’شعیب کا قصور قابلِ معافی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاءکا کہنا ہے کہ شعیب اختر کا قصور قابل معافی نہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی بہت ضروری ہے۔ سابق سربراہ کے مطابق محمد آصف ٹیم کے جونیئر کھلاڑی ہیں اور بحثیت ایک سینیئر کھلاڑی شعیب اختر کی یہ حرکت انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب کی اس حرکت کے سبب اتنے بڑے ایونٹ سے پہلے نہ صرف ملک کی جگ ہنسائی ہوئی ہے بلکہ اس سے ٹیم کا حوصلہ پست ہونے کا امکان ہے۔ توقیر ضیاء کے مطابق شعیب اختر نے محمد آصف کو بیٹ مار کر ڈسپلن کی جو خلاف ورزی کی اس سے ٹیم تو ان سے محروم ہوئی ساتھ ہی انہوں نے محمد آصف سے بھی ٹیم کو محروم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ محمدآصف کی چوٹ کی نوعیت کے بارے میں تو نہیں جانتے لیکن اگر اس وجہ سے وہ ایک یا دو میچ نہ کھیل سکے تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی۔ لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے کہا کہ ان کے خیال میں ’شعیب اختر نے یہ ڈرامہ انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے کے لیے رچایا ہے تاکہ ان پر پابندی لگے اور وہ اس کی آڑ میں انڈین لیگ میں جائیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انہیں وہاں سے اچھی پیشکش ہوئی ہو‘۔ پی سی بی کے سابق سربراہ نے کہا کہ شعیب نے ان کے دور میں ڈسپلن کی ایسی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب ضرورت ہوتی تھی وہ شعیب کے ساتھ سختی بھی کرتے تھے اور جب نرمی کی ضرورت ہوتی تو انہیں پیار سے بھی سمجھایا جاتا تھا | اسی بارے میں ’مزید کمزوری نہیں دکھانی چاہیے‘07 September, 2007 | کھیل آصف کی پٹائی پر شعیب کی چھٹی 07 September, 2007 | کھیل کرکٹرز کا جھگڑا، آصف زخمی06 September, 2007 | کھیل ’وقت ملا تو انڈین لیگ کھیلوں گا‘31 August, 2007 | کھیل ڈوپ ٹیسٹ: شعیب، آصف کلیئر04 August, 2007 | کھیل شعیب کو تین لاکھ روپے جرمانہ08 August, 2007 | کھیل شعیب اختر کے خلاف سزا معطل21 August, 2007 | کھیل جرمانے کے خلاف شعیب کی اپیل13 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||