’بورڈ نے شعیب کو ولن ہی سمجھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب اختر پر پانچ سالہ پابندی کے فیصلے پر پاکستان بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے انتہائی سخت فیصلہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے افسران بالا کا احتساب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر شعیب اختر پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے پانچ سال کی پابندی عائد کی ہے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ شعیب اختر کی موجودگی پاکستانی کرکٹ ٹیم اور پاکستان کے نام ہر ایک کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی تھی۔ اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ’بورڈ کے موجودہ عہدیداروں نے شعیب اختر کو ہمیشہ ولن ہی سمجھا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ شعیب اختر کا مکمل دفاع نہیں کر رہے کیونکہ اس سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں لیکن انہیں موجودہ بورڈ میں ایسا کوئی شخص بھی نظر نہیں آیا جو شعیب اختر کے معاملے کو سمجھداری سے نمٹا سکا ہو۔
انہوں نے کہا کہ’شعیب اختر خبروں میں رہنے والا تیز بولر ہے اسے اسی کے انداز میں نمٹنے کی ضرورت تھی لیکن یہ سزا انہیں بہت سخت معلوم ہوتی ہے۔ وہ شعیب کو مشورہ دیں گے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں ویسے ہی سٹار کرکٹرز کی کمی ہے شعیب اختر کے نہ ہونے سے پاکستانی کرکٹ بے کیف ہوجائے گی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کے خیال میں شعیب اختر کا معاملہ ایک چنگاری کی طرح ہے جو خوفناک آگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ’جب بچہ روتا ہے تو اسے مارا پیٹا نہیں جاتا بلکہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے اور شعیب بھی ایک ایسا ہی بچہ ہے‘۔ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پاکستانی کرکٹ پر خطرناک اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ شعیب اختر اس فیصلے کے بعد آئی سی ایل میں شمولیت اختیار کر لیں اور’نہ صرف وہ اکیلا جائے گا بلکہ کچھ اور کرکٹرز کو بھی ساتھ لے جا سکتا ہے‘۔ راشد لطیف نے توقع ظاہر کی کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی آئی تو اس صورت میں شعیب اختر کی واپسی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ’بڑے بڑے جرم کرنے والے بڑی بڑی سزاؤں سے بچ گئے اور انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا، یہ تو صرف ایک بیان دینے کا معاملہ تھا جس پر اتنی سخت سزا سمجھ سے باہر ہے‘۔
سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز بھی راشد لطیف کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ڈاکٹر نسیم اشرف پہلے بھی شعیب اختر کے بارے میں سخت بیانات دے چکے ہیں۔ ان کے دوسرے ساتھی بھی اسی طرح کے بیانات دیتے آئے ہیں۔ ڈوپنگ والے معاملے میں بھی متضاد بیانات دے کر صورتحال کو پیچیدہ بنادیا گیا تھا اور اب بھی یہی صورتحال ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’شعیب اختر ایک میچ ونر ہے جس کے بغیر ٹیم زیادہ عرصے رہ نہیں سکتی اور جب ٹیم ہارے گی تو بورڈ کے پاس انہیں واپس لانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا‘۔ شعیب اختر پر پابندی کے اس فیصلے کی بازگشت صرف کرکٹ ہی کے حلقوں میں نہیں سنی گئی ہے بلکہ سیاست کے ایوانوں میں بھی اس کا تذکرہ زور شور سے ہوا ہے۔ راولپنڈی سے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے حالیہ کئی بیانات سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ وہ شعیب اختر کے خلاف ذاتی عناد رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ شعیب اختر کو ٹیم سے باہر کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اٹھائیں گے کہ کیا شعیب اختر کا معاملہ اس قدر سنگین تھا کہ ان پر پانچ سال کی پابندی جیسا سخت قدم اٹھایا جائے۔ حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور جلد ہی کرکٹ بورڈ میں تبدیلی لائی جائے گی۔ | اسی بارے میں شعیب، کنیریا کی منگل کو پیشی 31 March, 2008 | کھیل شعیب،آصف باہر، بازید کی واپسی30 March, 2008 | کھیل ’فیصلے کا اختیار ڈسپلنری کمیٹی کو‘22 March, 2008 | کھیل کسی وضاحت کا پابند نہیں: شعیب13 February, 2008 | کھیل شعیب، کنیریا سے وضاحت طلب11 February, 2008 | کھیل کرکٹ نہیں چھوڑ رہا: شعیب اختر13 January, 2008 | کھیل ’میں سمجھا مذاق میں بلا اٹھایا ہے‘09 September, 2007 | کھیل ’جھگڑا آفریدی سے ہوا تھا‘08 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||