BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 00:29 GMT 05:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اختر کے خلاف سزا معطل

شعیب اختر
’مینجر طلعت علی نے مجھے سنے بغیر ہی فیصلہ دے دیا تھا۔‘
شعیب اختر کو ڈسپلنری کمیٹی سے ملنے والی سزا کو اپیل کمیٹی نے معطل کر دیا ہے۔ انہیں تین لاکھ روپے جرمانہ اور ایک ڈسپلنری پوائنٹ کی کٹوتی کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان ن کرکٹ بورڈ کے اپیل ٹربیونل کے سربراہ معین افضل نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ شعیب اختر کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے پر اپیل منظور کرتے ہوئے اپیل کمیٹی نے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

اپیل کمیٹی نے مینجر طلعت علی کی جانب سے عائد کردہ ایک لاکھ روپے اور آدھے ڈسپلنری پوائنٹ کی کٹوتی کے فیصلے کو معطل کر معاملہ فیصلے کے لیے دوبارہ ان کو بھجوا دیا ہے۔

معین افضل کے مطابق شعیب اختر کا کہنا تھا کہ مینجر طلعت علی نے انہیں سنے بغیر ہی فیصلہ دے دیا تھا۔

معین افضل نے کہا کہ شعیب اختر کو جو نوٹس پہلے بھجوایا گیا تھا وہ اس پتے پر تھا جو کہ ان کے سنٹرل کانٹریکٹ پر درج نہیں اور اب انہیں صحیح پتے پر نوٹس بھجوایا جائے اور مینجر طلعت علی ان کے مؤقف کو سن کر فیصلہ دیں۔

معین افضل کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے پہلے انہوں نے ٹیم مینجر طلعت علی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی، اور شعیب اختر کے بیان ریکارڈ کیے جبکہ پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک سے فون پر ان کا مؤقف سنا۔

شعیب اختر کو جرمانے کی سزا کراچی میں پاکستان کی ٹیم کے کیمپ کو بتائے بغیر چھوڑ کر جانے پر عائد کی گی تھی جبکہ شعیب اختر کا مؤقف تھا کہ وہ بتا کر گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد