BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جےپور حملے: زیادہ افراد ملوث ہیں

جاری کیے گئے خاکے
پولیس کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں میں چار سے زیادہ افراد ملوث ہوسکتے ہیں
ہندوستان کی مغربی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے مزید خاکے جاری کیے جا سکتے ہیں۔

پولیس دھماکوں کے عینی شاہدین اور سائیکل بیچنے والوں کے بیان پر مبنی چار خاکے پہلے ہی جاری کر چکی ہے۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے اور زیادہ افراد کے ملوث ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔

اسی درمیان جمعہ کے روز پرانے جے پور شہر میں کرفیو ہٹانےکا فیصلہ کیا گیا لیکن انتظامیہ نے دفعہ 144 لگائی ہوئی ہے۔

جے پور میں منگل کو ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں میں تریسٹھ افراد کی ہلاکت اور ڈیرھ سو سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد حکام نے متاثرہ علاقے میں بدھ کو کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی تفتیش میں ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہے۔

جے پور دھماکوں کے بعد پولیس ابھی تک چار خاکے جاری کر چکی ہے۔ پولیس نے ایک سکیچ بدھ کو اور تین جمعرات کو جاری کیے تھے۔

جے پور کی پولیس کے سینئر اہلکار پنکج سنگھ کا کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے لیے سائیکلوں کا استعمال کیا گیا تھا اور جس دکان سے سائکلیں خریدی گئیں تھیں اس کے مالک نے جو حلیہ بتایا ہے اسی بنیاد پر مشتبہ اشخاص کے خاکے تیار کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی گئی تفتیش سے لگتا ہے دھماکوں میں چار سے زیادہ افراد ملوث رہے ہوں گے اور پولیس ديگر ملوث افراد کا حلیہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔

منگل کے روز ہونے والے دھماکوں کے بعد ریاستی حکومت نے مرکزی کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ شدت پسندی سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ریاست میں پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی تفتیش کا کام تیزی سے ہو رہا ہے۔

جےپور بھارتی ریاست راجستھان کا اہم سیاحتی مقام ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاست راجستھان میں بم دھماکوں کا واقعہ پیش آیا ہو، اس سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں دو دھماکے ہوئے تھے جس میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔

پریسپریس کے اشارے
حرکت الجہاد اور لشکر طیبہ پر شک
ملنروٹی کے رنگ
نیپال سے انڈيا ملازمت کی تلاش میں آیا اور۔۔۔
غصہ مسلمانوں پر
جے پور دھماکوں کے بعد کشیدگی
سبحانہ خانسبحانہ کی کہانی
جے پور دھماکوں میں اماں، خالائیں ہلاک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد