BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 April, 2008, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب کہیں بھی نہیں کھیل سکتے

شعیب اختر
’شعیب اختر نے ٹیم سپرٹ کا بھی کبھی خیال نہیں کیا‘
فاسٹ بالر شعیب اختر کی سزا کے خلاف اپیل سننے والے ایپلیٹ ٹریبیونل نے آج کی سماعت کے بعد ایک عبوری حکم جاری کیا ہے جس کے تحت شعیب اختر کو بھارت میں جاری انڈین پریمیر لیگ کھیلنے کی آزادی ہے جبکہ پابندی کے خلاف اپیل کی سماعت جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اپیلٹ ٹریبیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ نے اجلاس کے بعد کہا کہ شعیب اختر کے وکیل عابد حسن منٹو نے پابندی کے فیصلے کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ حتمی فیصلے کے آنے میں ابھی کچھ تاخیر ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ نے کہا کہ ہم نے ہر طرح سے معاملے کا جائزہ لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات سزا اس لیے دی جاتی ہے کہ غلطی کرنے والا دوبارہ غلطی کا ارتکاب نہ کرے لیکن شعیب کے ریکارڈ سے محسوس ہوتا ہے کہ شعیب اختر نے سبق نہیں سیکھا اور وہ نظم وضبط کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ کے مطابق شعیب اختر بادی النظر میں چئرمین کرکٹ بورڈ کرکٹ بورڈ، ساتھی کرکٹرز اور قوم کو تکلیف پہنچائی ہےاور شعیب اختر نے ٹیم سپرٹ کا بھی کبھی خیال نہیں کیا۔

ایپلیٹ ٹریبیونل کے سربراہ کا کہنا کہ ہم نے دو باتوں کو مد نظر رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے، ایک تو شعیب اختر نے غیر مشروط معافی مانگی ہے اور پھر بدھ شعیب اختر نے آج کے اجلاس میں خود اس معافی کا اعادہ کیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ نے کہا کہ دوسری بات جسے مد نظر رکھا گیا وہ ڈسپلنری کمیٹی کا فیصلہ ہے جس میں شعیب اختر نے پر پاکستان میں اور پاکستان سے باہر پاکستان کے لیے کھیلنے پر پابندی عائد کی ہے اور اس میں یہ نہیں لکھا کہ شعیب اختر پاکستان سے باہر کسی اور کے لیے نہیں کھیل سکتے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین نے بھی اس کو واضح کر دیا ہے لہذا اپیلٹ ٹریبونل نے غور و فکر کے بعد ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کو مکمل فیصلہ آنے تک برقرار رکھا ہے لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ اس فیصلے کے تحت شعیب اختر کسی بیرونی ٹورنامنٹ جیسے آئی پی ایل کے لیے کھیل سکتے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ آفتاب احمد سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ فیصلہ صرف شعیب اختر کو آئی پی ایل میں کھلانے کے لیے کسی دباؤ کے سبب کیا گیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ کا کہنا تھا کہ ان پر کسی کا دباؤ نہیں تھا اور چونکہ کرکٹ کا ایک تماشا ہو رہا ہے اور شعیب اختر اس سے محروم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو ایسے نقصان سے کہ جس کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں بچانے کے لیے قانون میں گنجائش موجود ہے اور اپیلٹ ٹریبیونل نے از خود اس بات کا نوٹس لیا کہ اپیل کا فیصلہ اگر بعد میں شیعب اختر کے حق میں ہوتا ہے

آئی پی ایل کے لیے کھیل سکتے ہیں
 اپیلٹ ٹریبونل نے غور و فکر کے بعد ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کو مکمل فیصلہ آنے تک برقرار رکھا ہے لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ اس فیصلے کے تحت شعیب اختر کسی بیرونی ٹورنامنٹ جیسے آئی پی ایل کے لیے کھیل سکتے ہیں۔
تفضل حسین
تو اسے آئی پی ایل نہ کھیلنے کا جو نقصان ہو گا وہ کیسے پورا ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ اصل اپیل کی سماعت کو جون تک ملتوی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں اب آئی پی ایل والوں کی اپنی مرضی ہے کہ وہ شعیب اختر کو کھلائیں یا نہ کھلائیں۔

شعیب اختر کے وکیل عابد منٹو کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی اپیل میں لکھا تھا کہ جن قوانین اور قوائد کے مطابق پابندی لگائی ہے وہ قانونی نہیں ہیں اور یہ کہ ڈسپلنری کمیٹی نے جو طریقہ اختیار کیا وہ دنیا کے کسی اصول اور خود پی سی بی کے اصولوں کے مطابق نہیں لیکن یہ سب معاملہ اب ملتوی کر دیا گیا ہے۔

عابد حسن منٹو نے کہا کہ شعیب اخترکا آئی پی ایل کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد آئی پی ایل نے اصولی فیصلہ کیا تھا کہ شعیب اختر اس میں بھی نہیں کھیل سکتے۔

اپلیٹ ٹریبیونل کے آج کے فیصلے کے بعد آئی پی ایل کی انتظامیہ سے آج رابطہ کیا جائے گا کہ کیا وہ اب مطمئن ہیں اور اگر پھر بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے اور اگر آئی پی ایل کی انتظامیہ نے شعیب اختر کو نہیں کھلایا تو ہم سماعت کو فورا کروانے کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے میں بہت فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور چئرمین کرکٹ بورڈ نے کئی بار کہا ہے کہ باہر جا کر کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں کیونکہ یہ شعیب اختر کی روزی روٹی کا معاملہ ہے اور اسی لیے اس معاملے کی وضاحت کی گئی ہے اور چونکہ اپیل معطل نہیں کی گئی تو اس سے کرکٹ بورڈ کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔

آئی پی ایل کیلیے نہیں کھیل سکتے
 آئی پی ایل نے واضح پالیسی اپنا رکھی ہے کہ کوئی بھی ایسا کھلاڑی جو اپنے ملک کی طرف سے کھیلنے کا اہل نہیں ہے اسے انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کا اجازت نہیں دی جاسکتی
آئی ایس بندرا

دریں اثنا کراچی سے بی بی سی نامہ نگار عبدالرشید شکور نے ایک کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر شعیب اختر کو آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دینے سے ایک بار پھر انکار کردیا ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سابق صدر اور آئی پی ایل کے کونسل ممبر آئی ایس بندرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا کھلاڑی جو اپنے ملک کے لیے نہیں کھیل سکتا اسے آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے۔

آئی ایس بندرا نے کہا کہ آئی پی ایل نے واضح پالیسی اپنا رکھی ہے کہ کوئی بھی ایسا کھلاڑی جو اپنے ملک کی طرف سے کھیلنے کا اہل نہیں ہے اسے انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کا اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس سوال پر کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی سے رابطہ کر کے شعیب اختر کو آئی پی ایل کھلانے کی بات کرتا ہے تو کیا آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرینگے؟ آئی ایس بندرا نے کہا کہ شعیب اختر کو نہ کھلانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر پانچ سالہ پابندی عائد کی تھی تو اس وقت بھی اس نے کہا تھا کہ شعیب اختر دنیا میں کہیں بھی جاکر کرکٹ کھیل سکتے ہیں لیکن پاکستان میں اور پاکستان کے لیے نہیں کھیل سکتے جس کے بعد آئی پی ایل نے پہلے انہیں کھلانے پر کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا لیکن فوراً بعد ہی اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ شعیب اختر آئی پی ایل نہیں کھیل سکتے اور اب اس نے ایک بار پھر اپنے اسی موقف کو دہرایا ہے۔

شعیب اختر نے اداکار شاہ رخ خان کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔

شعیب اختر کی امید
پہلی سماعت کے بعد شعیب اختر کی امید
’جج کی یقین دہانی‘
شعیب کو صفائی کا پورا موقع ملے گا: جسٹس فرخ
شعیب اخترشعیب کی پیشی
’بچہ خراب ہو تو گھر سے نہیں نکالتے‘
شعیب شعیب کا لہجہ دھیما
’بورڈ قوانین اور چئرمین کا احترام کرتا ہوں‘
شعیب اختر ’غیر قانونی قدم‘
شعیب اختر کی سزا عدالت ختم کرسکتی ہے
شعیب’وِلن ہی سمجھا گیا‘
شعیب پر پابندی کے فیصلے پر سخت ردعمل
کنٹریکٹ نہیں ملا
بورڈ شعیب اختر کو نیا کنٹریکٹ نہیں دے گا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد