شعیب اختر کلکتہ کے لیے کھیلیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں قیام پذیر پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ وہ کلکتہ ٹیم کے لیے اپنے انتخاب سے خوش ہیں اور وہ اس کے لیے بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ’راولپنڈی ایکسپریس‘ کے نام سے دنیا میں مشہور تیز گیند باز شعیب اختر کو شاہ رخ کی ٹیم نے انڈین پریمیئر لیگ ( آئی پی ایل) کی نیلامی میں سوا چار لاکھ ڈالر میں خریدا ہے۔ اس نیلامی سے پہلے شعیب کو شاہ رخ نے اپنے گھر مدعو کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ رخ نے نیلامی سے پہلے اختر سے مشورہ کرنے کے لیے انہیں بلایا تھا لیکن اختر نے آج اس بات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلامی سے قبل وہ شاہ رخ سے محض دوستی کے ناطے ملاقات کرنے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’شاہ رخ خان میرے دوست ہیں اور مجھے تو کلکتہ ٹیم میں شامل کیے جانے کی اطلاع خان نے بدھ کی دوپہر فون پر دی جس کے بعد میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
اختر نے دعویٰ کیا کہ ان کی کلکتہ ٹیم ایک بہت ہی متوازی ٹیم ہے جس میں سورو گنگولی، جنہیں دادا کہہ کر پکارا جاتا ہے، بھی شامل ہیں۔ ’میں شروع سے دادا کا پرستار رہا ہوں۔ اس کے علاوہ رکی پونٹنگ، عمر گل، اجیت اگرکر بھی ہماری ٹیم میں ہیں۔‘ بولرز کو آئی پی ایل کے تحت بہت رقم ملی ہے۔ اس کے جواب میں اختر کا کہنا تھا کہ وہ اس تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایشانت شرما کے بارے میں کہا کہ وہ ابھی بہت جوان ہے۔ ابھی اس کا کریئر شروع ہوا ہے۔ جب تک اکیس بائیس سال کے ہوں گے، وہ اس سے بھی تیز گیند بازی کر سکیں گے۔ اختر نے کہا کہ وہ گیند بازی کے لیے ایشانت کو کچھ مشورے دیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ تیز گیند بازی کس طرح کی جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے بارے میں انہوں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں انڈیا شروع سے بہت پسند ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہاں لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا ہے۔ یہاں کے لوگ پیار کرنا اور پیار دینا جانتے ہیں۔ مجھے بمبئی سے بہت پیار ہے اور میں جب بھی یہاں آتا ہوں حاجی علی اور ماہم میں مخدوم ماہمی کی درگاہ پر ضرور جاتا ہوں۔‘ | اسی بارے میں شعیب سوا چار لاکھ ڈالر میں’نیلام‘20 February, 2008 | کھیل بھارتی کھلاڑی لاکھوں میں نیلام 20 February, 2008 | کھیل پی سی بی کے خلاف مقدمے کی تیاری 16 February, 2008 | کھیل سمیع، رانا نوید بھی آئی سی ایل میں14 February, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||