BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 18:09 GMT 23:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وقت ملا تو انڈین لیگ کھیلوں گا‘

شعیب اختر جنوبی افریقہ کے دورے پر چلے گئے
شعیب اختر ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لئے بے چین ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ فٹ رہ کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کریں لیکن بعض اہم معاملات مثلاً انڈین لیگ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ افسران سے تعلقات کے ضمن میں وہ ایک خاص اور قدرے سخت رائے رکھتے ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے کسی طور بھی پسندیدہ نہیں کہی جاسکتی۔

پاکستانی ٹیم کی جنوبی افریقہ روانگی سے قبل بی بی سی کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں شعیب اختر نے انڈین لیگ اور ڈسپلن میں گھری اپنی ذات کے بارے میں کھل کر بات کی۔

شعیب اختر سے جب میں نے انڈین لیگ کی پیشکش قبول نہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے انکار نہیں کیا ہے، ان کی اولین ترجیح پاکستان کی طرف سے کھیلنا ہے وہ آج جو کچھ بھی ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں لیکن اگر ان کے پاس وقت ہوا تو وہ انڈین لیگ ضرور کھیلیں گے اور اس سلسلے میں وہ انڈین لیگ سے یہ شق لکھوائیں گے کہ اگر ملک کو ضرورت ہوئی تو آپ ملک سے کھیل سکتے ہیں۔

انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت
 اخلاقی طور پاکستان کرکٹ بورڈ کسی کھلاڑی پر کیسے پابندی عائد کر سکتا ہے، ایسی کوئی شق، ایسا کوئی ضابطہ، ایسا کوئی ایکٹ موجود نہیں۔ اس وقت تو پاکستان کرکٹ بورڈ کا اپنا آئین بھی نہیں ہے۔
شعیب اختر
اس سوال پر کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انڈین لیگ کھیلنے والے کرکٹرز پر اپنے دروازے بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے، کیا آپ اس کے لئے تیار ہونگے؟ شعیب اختر نے کہا کہ اخلاقی طور پاکستان کرکٹ بورڈ کسی کھلاڑی پر کیسے پابندی عائد کر سکتا ہے، ایسی کوئی شق، ایسا کوئی ضابطہ، ایسا کوئی ایکٹ موجود نہیں۔ اس وقت تو پاکستان کرکٹ بورڈ کا اپنا آئین بھی نہیں ہے۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ کوئی تنازعہ کھڑا نہیں کر رہے ہیں، صرف منطقی بات کر رہے ہیں کہ اگر کرکٹر اپنے ملک کی طرف سے کھیل رہا ہے تو پھر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے کہ اسے پیسہ کمانے سے روکا جائے۔ ایک کرکٹر کے پیچھے اس کی فیملی ہے، اسے ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔ انہوں نے اپنے وکیل سے بھی مشورہ کیا ہے اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں کہ کسی پر پابندی عائد کی جائے۔

شعیب اختر نے کہا کہ یہ سب کو پتہ ہے کہ اس وقت عدلیہ کتنی مضبوط ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو بہت آگے تک لے جائے گا۔

شعیب اختر سے میرا اگلا سوال ڈسپلن کے معاملات میں ہر وقت گھری ان کی ذات کے بارے میں تھا کہ آخر تنازعات کیوں سائے کی طرح ان کے تعاقب میں لگے رہتے ہیں؟ شعیب اختر نے کہا کہ ان کا نام بِکتا ہے لیکن بعض اوقات میڈیا میں انہیں منفی انداز میں پیش کیاگیا ہے اور یہ بھی ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے بھی ان کے نام کے ساتھ اپنا نام منسلک کر کے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

یوسف کو منانے کی ضرورت
 محمد یوسف کی مثال سب کے سامنے ہے جو انڈین لیگ میں چلا گیا ہے، وہ ورلڈ کلاس بیٹسمین ہے لیکن اس کا معاملہ صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا۔اس سے بات کر کے اسے واپس لانے کی ضرورت ہے۔
شعیب اختر
شعیب اختر نے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے کچھ افسران اپنے ساتھ مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ انہیں میدان میں ہی مصروف رہنے دیں تو اچھا ہے، وہ اپنی اتھارٹی نہ دکھائیں کہ وہ کتنے طاقتور ہیں، وہ کپتان کو بتاکر کیمپ سے گئے تھے لیکن خواہ مخواہ قصہ کھڑا کردیا۔ پہلے جرمانہ کردیا پھر معاف کردیا، جب معاف ہی کرنا تھا تو جرمانہ کیوں کیا؟

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ اب تک چھ کرکٹ بورڈ تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی بقا اسی وقت ہے جب تک پاکستانی ٹیم جیتے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹیم بھی ہارے اور بورڈ بھی بچا رہے۔ آج موبائل فون کمپنی کے کنٹریکٹ کھلاڑیوں کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمد یوسف کی مثال سب کے سامنے ہے جو انڈین لیگ میں چلا گیا ہے، وہ ورلڈ کلاس بیٹسمین ہے لیکن اس کا معاملہ صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا۔اس سے بات کر کے اسے واپس لانے کی ضرورت ہے۔

شعیب اختر نے کہا کہ اس وقت ٹیم میں ان کے علاوہ صرف یونس اور یوسف ہی میچ ونر ہیں لیکن اگر سینئر کرکٹرز کو ہی اعتماد نہیں دیا گیا تو بے یقینی رہے گی اور لازمی طور پر اس سے ٹیم کی کارکردگی بھی متاثر ہوگی۔

شعیب اخترشعیب اختر کا انکار
شعیب نےانڈیا لیگ کی پیشکش ٹھکرادی
انڈین کرکٹ لیگ
منتظمین اور بورڈ کے درمیان تنازعہ جاری ہے
 محمد یوسف کی انڈین لیگ میں شمولیت سب سے اہم سجھی جارہی ہے حقیقت پسندی۔۔۔؟
انڈین لیگ میں پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت
انڈین لیگ’بےجا خدشات‘
انڈین لیگ سے کرکٹ کو خطرہ نہیں: آصف اقبال
کپل دیو ملا جلا ردِعمل
انڈین کرکٹ لیگ بی سی سی آئی کو ہلا دیا ہے
امل دوستنانڈیا لیگ کرکٹ
انڈیا لیگ: پاکستانی شائقین کا ردِ عمل
انڈین کرکٹ لیگکھلاڑی خبردار
سری لنکن کرکٹ بورڈ کی کھلاڑیوں کو سخت تنبیہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد