کرکٹ نہیں چھوڑ رہا: شعیب اختر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تیز گیند باز شعیب اختر نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ وہ ہندوستانی فلموں میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں اور کرکٹ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ شعیب اختر کے مطابق وہ جب تک اچھا کھیل رہے ہیں، کرکٹ سے الگ نہیں ہوں گے۔ ’میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں اور فلموں میں ذرا سی دلچسپی دکھانے کا مطلب یہ نہیں کہ میں کھیلنا چھوڑ رہا ہوں‘۔ ہندوستان کےدورے سے لوٹنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں شعیب اختر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کا دورہ ختم ہونے کے بعد وہ مزید دو ہفتے ہندوستان میں رکے کیونکہ انہیں ’انڈیا چیرٹی‘ نام کےایک خیراتی ادارے کے لیے فنڈز جمع کرنے تھے۔ شعیب نے پہلے ٹیسٹ میچ میں چھ وکٹ لیے۔ وائرل انفیکشن ہوجانے کے باوجود بھی وہ دوسرے میچ میں کھیلے لیکن صرف دو وکٹ لے پائے۔ اس دوران میدان سے باہر ان کی سرگرمیوں پر تنقید کی گئی۔ آخری ٹیسٹ میں اختر کی کمر میں چوٹ لگ گئی اور وہ صرف ایک وکٹ لے پائے۔
لیکن وہ یہ نہیں ماتنے کہ انہوں نے اپنی طرف سے کوئی کسر باقی رکھی۔ ’میں نے ایک روزہ سیریز میں جان لگا دی لیکن ہم خراب بیٹنگ کی وجہ سے ہار گئے۔ پہلا ٹیسٹ بھی ہم خراب بیٹنگ کی وجہ سے ہارے۔ ’میں ہمیشہ اپنے ملک کے لیے کھیلتا ہوں، لیکن پھر بھی لوگ میری صدق دلی پر شبہ کرتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ دوسرے کھلاڑیوں کے مقابلے میں مجھے چوٹ زیادہ لگتی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ میں پوری شدت سے تیز گیندبازی کرتا ہوں‘۔ پاکستان کے کوچ جیف لاسن نے شعیب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ فٹ تھے، انہوں نے بہت محنت کی۔ اگر وہ فٹ ہوئے تو ہم چاہیں گے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیےانہیں ٹیم میں شامل کیا جائے۔ پاکستان آئندہ ہفتے سے زمبابوے کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلے گا۔ آسٹریلیا کے خلاف تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز مارچ اپریل میں ہوگی۔ | اسی بارے میں شعیب کو تین لاکھ روپے جرمانہ08 August, 2007 | کھیل ’جھگڑا آفریدی سے ہوا تھا‘08 September, 2007 | کھیل شعیب کے خلاف سماعت مکمل 06 October, 2007 | کھیل دورۂ بھارت: کرکٹ کے علاوہ سب کچھ07 December, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||