شعیب کو سخت سزا نہ دیں: وقار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وقار یونس کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کے معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو سخت رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ شعیب اختر کے ماضی کے تنازعات کو موجودہ معاملے سے ملا کر اسے ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے سخت سزا دینے کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیئے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ سے اس معاملے سے نمٹے۔ واضح رہے کہ شعیب اختر ساتھی بولر محمد آصف کو بیٹ مارکر زخمی کرنے کے معاملے پر چھ اکتوبر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ وقار یونس نے کہا کہ ڈریسنگ روم کے اندر کھلاڑیوں کے جھگڑے اور اختلافات پاکستانی کرکٹ کا حصہ ہیں۔ ان کے زمانے میں آج سے زیادہ کچھ ہوتا تھا۔ وہ خود بھی اپنے کریئر میں ایسے کئی جھگڑوں اور اختلافات میں ملوث رہے ہیں۔ ان کے زمانے میں وسیم اکرم، عامرسہیل، اعجاز احمد، باسط علی اور راشد لطیف جیسے کھلاڑی تھے جن کے جھگڑے ہوتے رہے لیکن یہ اتنی بڑی بات نہیں ہوتی تھی۔ وقار یونس نے کہا کہ شعیب اختر کے معاملے کو جلدبازی کے بجائے تحمل سے نمٹانے کی ضرورت ہے۔ سابق کپتان نے کہا کہ بادی النظر میں شعیب اختر سزا کا مستحق ہے لیکن موجودہ صورتحال میں درگزر کرنی ہوگی اور اسے سمجھانا پڑے گا۔ وقاریونس نے کہا کہ پاکستان کو شعیب اختر کی ضرورت ہے جس کا اندازہ کراچی ٹیسٹ میں ہوگیا ہے۔ اس کے نہ ہونے سے مجبوراً سپن وکٹ بنانی پڑی کیونکہ پاکستان کے پاس شعیب جیسا دوسرا بڑا بولر نہیں ہے۔ وقاریونس سمجھتے ہیں کہ شعیب اختر کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوگیا ہے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی سختی کے بجائے نرم رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ | اسی بارے میں ’میں سمجھا مذاق میں بلا اٹھایا ہے‘09 September, 2007 | کھیل ’شعیب کا قصور قابلِ معافی نہیں‘08 September, 2007 | کھیل ’جھگڑا آفریدی سے ہوا تھا‘08 September, 2007 | کھیل آصف کی پٹائی پر شعیب کی چھٹی 07 September, 2007 | کھیل کرکٹرز کا جھگڑا، آصف زخمی06 September, 2007 | کھیل شعیب اختر کے خلاف سزا معطل21 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||