شعیب کے خلاف سماعت مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اختر کے خلاف الزامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے سماعت مکمل کر لی ہے جبکہ اس پر فیصلہ چند روز تک سنایا جائے گا۔ ڈسپلنری کمیٹی کے سربراہ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے سماعت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ شعیب اختر نے ڈسپلنری کمیٹی کو درخواست کی تھی کہ وہ اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہونا چاہتے ہیں اور کمیٹی نے روایت کے برعکس ان کی اس درخواست کو تسلیم کیا اور شعیب اختر اپنے وکیل بلال منٹو کے ساتھ پیش ہوئے۔ شفقت نغمی کے مطابق شعیب اختر کے خلاف جنوبی افریقہ میں محمد آصف کو بیٹ مارنے کے علاوہ اور بھی الزامات ہیں جن میں جنوبی افریقہ سے واپسی پر بغیر اجازت پریس کانفرنس کرنا، انگلینڈ میں بغیر اجازت میچ کھیلنا اور پی سی بی کی قائم کردہ ڈوپنگ کمیٹی پر تنقید کرنا شامل ہیں۔ شفقت نغمی کے مطابق شعیب اختر کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی اس خلاف ورزی سے کرکٹ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ شفقت نغمی کا کہنا تھا کہ ان الزامات کا الگ الگ جائزہ لیا گیا اور ان سے متعلقہ لوگوں کے بیان ریکارڈ کیے گئے۔
جو افراد ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے گواہی دینے آئے ان میں منیجر طلعت علی، محمد آصف اور شاہد آفریدی شامل ہیں۔ ان گواہوں سے شعیب اختر کے وکیل نے بھی جراح کی اور باقی الزامات کے بارے میں ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ شفقت نغمی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم کی شکست کے بعد شعیب اختر کے بارے میں نرم رویہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصلہ ضمیر کے مطابق اور واقعات کو دیکھ کر کریں گے تا کہ نہ تو کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ کسی کو خاص رعایت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو تین لاکھ جرمانے کی سزا جو معطل کر دی گئی تھی وہ نئی خلاف ورزی کے سبب دوبارہ لاگو ہو سکتی ہے۔ شفقت نغمی نے بتایا کہ عید سے پہلے ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ شاہد آفریدی نے کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ شعیب اختر نے پریس کانفرنس میں ان پر جو الزامات لگائے تھے انہوں نے رمضان کے تقدس میں ان کو معاف کر دیا ہے اور ان کا دل صاف ہے۔
جنوبی افریقہ میں ہونے والے واقعے کو میڈیا تک پہنچانے کے لیے شعیب اختر نے شاہد آفریدی کا نام لیا تھا۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور وہ واقعہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہی کسی بندے نے میڈیا تک پہنچایا ہوگا۔ شاہد آفریدی کے اس بیان پر شفقت نغمی کا کہنا تھا کہ وہ آفریدی سے اس سلسلے میں پوچھ گچھ کریں گے۔ | اسی بارے میں شعیب کو سخت سزا نہ دیں: وقار04 October, 2007 | کھیل آصف کی پٹائی پر شعیب کی چھٹی 07 September, 2007 | کھیل شعیب کو تین لاکھ روپے جرمانہ08 August, 2007 | کھیل ڈوپ ٹیسٹ: شعیب، آصف کلیئر04 August, 2007 | کھیل جارحانہ سوچ اچھی بات ہے: شعیب23 August, 2007 | کھیل شعیب اختر کے خلاف سزا معطل21 August, 2007 | کھیل جرمانے کے خلاف شعیب کی اپیل13 August, 2007 | کھیل ٹیم کا بھی فائدہ، میرا بھی: آصف14 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||