انگلینڈ، نیوزی لینڈ سنسنی خیز مقابلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپئر میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک روزہ سیریز کا چوتھا میچ ’ٹائی‘ ہوگیا ہے۔ نیوزی لینڈ کو آخری گیند پر میچ اور سیریز جیتنے کے لیے دو رنز چاہیے تھے لیکن کپتان ڈینیل ویٹوری صرف ایک رن بنا سکے۔ انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو فتح کے لیے تین سو اکتالیس رنز کا بڑا ہدف فراہم کیا تھا لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم جیمی ہاؤ کے ایک سو انتالیس رنز کی بدولت انگلینڈ کا سکور برابر کرنے میں تو کامیاب رہی تاہم میچ جیت نہ سکی۔ اس میچ کے ’ٹائی‘ ہونے کا مطلب ہے کہ انگلینڈ اب بھی ہفتے کو کرائسٹ چرچ میں ہونے والا آخری ایک روزہ میچ جیت کر سیریز برابر کر سکتا ہے۔ انگلینڈ نے مقررہ پچاس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر تین سو چالیس رنز بنائے جس میں کپتان پال کولنگ ووڈ کی چوبیس رنز پر پچاس رنز بھی شامل تھے۔ انگلینڈ کی جانب سے ایلسٹر کُک اور فِل مسٹرڈ نے نصف سنچریاں بنائیں۔ اس کے بعد این بیل اور کیون پیٹرسن نے انگلش اننگز کو مستحکم کیا۔ بیل تینتالیس اور پیٹرسن پچاس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم کپتان پال کالنگ ووڈ کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت انگلش ٹیم ایک بڑا سکور بنانے میں کامیاب رہی۔ قریباً سات رنز فی اوور کی درکار اوسط کے ساتھ نیوزی لینڈ نے بلے بازی شروع کی تو اوپنرز نے سکور بنا کسی نقصان کے سّتر تک پہنچا دیا۔ اس موقع پر رائڈر تین چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے انتالیس رن بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے جیمی ہاؤ نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سو سولہ گیندوں پر ایک سو انتالیس رن کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے دس چوکے اور تین چھکے لگائے اور میچ کے آخری اوور میں رن آؤٹ ہوئے۔ ہاؤ کے علاوہ برینڈن میکلم اٹھاون اور راس ٹیلر اڑتالیس رن بنا کر نمایاں رہے۔ | اسی بارے میں آکلینڈ: انگلینڈ چھ وکٹوں سے فاتح15 February, 2008 | کھیل انگلینڈ جیت کے لیے 235 کا ہدف15 February, 2008 | کھیل نیوزی لینڈ چھ وکٹ سے جیت گیا09 February, 2008 | کھیل سٹائرس کا ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع 03 February, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||