BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 August, 2007, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین لیگ: حقیقت پسندی کا لمحہ

محمد یوسف کی انڈین لیگ میں شمولیت سب سے اہم سجھی جارہی ہے
محمد یوسف کی انڈین لیگ میں شمولیت سب سے اہم سجھی جارہی ہے
بلی بالآخر تھیلے سے باہر آگئی۔ انڈین کرکٹ لیگ کے کرتا دھرتاؤں نے کافی عرصے سے جاری آنکھ مچولی ختم کر کے ان کھلاڑیوں کی چہرہ نمائی کردی ہے جن کے ذریعے وہ اپنی کرکٹ سجانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

منظرعام پر آنے والے ان کرکٹرز میں سب سے نمایاں نام پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف کا ہے۔ دیگر قابل ذکر کھلاڑیوں میں انضمام الحق عبدالرزاق اور عمران فرحت شامل ہیں۔ یہ وہ کرکٹرز ہیں جن کی بین الاقوامی کرکٹ ابھی باقی ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ اور ایک بھارتی ٹی وی چینل کے درمیان نشریاتی حقوق کے معاملے پر پیدا ہونے والے شدید اختلافات کے نتیجے میں جنم لینے والی اس انڈین لیگ کو اس دور کی کیری پیکر سیریز کا نام بھی دیا جارہا ہے۔

ستر کے عشرے میں ٹی وی نشریاتی حقوق نہ ملنے پر چینل نائن کے مالک کیری پیکر نے دنیا بھر کے مشہور کرکٹرز کی خدمات پرکشش معاوضوں پرحاصل کر کے دنیائے کرکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا تاہم کیری پیکر کی اس کرکٹ میں اس دور کے تقریباً تمام ہی صف اول کے کرکٹرز شامل تھے جبکہ فی الحال انڈین کرکٹ لیگ میں چند ہی بڑے نام نظر آتے ہیں۔

کرکٹ کا مستقبل؟
 کیری پیکر کی کرکٹ کو نہ ماننے والوں نے مسخرہ پن اور سرکس کا نام دیا تھا، بعد میں اسی سرکس سے کئی چیزیں دنیائے کرکٹ میں منتقل ہوئیں جن میں رنگین پیرہن اور نائٹ کرکٹ قابل ذکر ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ کہ اس سیریز نے اس کھیل کو پروفیشنلزم کے معنی دیے، کرکٹرز کو دی جانے والی فیس اور مراعات میں اضافہ ہوا اور کرکٹ ایک نئے انداز سے سامنے آئی۔
کیری پیکر کی کرکٹ کو نہ ماننے والوں نے مسخرہ پن اور سرکس کا نام دیا تھا، بعد میں اسی سرکس سے کئی چیزیں دنیائے کرکٹ میں منتقل ہوئیں جن میں رنگین پیرہن اور نائٹ کرکٹ قابل ذکر ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ کہ اس سیریز نے اس کھیل کو پروفیشنلزم کے معنی دیے، کرکٹرز کو دی جانے والی فیس اور مراعات میں اضافہ ہوا اور کرکٹ ایک نئے انداز سے سامنے آئی۔

انڈین کرکٹ لیگ کیا رنگ دکھائے گی اس بارے میں کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن فی الحال وہ کرکٹرز کو دی جانے والی پرکشش پیشکشوں کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

کیری پیکر سیریز کی ابتدا میں بھی کرکٹرز معاہدے کرتے وقت تذبذب کا شکار تھے کیونکہ ان کےکرکٹ بورڈز کے لئے پیکر کرکٹ قابل قبول نہیں تھی اور انڈین لیگ میں بھی یہی صورتحال رہی ہے۔ انڈین لیگ کھیلنے والوں پر اپنے ملک میں زمین تنگ کرنے کا پروانہ ان کے کرکٹ بورڈ کی طرف سے آچکا ہے جیسا کہ پیکر سیریز کھیلنے والے ملک دشمن اور پیسوں کے پجاری قرار پائے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ جو بھی انڈین لیگ کھیلےگا اس پر پاکستان کی طرف سے کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کردی جائے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ انڈین لیگ سے انہیں کوئی خطرہ نہیں اور اسے خواہ مخواہ اہمیت دی جارہی ہے۔

انڈین کرکٹ لیگ کی زد میں سب سے زیادہ پاکستانی کرکٹرز آئے ہیں۔ انضمام الحق عبدالرزاق عمران فرحت اور سب سے بڑھ کر محمد یوسف جوگزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کرکٹر تھے۔

آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ پاکستانی کرکٹرز انڈین لیگ کھیلنے پر مجبور ہوئے ہیں؟ کچھ حلقوں کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ جن کرکٹرز کے کریئر ختم ہو رہے تھے وہ بھارت جارہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ جن کرکٹرز کے کریئر ختم کیے جارہے ہیں انہوں نے مجبوراً انڈین لیگ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وجوہات کیاں ہیں؟
 آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ پاکستانی کرکٹرز انڈین لیگ کھیلنے پر مجبور ہوئے ہیں؟ کچھ حلقوں کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ جن کرکٹرز کے کریئر ختم ہو رہے تھے وہ بھارت جارہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ جن کرکٹرز کے کریئر ختم کیے جارہے ہیں انہوں نے مجبوراً انڈین لیگ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی کرکٹرز کے انڈین لیگ کھیلنے پر ان کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے کی بات کرنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف محمد یوسف کے بارے میں مختلف رائے کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں محمد یوسف کے انڈین لیگ کھیلنے کے فیصلے پر تشویش ہےاور وہ انہیں انڈین لیگ کھیلنے سے روکنے کی ذاتی طور پر کوشش کرینگے کیونکہ وہ پاکستانی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور سینیئر کرکٹرز کے درمیان سرد تعلقات کی خبریں ذرائع ابلاغ میں کافی دنوں سے آرہی تھیں جن میں شعیب اختر سب سے نمایاں ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو میں یہاں تک کہا کہ اگر ان پر عائد جرمانے کی سزا ختم نہیں کی گئی تو وہ انڈین لیگ میں کھیلنے کے بارے میں غور کرینگے۔

شعیب اختر کا یہ موقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بحیثیت ادارہ ڈسپلن کے نفاذ اور اپنی اتھارٹی منوانے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے کھلاڑی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شعیب اختر کے پاس انڈین لیگ کی آفر نہ ہوتی تو کیا وہ اس طرح کی سخت زبان استعمال کرسکتے تھے؟

غیرجانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو حقیقت پسندی سے انڈین لیگ کے معاملے کو دیکھنا ہوگا، محض کرکٹرز پر پابندی کی پالیسی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد