’بھارتی ہار کی ذمہ دار آئی پی ایل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی میڈیا کے بعض حلقوں نے گزشتہ روز احمد آباد ٹیسٹ میں ہندوستانی ٹیم کی شکست کے لیے انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلد ہی شروع ہونے والے آئی پی ایل نے کھیلاڑیوں کا دھیان کھیل سے بانٹ دیا ہے۔ ہندوستان کی کرکٹ ٹیم احمد آباد میں جنوبی افریقہ سے ایک اننگز اور نوے رنز سے ہار گی تھی۔ انیس سو انسٹھ کے بعد اپنے ہی میدان پر ہندوستان کی یہ سب سے بڑی شکست ہے۔ دِلّی سے شائع ہونے والے ایک موقرانگریزی روز نامہ ’دے ہندوستان ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ’بظاہر ایسا معلوم پڑتا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کاخیال نہیں رکھ پا رہا ہے کہ کھلاڑی فی الوقت ٹیسٹ سریز پر دھیان دیں نہ کہ آئی پی ایل پر۔‘ آئی پی ایل ٹونٹی ٹونٹی لیگ جنوبی افریقہ اور انڈیا کے درمیان جاری ٹیسٹ سریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کےخاتمے کے تین روز بعد اٹھارہ اپریل سے شروع ہورہی ہے۔ تیسرا ٹیسٹ میچ گیارہ اپریل سے کانپور میں کھیلا جائے گا۔ سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر کرن مورے کا دعویٰ ہےکہ احمدآباد ٹیسٹ کے دوران کھلاڑی تھکے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ’ کتنے کھلاڑی میچ ہارنے سے پہلے نیٹ پریکٹیس کے لیے آئے۔ کھلاڑی آئی پی ایل کے کئی تقریبات میں شریک ہونے کے سبب پہلے ہی سے کافی تھکے ہوئے تھے۔‘ اخبار مزید دعویٰ کرتا ہےکہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے میچ سے قبل تیاریوں کے لیے مناسب توجہ نہيں دی۔ اخبار کہتا ہے کہ پہلے چنئی ٹسیٹ میں کھلاڑی تھکے ہوئے تھے اور میچ کے ڈرا ہونے کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کو آرام کی ضرورت تھی تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہوسکتے۔ ’کھلاڑیوں کی آئی پی ایل کے ساتھ مصروفیات کے سبب دوسرے ٹیسٹ کے لیے بھی پریکٹس کا کم وقت تھا۔‘ اخبار نے کہا کہ اس کے برعکس جنوبی افریقہ کے ان بعض کھلاڑیوں نے جو آئی پی ایل میں کھیلنے جارہے ہیں آئی پی ایل کی تشہیر کے لیے شوٹنگ سے انکار کر دیا۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم کے لیے ٹیسٹ سیریز زيادہ اہمیت رکھتی تھی۔ انگریزی روزنامہ ’دی ٹائمز آف آنڈیا ‘ کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل نے ٹیموں کو لاکھوں ڈالر میں اور ان میچوں کو نشر کرنے کے لیے ٹی وی کے حقوق کروڑوں ڈالر میں خریدے ہیں لیکن یہ پیشگوئی کرنا مشکل معلوم پڑتا ہے کہ آئی پی ایل کے لیے یہ سب فائدہ مند ثابت ہوگا یا نہیں۔ آی پی ایل کے میچ چوالیس روز تک ہرشام کھیلے جائیں گے۔ اخبار سوال کرتا ہے کہ آیا اس قسم کے میچوں میں کرکٹ کے مداحوں کی دلچسپی اتنے لمبے وقت تک باقی رہ پائے گی؟ |
اسی بارے میں پہلا ٹیسٹ ڈرا، سہواگ مردِ میدان30 March, 2008 | کھیل سہواگ کی تیز ترین ٹرپل سنچری28 March, 2008 | کھیل چنئی: راہل ڈراوڈ کے دس ہزار رنز29 March, 2008 | کھیل سہواگ، ٹرپل سنچری اور ریکارڈز30 March, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||