شعیب اختر کے خلاف سزا معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب اختر کو ڈسپلنری کمیٹی سے ملنے والی سزا کو اپیل کمیٹی نے معطل کر دیا ہے۔ انہیں تین لاکھ روپے جرمانہ اور ایک ڈسپلنری پوائنٹ کی کٹوتی کی سزا سنائی گئی تھی۔ پاکستان ن کرکٹ بورڈ کے اپیل ٹربیونل کے سربراہ معین افضل نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ شعیب اختر کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے پر اپیل منظور کرتے ہوئے اپیل کمیٹی نے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ اپیل کمیٹی نے مینجر طلعت علی کی جانب سے عائد کردہ ایک لاکھ روپے اور آدھے ڈسپلنری پوائنٹ کی کٹوتی کے فیصلے کو معطل کر معاملہ فیصلے کے لیے دوبارہ ان کو بھجوا دیا ہے۔ معین افضل کے مطابق شعیب اختر کا کہنا تھا کہ مینجر طلعت علی نے انہیں سنے بغیر ہی فیصلہ دے دیا تھا۔ معین افضل نے کہا کہ شعیب اختر کو جو نوٹس پہلے بھجوایا گیا تھا وہ اس پتے پر تھا جو کہ ان کے سنٹرل کانٹریکٹ پر درج نہیں اور اب انہیں صحیح پتے پر نوٹس بھجوایا جائے اور مینجر طلعت علی ان کے مؤقف کو سن کر فیصلہ دیں۔ معین افضل کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے پہلے انہوں نے ٹیم مینجر طلعت علی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی، اور شعیب اختر کے بیان ریکارڈ کیے جبکہ پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک سے فون پر ان کا مؤقف سنا۔ شعیب اختر کو جرمانے کی سزا کراچی میں پاکستان کی ٹیم کے کیمپ کو بتائے بغیر چھوڑ کر جانے پر عائد کی گی تھی جبکہ شعیب اختر کا مؤقف تھا کہ وہ بتا کر گئے تھے۔ | اسی بارے میں شعیب اخترکی اپیل پر کمیٹی قائم 15 August, 2007 | کھیل جرمانے کے خلاف شعیب کی اپیل13 August, 2007 | کھیل شعیب کو تین لاکھ روپے جرمانہ08 August, 2007 | کھیل ڈوپ ٹیسٹ: شعیب، آصف کلیئر04 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||