی پی ایل کے بجائے متنازعہ لیگ آئی سی ایل میں کھیلنے کو ترجیح دی کہتے ہیں کہ الفاظ تو درست نہیں تھے لیکن اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ کار نہیں جب کھلاڑیوں کے ایک پول میں سے ٹیموں نے کھلاڑی لینے ہیں تو اسی طریقہ کار سے لیں گے اور اس سے کھلاڑیوں کو معاشی فائدہ ہو گا۔ پاکستان ٹیم کے نائب کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کرکٹ کا کھیل بہت کمرشل ہو چکا ہے اور جب براہ راست کسی پیشے میں پیسہ آ جائے تو ایسی باتیں ہو سکتی ہیں جس کا کوئی حل نہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد کسی کو بھی ایسے الفاظ پر اعتراض نہیں ہو گا۔ پاکستان کے ایک اور فاسٹ بالر محمد آصف کےمطابق ان الفاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے اس معاملے پر حسبِ معمول کچھ بھی کہنے سے انکار کیا۔ |
اسی بارے میں شعیب اختر کلکتہ کے لیے کھیلیں گے22 February, 2008 | کھیل بھارتی کھلاڑی لاکھوں میں نیلام 20 February, 2008 | کھیل محمد یوسف نیلامی سے باہر20 February, 2008 | کھیل سمیع، رانا نوید بھی آئی سی ایل میں14 February, 2008 | کھیل ’فیصلہ خلاف ہوا تو اپیل کریں گے‘30 January, 2008 | کھیل یوسف کے خلاف حکم امتناعی برقرار25 January, 2008 | کھیل ’یوسف کیخلاف کارروائی کرینگے‘20 October, 2007 | کھیل شعیب انڈین پریمئیر لیگ میں14 October, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||