BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 February, 2008, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی کھلاڑی لاکھوں میں نیلام

اس نیلامی میں ستتر کھلاڑی شامل تھے
ڈی ایل ایف انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ذریعے انڈیا سمیت دنیا کی سات ٹیموں کے ستتر کھلاڑیوں کی ممبئی میں بدھ کی صبح سے ہو رہی نیلامی مکمل ہو گئی۔ اس نیلامی نے حیرت انگیز طور پر ایسے کھلاڑیوں کو دولت مند کر دیا جن کے بارے میں وہم وگمان تک نہیں تھا۔

آئی پی ایل کی اس نیلامی میں انڈیا کے مہندر سنگھ دھونی نے میدان مار لی۔ انہیں چینئی نے پندرہ لاکھ ڈالر یعنی تقریباً چھ کروڑ روپوں میں خریدا ہے۔ دھونی کو یہ سوچ کر سکون ملا ہو گا کہ اگر انہیں ’آئیکون‘ کھلاڑی کے زمرے میں نہیں رکھا گیا تو یہ ان کے حق میں بہتر ہی تھا۔ تقریباً چھ کروڑ روپے انہیں ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کے ہر سال دیے جائیں گے۔انہیں اپنی فرینچائز کمپنی کے ساتھ تین سال کا معاہدہ کرنا ہو گا۔

آئی پی ایل نے ہر کھلاڑی کی قیمت طے کی تھی اور کمپنیوں کو اتنی یا اس سے زیادہ لگانی تھی۔ منوج تیواری کی قیمت ایک لاکھ ڈالر رکھی گئی تھی لیکن انہیں دہلی نے چھ لاکھ پچھہتر ہزار ڈالر میں خریدا۔ ایشانت شرما کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالر طے تھی لیکن انہیں نو لاکھ پچاس ہزار ڈالر دے کر شاہ رخ کی کولکتہ ٹیم نے خرید لیا۔آر پی سنگھ کو آٹھ لاکھ پچھتر ہزار ڈالر میں حیدرآباد کی ٹیم نے خرید لیا جبکہ ان کی قیمت آئی پی ایل نے دو لاکھ ڈالر طے کی تھی۔

عرفان پٹھان کی قیمت دو لاکھ ڈالر رکھی گئی تھی لیکن پریتی زنٹا کی موہالی ٹیم نے انہیں نو لاکھ پچیس ہزار ڈالر میں خریدا۔انڈیا کے کھلاڑیوں کو زیادہ قیمتیں ملی ہیں اس پر آئی پی ایل چیئرمین اور کمشنر للت مودی کا کہنا تھا کہ انہیں خوشگوار حیرت ہوئی ہے لیکن یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ انڈین ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔البتہ انہوں نے اس کا اعتراف کیا کہ انہیں اتنی رقمیں کمیٹی (بی سی سی آئی سلیکشن کمیٹی ) کی طرف سے نہیں مل سکتی تھی۔

آئی پی ایل انتظامی کاؤنسل کے ممبر آئی ایس بندرا کے مطابق کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کمیٹی کے بجائے بازار کھلاڑیوں کی قیمت طے کر رہا ہے۔ا س سے علاقائی کرکٹ کھیل کو ایک نئی پہچان ملنے کی توقع ہے۔

عمر گل کی بھی بولی لگی

آئی پی ایل ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں کا افتتاح بنگلور میں ہو گا۔اٹھارہ اپریل سے یہ میچ شروع ہوں گے۔اس سے فرینچائز کمپنیوں کو بادی النظر میں مالی طور پر کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا اس سوال کے جواب میں کولکتہ ٹیم کے فرینچائیز شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے انہیں بہت لگاؤ ہے اس لیے مالی فائدہ یا نقصان کی بات کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

پاکستان کے شعیب اختر جنہیں شاہ رخ کی ٹیم نے سوا چار لاکھ ڈالر میں اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے ان کے پاکستان کے ہی گیند باز عمر گل کو بھی شاہ رخ کی ٹیم میں جگہ ملی ہے انہیں ڈیڑھ لاکھ ڈالر دے کر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وکٹ کیپر اور بلے باز کامران اکمل کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر میں جے پور کی ٹیم نے خریدا جبکہ آل راؤنڈر شعیب ملک کی قیمت دہلی ٹیم نے پانچ لاکھ ڈالر لگا کر انہیں اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو حیدرآباد ٹیم نے چھ لاکھ پچھتر ہزار ڈالر میں، یونس خان کو جے پور ٹیم نے دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر اور محمد آصف کو دہلی ٹیم نے چھ لاکھ پچاس ہزار ڈالر میں خرید لیا۔

کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کرکٹ کھلاڑیوں کی اس طرح فرینچائز کمپنیوں نے نیلامی کی ہے۔اس نیلامی کے لیے خصوصی طور پر لندن سے رچرڈ میڈلے کو بلایا گیا تھا۔فرینچائز نے آئی پی ایل کے ساتھ دس سال کا معاہدہ کیا ہے لیکن کھلاڑیوں کی یہ نیلامی تین سال کی مدت کے لیے ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد